کفار محاربین سے دوستانہ تعلق ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان…

کفار محاربین سے دوستانہ تعلق ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے مفسدوں سے اقتصادی و معاشرتی مقاطعہ ک


صفحہ 4 از 6

بہرحال یہ تو رسول اللّٰہﷺ کے ارشادات مبارکہ ہیں عہد نبوت کے بعد عہد خلافتِ راشدہ میں بھی اسی طرز عمل کا ثبوت ملتا ہے مانعین زکوٰۃ کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ کا اعلان جہاد کرنا بخآری و مسلم میں موجود ہے مسیلمہ کذاب اسود عنسی طلیحہ اسدی اور ان کے پیروؤں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس سے حدیث و سیر کا معمولی طالبِ علم بھی واقف ہے۔

عہد فاروقیؓ میں ایک شخص: صبیغ عراقی: قرآن کریم کی آیات کے ایسے معانی بیان کرنے لگا جن میں ہوائے نفس کو دخل تھا اور ان سے مسلمانوں کے عقائد میں تشکیک کا راستہ کھلتا تھا یہ شخص فوج میں تھا جب عراق سے مصر گیا اور سیدنا عمرو بن عاصؓ گورنر مصر کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے سیدنا عمرؓ کے پاس مدینہ بھیجا اور صورت حال لکھی سیدنا عمرؓ نے نہ اس کا مؤقف سنا نہ دلائل، سے بحث و مباحثہ میں وقت ضائع کئے بغیر اس کا علاج بالجرید ضروری سمجھا فوراً کھجور کی تازہ ترین شاخیں منگوائی اور اپنے ہاتھ سے اس کے سر پر بےتحاشا مارنے لگے اتنا مارا کہ خون بہنے لگا وہ چیخ اٹھا کہ امیر المومنین آپ مجھے قتل ہی کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کیجئے تلوار لے کر میرا قصہ پاک کر دیجیۓ اور اگر صرف میرے دماغ کا خناس نکالنا مقصود ہے تو آپ کو اطمینان دِلاتا ہوں کہ اب وہ بھوت نکل چکا ہے۔ اس پر سیدنا عمرؓ نے اسے چھوڑ دیا اور چند دن مدینہ رکھ کر واپس عراق بھیج دیا اور سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کو لکھا کہ کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے۔

اس مقاطعہ سے اس شخص پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نےسیدنا عمرؓ کو لکھا کہ اس کی حالت ٹھیک ہو گئی ہے تب سیدنا عمرؓ نے لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دی۔ 

اب فقہ کی چند تصریحات ملاحظہ فرمائیں:

(1) علامہ دردیر مالکیؒ شرح کبیر جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 299 پر باغیوں کے احکام میں لکھتے ہیں کہ ان کا کھانا پانی بند کر دیا جائے الا یہ کہ ان میں عورتیں اور بچے ہوں۔ 

(2) کوئی قاتل اگر حرم مکہ میں پناہ گزیں ہو جائے اس سلسلہ میں ابوبکر جصاص رحمہ اللہ احکام القرآن جلد نمبر2 صفحہ نمبر 21 پر لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام ابویوسف رحمہ اللہ امام زفر رحمہ اللہ اور حسن بن زیاد رحمہ اللہ کاقول ہے کہ جب کوئی حرم سے باہر قتل کرکے حرم میں داخل ہو تو جب تک حرم میں ہے اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا مگر نہ اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی جائے نہ اس کو کھانا دیاجائے یہاں تک کہ وہ حرم سے نکلنے پر مجبور ہو جائے

(3) درمختار جلد نمبر:4:صفحہ:نمبر:64 پر ہےناصحی نے فتویٰ دیا ہے کہ ہر موذی کا قتل واجب ہے اور شرح وہبانیہ میں ہے کہ تعزیر، یوں بھی ہو سکتی ہے کہ شہر بدر بھی کردیا جائے اور ان کے مکان کا گھیراؤ کیا جائے انہیں مکان سے نکال باہر کیا جائے اور مکان ڈھا دیا جائے۔

(4) ابنِ عابدین الشامی ردالمختار:جلد نمبر، 4 صفحہ نمبر، 65 پر لکھتے ہیں کہ احکام السیاستہ میں المنتقی سے نقل کیا ہے کہ جب کسی کے گھر سے گانے بجانے کی آواز سنائی دے تو اس میں داخل ہو جاؤ کیونکہ جب اس نے یہ آواز سنائی تو اپنے گھر کی حرمت کو خود ساقط کردیا ہے اور بزازیہ کی کتاب الحدود نہایہ کے باب الغضب اور درایہ کے کتاب الجنایات میں لکھا ہے کہ صدرالشہید نے ہمارے اصحاب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص فسق و بدکاری اور مختلف قسم کے فساد کا عادی ہو ایسے شخص پر اس کا مکان گرا دیا جائے حتیٰ کہ مفسدوں کے گھر میں گھس جانے میں بھی مضائقہ نہیں۔

سیدنا عمرؓ ایک نوحہ گر عورت کے گھر میں گھس گئے اور اس کو ایسا دُرہ مارا کہ اس کے سر سے چادر اتر گئی اور اپنے طرز عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حرام میں مشغول ہونے کے بعد اس کی کوئی حرمت نہیں رہی اور یہ لونڈیوں کی صف میں شامل ہو گئی۔ سیدنا عمرؓ سے یہ بھی مروی ہےکہ آپ نے ایک شرابی کے مکان کو آگ لگا دی تھی صفات زاہدی کہتے ہیں کہ فاسق کا مکان گرا دینے کا حکم ہے۔

(5) ملا علی قاریؒ مرقات شرح مشکوٰۃ جلد نمبر، 5 صفحہ نمبر، 107 پر باب التعزیر میں لکھتے ہیں اور یہ کہ اس امر کی تصریح ہے کہ مارنا ایسی تعزیر ہے جس کا انسان اختیار رکھتا ہے خواہ محتسب نہ ہو المنتقی میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس قسم کے مقاطعہ کا تعلق درحقیقت بغض فی اللّٰہ سے ہے جس کو حضرت محمدﷺ نے احب الاعمال الحب فی اللّٰہ فرمایا ہے۔

(سنن ابی داؤد: جلد، 2 صفحہ، 76)

بغض فی اللّٰہ کے ذیل میں امام غزالیؒ احیاء العلوم جلد نمبر:2 صفحہ نمبر:268,169 پر بطور کلیہ لکھتے ہیں۔

(اول) کافر، پس کافر اگر حربی ہو تو اس بات کا مستحق ہے کہ قتل کیا جائے یا غلام بنا لیا جائے اور یہ ذلت و اہانت کی آخری حد ہے۔

(دوم) صاحبِ بدعت جو اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہے پس اگر بدعت حد کفر تک پہنچی ہوئی ہو تو اس کی حالت کافر ذمی سے بھی سخت تر ہے کیونکہ نہ اس سے جزیہ لیا جا سکتا ہے نہ اس کو ذمی کی حیثیت دی جا سکتی ہے اور اگر بدعت ایسی نہیں جس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دیا جائے تو عند اللّٰہ تو اس کا معاملہ کافر سے لا محالہ اُخف (ہلکا) ہے مگر کافر کی بنسبت اس پر نکیر زیادہ کی جائے گی کیونکہ کافر کا شر متعدی نہیں اس لئے کہ مسلمان کافر کو ٹھیٹ کافر سمجھتے ہیں، لہٰذا اس کے قول کو لائقِ التفات ہی نہیں سمجھیں گے الخ۔

ردالمختار جلد نمبر، 4 صفحہ نمبر، 244 پر قرامطہ کے بارے میں لکھا ہے کہ مزاہب اربعہ سے منقول ہے کہ انہیں اسلامی ممالک میں ٹھہرانا جائز نہیں نہ جزیہ لے کر نہ بغیر جزیہ کے نہ ان سے شادی بیاہ جائز ہے نہ ہی ان کا ذبیحہ حلال ہے حاصل یہ ہے کہ ان پر زندیق منافق اور ملحد کا مفہوم پوری طرح صادق آتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس خبیث عقیدہ کے باوجود ان کا کلمہ پڑھنا انہیں مرتد کا حکم نہیں دیتا کیونکہ وہ تصدیق نہیں رکھتے اور ان کا ظاہری اسلام معتبر ہے جب تک ان تمام امور سے جو دین اسلام کے خلاف ہیں برات کا اظہار نہ کریں کیونکہ وہ اسلام کا دعویٰ اور شہادتین کا اقرار تو پہلے سے کرتے ہیں(مگر اس کے باوجود پکے بے ایمان اور کافر ہیں) اور ایسے لوگ گرفت میں آجائیں تو ان کی توبہ اصلاً قبول نہیں۔

صفحہ 4 از 6