کفار محاربین سے دوستانہ تعلق ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان…

کفار محاربین سے دوستانہ تعلق ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے مفسدوں سے اقتصادی و معاشرتی مقاطعہ ک


صفحہ 3 از 6

آگے چل کر اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو جو باوجود قرابت داری کے محارب کافروں سے دوستانہ تعلقات ختم کر دیتے ہیں سچا مومن کہا گیا ہے انہیں جنت اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی بشارت سنا دی گئی ہے اور ان کو حزب اللّٰہ کے لقب سے سرفراز فرمایا گیا ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور رسول اللّٰہﷺ کے دشمن موذی کافروں سے تعلقات رکھنا ان سے گھل مل کر رہنا اور انہیں کسی قسم کی تقویت پہنچانا مؤمن کا کام نہیں ہو سکتا۔

 میرے محترم قارئین کرام!

بطور مثال ان چند آیات کا تذکرہ کیا گیا ہے ورنہ بےشمار آیات کریمہ اس مضمون کی موجود ہیں۔

اب چند احادیث نبویہﷺملاحظہ فرمائیں:

(1) جامع ترمذی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 195 پر ایک حدیث میں سیدنا سمرہ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکوں اور کافروں کے ساتھ ایک جگہ سکونت بھی اختیار نہ کریں ورنہ مسلمان بھی کافروں جیسے ہوں گے۔

(2) ترمذی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 193 پر ایک حدیث میں جو سیدنا جریر بن عبداللّٰہ البجلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا یعنی آپﷺ نے اظہار برات فرمایا ہر اس مسلمان سے جو محارب کافروں میں سکونت پذیر ہوں۔

(3) صحیح بخآری کی ایک حدیث میں قبیلہ عکل اور عرینہ کے آٹھ نو اشخاص کا ذکر ہے جو مرتد ہو گئے تھے ان کے گرفتار ہونے کے بعد رسول اللّٰہﷺ نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور ان کی آنکھوں میں گرم کرکے لوہے کی کیلیں پھیر دی جائیں اور ان کو مدینہ طیبہ کے کالے کالے پتھروں پر ڈال دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، یہ لوگ پانی مانگتے تھے لیکن پانی نہیں دیا جاتا تھا اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ پیاس کے مارے زمین چاٹتے تھے مگر انہیں پانی دینے کی اجازت نہ تھی۔

امام نوویؒ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ محارب مرتد کا پانی وغیرہ پلانے میں کوئی احترام نہیں چنانچہ جس شخص کے پاس صرف وضو کے لئے پانی ہو تو اس کو اجازت نہیں ہے کہ پانی مرتد کو پلا کر تیمم کرے بلکہ اس کے لئے حکم ہے کہ پانی مرتد کو نہ پلائے اگرچہ وہ پیاس سے مرجائے بلکہ وضو کرکے نماز پڑھے۔ (فتح الباری: جلد، 1 صفحہ، 241)

(4) غزوہ تبوک میں تین بڑے صحابہ سیدنا کعب بن مالکؓ سیدنا بلال بن امیہؓ سیدنا واقفی بدریؓ اور سیدنا مرارہ بن ربیعؓ سیدنا بدری عمریؓ کو غزوہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے سخت سزا دی گئی آسمانی فیصلہ ہوا کہ ان تینوں سے تعلقات ختم کر لئے جائیں ان سے مکمل مقاطعہ کیا جائے کوئی شخص ان سے سلام و کلام نہ کرے حتیٰ کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی ان سے علیحدہ ہو جائیں اور ان کے لئے کھانا بھی نہ پکائیں یہ حضرات روتے روتے نڈھال ہو گئے اور حق تعالیٰ کی وسیع زمین ان پر تنگ ہو گئ پورے پچاس دن تک یہ سلسلہ جاری رہا آخر اللّٰہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور معافی ہو گئی۔

قاضی ابوبکر ابن العربیؒ لکھتے ہیں کہ اس قصہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ امام کو حق حاصل ہے کہ کسی گنہگار کی تادیب کیلئے لوگوں کو اس سے بول چال کی ممانعت کر دے اور اس کی بیوی کو بھی اس کے لیے ممنوع ٹھرا دے۔

(احکام القرآن لان العربی: جلد، 2 صفحہ، 1026)

حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ گنہگار کو سلام نہ کیا جائے اور یہ کہ اس سے قطع تعلق تین روز سے زیادہ بھی جائز ہے۔

بہرحال سیدنا کعب بن مالکؓ اور ان کے رفقاء کا یہ واقعہ قرآن کریم کی سورہ توبہ میں واقع ہے اور اس کی تفصیل صحیح بخآری صحیح مسلم اور تمام صحاح ستہ میں موجود ہے۔

امام ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب السنہ کے عنوان کے تحت متعدد ابواب قائم کئے ہیں۔

(الف) اہلِ اہواء باطل پرستوں سے کنارہ کشی کرنے اور بغض رکھنے کا بیان۔ (جلد، 2 صفحہ، 276)

(ب) اہلِ اہواء سے ترک سلام و کلام کا بیان۔(جلد، 2 صفحہ، 276)

سنن ابی داؤد میں حدیث ہے کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ نے خلوق (زعفران) لگایا تھا رسول اللّٰہﷺ نے ان کو سلام کا جواب نہیں دیا۔

غور فرمائیے! کہ معمولی خلافِ سنت بات پر جب یہ سزا دی گئی تو ایک مرتد موذی اور کافر محارب سے بات چیت سلام و کلام اور لین دین کی اجازت کب ہو سکتی ہے۔

امام خطابی صاحب معالم السنن جلد 4 صفحہ 296 میں حدیث کعبؓ کے سلسلے میں تصریح فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی اگر ترکِ تعلق دین کی وجہ سے ہو تو بلا قید ایام کیا جا سکتا ہے، جب تک توبہ نہ کریں۔

(5) مسند احمد و سنن ابی داؤد میں سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا تقدیر کا انکار کرنے والے اس امت کے مجوسی ہیں اگر بیمار ہوں تو عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو جنازہ نہ پڑھاؤ 

(سنن ابی داؤد: جلد، 2 صفحہ، 288)

(6) ایک اور حدیث میں ہے کہ منکرین تقدیر کے ساتھ نہ نشست و برخاست رکھو اور نہ ان سے گفتگو کرو

(7) سنن کبری بیہقی میں ہے سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ کنگ بدر میں رسول اللّٰہﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ بدر کے کنوؤں کا پانی خشک کر دوں اور ایک روایت میں ہے کہ سوائے ایک کنویں کے جو بوقتِ جنگ ہمارے کام آئے گا باقی سب کنویں خشک کر دئیے جائیں۔

صحیح بخآری میں ہے کہ سیدنا علیؓ کے پاس چند بددین زندیق لائے گئے تو آپ نے انہیں آگ میں جلا دیا سیدنا ابن عباسؓ کو اس کی اطلاع پہنچی تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللّٰہﷺ نے منع فرمایا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کی سزا مت دو بلکہ انہیں قتل کرتا کیونکہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا من بدل دينه فاقتلوه  جو شخص مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔

صحیح بخآری میں سیدنا صعب بن جثامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ سے سوال کیا گیا کہ رات کی تاریکی میں مشرکین پر حملہ ہوتا ہے تو عورتیں اور بچے بھی زد میں آ جاتے ہیں رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا وہ بھی انہی میں شامل ہیں۔

صفحہ 3 از 6