مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 4 از 4
ہم کہتے ہیں کہ یہ بات یقینی طور پر معلوم ہے کہ شیعہ جس امام منتظر کے لیے زحمتِ انتظار میں ہیں اس کے وجود سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی مصلحت حاصل ہوئی۔ خواہ ہماری طرح انہیں مردہ (معدوم) تصور کیا جائے جیسے جمہور کا مسلک ہے یا شیعہ کی طرح انہیں زندہ قرار دیں۔ اسی طرح امامِ غائب کے اجداد کے وجود سے بھی دنیا کو کوئی (ایسا) فائدہ حاصل نہیں ہوا، جس طرح یہ خاک دان ارضی سرورِ کائناتﷺ کے وجودِ مسعود سے ہجرت کے بعد نفع اندوز ہوا تھا۔ اس لیے کہ آپ اس وقت مؤمنین کے امام تھے جن کی اطاعت واجب تھی۔ اسی وجہ سے سعادت حاصل ہوئی۔ سرورِ کائنات حضرت محمدﷺ کے عہدِ سعادت مہد کے بعد دعویٰ عصمت کی سعادت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں مسلمانوں کو جو سکون و آرام نصیب ہوا حضرت علیؓ کے پُر آشوب و تفرقہ دورِ خلافت کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ امامیہ فرقہ والے جن ائمہ کے لیے معصوم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان میں سے سوائے سیدنس علی رضی اللہ عنہ کے کسی بھی امام کی بیعت اہلِ حل و عقد نے نہیں کی۔ اور آپؓ کے عہدِ مسعود میں مکلفین کے لیے جو دینی و دنیاوی لطف و مہربانی اور مصلحتیں حاصل ہوئیں وہ اس سے بہت کم تھیں جو آپؓ سے پہلے تین خلفاء کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں حاصل ہوئیں۔ یہ بات ضرورت کے تحت سبھی لوگ جانتے ہیں کہ امامیہ فرقہ والے اپنے ائمہ معصومین کے ذریعہ جس لطف و مہربانی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ قطعی طور پر باطل ہیں۔
یہ تو بالکل ویسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ لبنان کے پہاڑوں میں روپوش کسی مہدی پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ ہدایت حاصل ہونے کے دعویدار ہیں۔ایسے ہی دعوے کچھ اور پہاڑوں کے متعلق بھی کیے جاتے ہیں جیسے: دمشق میں جبلِ قاسیون اور مغارۃ الدم مصر میں جبلِ فتح اور اس طرح کے دیگر پہاڑ اور غار۔ ایسے مقامات پر جنات بسیرا کرتے ہیں اور وہاں پر شیاطین بھی ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ شیاطین اور جنات لوگوں کو نظر بھی آ جاتے ہیں جب کہ اکثر اوقات آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جاہل لوگ انہیں (نیک) انسان گمان کرنے لگتے ہیں حالانکہ وہ جنات ہوتے ہیں۔ جیسا کہ فرمانِ الہٰی ہے:
وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ يَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡهُمۡ رَهَقًا 
(سورۃ الجن: آیت، 6)
ترجمہ: اور یہ کہ: انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے کچھ لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے، اس طرح ان لوگوں نے جنات کو اور سر چڑھا دیا تھا۔
یہ لوگ ان رجالِ غیب پر اور اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنے والے گمراہ فرقوں کے مشائخ پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر وہ مشائخ جو کہ رجالِ غیب پر ایمان رکھتے ہیں ان کی وجہ سے اتنا فتنہ و فساد پیدا نہیں ہوتا جتنا ان لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو امام معصوم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اس امام کے ماننے والے ہر طرح سے کثرت کے ساتھ فتنہ و فساد کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ لوگ ایسے امام معصوم کی طرف دعوت دیتے ہیں (جس امام کی کوئی حقیقت نہیں) اور ان کے ہاں کوئی صاحب سیف و قوت حکمران نہیں پایا جاتا جس سے مدد حاصل کریں (اور وہ ان کی اصلاح کے کام کرے) سوائے کچھ کفار و فجار اور فاسقین اور منافقین اور جہلاء کے۔ ان کے سردار اور بڑے ان اصناف سے باہر نہیں ہو سکتے۔
اسماعیلیہ فرقہ کے لوگ ان میں سب سے زیادہ برے ہیں۔ وہ (ظاہر میں) تو امام معصوم کی طرف دعوت دیتے ہیں مگر حقیقت میں ان کی دعوت فاسقین اور منافقین کی طرف ہوتی ہے جو اپنے باطن میں یہود و نصاریٰ سے بڑے کافر ہوتے ہیں۔ پس امام معصوم کی دعوت دینے والے حقیقت میں حاکم معصوم نہیں بلکہ ایسے کافر حکمرانوں کی طرف بلاتے ہیں جو کفر و ظلم میں انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ اتنا مشہور ہے کہ لوگ اپنے تجربات کی روشنی میں اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا 
 (سورۃ النساء: آیت، 59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسولﷺ کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحبِ اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔  
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب تنازع پیدا ہو تو اللہ و رسول اکرمﷺ کی طرف رجوع کیا جائے اگر مسلمانوں میں رسولﷺ کے سوا کوئی اور بھی معصوم ہوتا تو اس کی طرف مراجعت کرنے کا حکم صادر کیا جانا ضروری تھا۔ پس قرآنی آیات کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے علاوہ کوئی دوسرا معصوم نہیں ہے۔

صفحہ 4 از 4