مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 3 از 4
(سورۃ المائدة: آیت، 78-80)
ترجمہ: بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ ابنِ مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی یہ سب اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گزر جایا کرتے تھے۔ وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے، اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرزِ عمل نہایت برا تھا۔ تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے (بت پرست) کافروں کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے۔
غالب طور پر رافضی برائی سے منع نہیں کرتے۔ بلکہ شیعہ کے علاقوں میں سب سے زیادہ جور و ستم‘ ظلم اور فحاشی کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اور یہ ان کفار سے دوستی لگاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے۔ پس یہ لوگ نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور نہ ہی کفار کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمؕۡ مَّا هُمۡ مِّنۡكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡ
(سورۃ المجادلة: آیت، 14)
ترجمہ: کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا ہوا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے؟ یہ نہ تو تمہارے ہیں اور نہ ان کے، 
یہی وجہ ہے کہ جمہور مسلمین انہیں ایک دوسری قوم شمار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان کے ساتھ ان کے دیار میں جبال بلاد ساحل شام میں جنگ کی گئی کیونکہ یہ (وہاں سے گزرنے والے) مسلمانوں کا خون بہاتے تھے اور ان کا مال و اسباب چھین لیتے راہزنی کی وارداتیں کرتے اور اسے وہ اپنے مذہب میں حلال سمجھتے تھے۔ ترکمان کے ایک گروہ نے ان سے جنگ کی تو یہ لوگ دہائیاں دینے لگے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مگر انہوں نے کہا: نہیں تم کوئی اور قوم ہو۔ ان لوگوں نے اپنے دلوں کی سلامتی کی وجہ سے سمجھ لیا تھا کہ یہ لوگ مسلمانوں سے جداگانہ طور و اطوار رکھتے ہیں اس لیے یہ مسلمان نہیں بلکہ کوئی اور قوم ہیں۔ (بھلے یہ لوگ اپنی زبانی اسلام اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے رہیں) (کیونکہ ان کی پہچان ہی جدا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
 وَيَحۡلِفُوۡنَ عَلَى الۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ 
(سورۃ المجادلة: آیت، 14)
ترجمہ: اور یہ جانتے بوجھتے جھوٹی باتوں پر قسمیں کھا جاتے ہیں۔
رافضیوں کا یہی حال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِتَّخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ لَنۡ تُغۡنِىَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـئًـا‌ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا فَيَحۡلِفُوۡنَ لَهٗ كَمَا يَحۡلِفُوۡنَ لَـكُمۡ‌ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ عَلٰى شَىۡءٍ‌ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ اِسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ الشَّيۡطٰنُ فَاَنۡسٰٮهُمۡ ذِكۡرَ اللّٰهِ‌ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ‌ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِى الۡاَذَلِّيۡنَ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيۡزٌ لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ 
 (سورۃ المجادلة: آیت، 16-22)
ترجمہ: انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا لیا ہے۔ پھر وہ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ایسا عذاب ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ یہ دوزخ والے ہیں۔ یہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ جس دن اللہ ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا تو اس کے سامنے بھی یہ اسی طرح قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے کھاتے ہیں، اور یہ سمجھیں گے کہ انہیں کوئی سہارا مل گیا ہے۔ یاد رکھو یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ ان پر شیطان نے پوری طرح قبضہ جما کر انہیں اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔ یہ شیطان کا گروہ ہے۔ یاد رکھو شیطان کا گروہ ہی نامراد ہونے والا ہے۔ بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل ترین لوگوں میں شامل ہیں۔ اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب آئیں گے۔ یقین رکھو کہ اللہ بڑا قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔ جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، 
ان میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو اپنے دل کی گہرائیوں سے مسلمانوں سے بڑھ کر کفار سے محبت و دوستی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب مشرق کی طرف سے ترک کفار کا خروج ہوا اور انہوں نے بلادِ خراسان عراق شام اور الجزیرہ وغیرہ میں مسلمانوں کا خون بہایا اور انہیں قتل کیا۔ تو اس موقع پر رافضی مسلمانوں کے خلاف تاتاریوں کی مدد کر رہے تھے۔ حکومتِ بغداد کا وزیر ابنِ علقمی (شیعہ) اور اس جیسے دوسرے لوگ اس وقت میں مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرنے والے سب سے بڑے اور اہم ترین عنصر تھے۔ ایسے ہی جب عیسائیوں نے بلادِ شام میں مسلمانوں سے جنگ چھیڑی تو اس وقت رافضی ان کے سب سے بڑے مدد گار تھے۔ اور جب یہودیوں نے بلادِ شام میں یہودی سلطنت قائم کرنے کی کوشش کی تو اس وقت رافضی ان کے سب سے بڑے حمایتی اور مدد گار تھے۔ رافضیوں کا ہمیشہ کے لیے وطیرہ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے یہود و نصاریٰ اور مشرکین کا ساتھ دیتے آئے ہیں۔
(عصمتِ ائمہ کا بے دلیل دعویٰ)
باقی شیعہ مصنف نے جو ائمہ کے معصوم ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ سوائے اس کے کہ روافض کا یہ قول ہے یہ عالم ارضی ائمہ کے وجود سے کبھی خالی نہیں رہتا، کیونکہ کائنات ارضی کی بھلائی اور ان کے ساتھ مہربانی اسی میں مضمر ہے۔‘‘
صفحہ 3 از 4