مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 4

مسئلہ عصمتِ انبیاء علیہم السلام

(رافضی مصنف کا خیال ہے کہ اہلِ سنت والجماعت عصمت انبیائے کرام علیہم السلام کے منکر ہیں اس عقیدہ پر رد)
اعتراض:
رافضی مضمون نگار لکھتا ہے: امامیہ و اسماعیلیہ کے علاوہ دیگر اسلامی فرقوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام و ائمہ غیر معصوم ہیں۔ بنا بریں ان کے خیال میں ایک نبی کاذب و سارق اور سہو و نسیان کا مرتکب ہو سکتا ہے۔
(نعوذ باللہ من ذلک)
تو پھر عوام الناس کو ان کی باتوں پر کون سا اعتماد باقی رہ جائے گا؟ اور لوگ کیسے ان کی بات مانیں گے؟ نیز ان کے ماننے والوں پر انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع کیوں کر واجب ہو گی جب کہ ان کے لیے غلط حکم دینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں؟ نیز انہوں نے ائمہ کی تعداد مقرر نہیں کی؟ بلکہ ان کے نزدیک جو بھی قریش کی بیعت کرے اس کی امامت و خلافت درست ہو گی۔ اور تمام مخلوق پر اس کی اطاعت واجب ہو جائے گی اگرچہ وہ مستور الحال ہی کیوں نہ ہو۔ اور بھلے وہ کفر فسق اور نفاق کی حدوں کو چھوتا ہو۔‘‘
(انتہیٰ کلام الرافضی)
جواب:
اس کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتا ہے:
پہلی بات: شیعہ مصنف نے جمہور کے متعلق جو ذکر کیا ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کو معصوم نہیں مانتے اور ان کے لیے خطاء جھوٹ اور چوری کے صادر ہونے کو جائز سمجھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ: یہ مسلک جمہور پر عظیم افترا ہے۔ خوارج کے ایک گروہ کے سوا مسلمانوں کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے احکام امر و نہی پہنچانے میں معصوم تھے اور ان کی اطاعت واجب ہے۔ اور اس پر بھی تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جس چیز کی خبر رسول اللہﷺ دے دیں اس کی تصدیق کرنا واجب ہو جاتی ہے۔
جمہور کے نزدیک انبیاء کرام علیہم السلام سے صغائر کا صدور ممکن ہے تاہم وہ صغائر پر قائم نہیں رہتے۔
انبیائے کرام علیہم السلام جس بات کی خبر دیں باجماع مسلمین اس کی تصدیق کرنا واجب ہوتی ہے۔اور جس چیز کا حکم دیں اور جس چیز سے منع کریں اس میں ان کا حکم ماننا واجب ہو جاتا ہے۔ اس پر تمام مسلمان فرقوں کا اتفاق ہے۔ سوائے خوارج کے ایک گروہ کے وہ کہتے ہیں: ’’نبی اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے میں معصوم ہوتا ہے اپنی طرف سے حکم دینے اور منع کرنے میں معصوم نہیں ہوتا۔ اہلِ سنت والجماعت کا اس فرقہ کے گمراہ ہونے پر اتفاق ہے۔
ہم اس سے پہلے کئی بار ذکر کر چکے ہیں کہ اگر مسلمانوں میں سے کچھ لوگ کوئی غلط بات کہہ دیں تو ان کی اس غلطی کی وجہ سے تمام مسلمانوں پر قدح وارد نہیں ہو گی۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر رافضیوں کی خطاؤں کو مسلمانوں کے دین میں عیب سمجھا جاتا۔ تمام فرقوں اور گروہوں میں رافضیوں سے بڑھ کر جھوٹا اور خطأ کار فرقہ کوئی دوسرا نہیں۔ مگر اس کے باوجود اس سے مسلمانوں پر کچھ ضرر نہیں آتا۔ ایسے ہی اگر رافضیوں کے علاوہ کوئی دوسرا خطا کار بھی ہو تو اس سے مسلمانوں کے دین میں کچھ فرق نہیں آتا۔ اکثر لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے کبیرہ گناہ کو جائز نہیں سمجھتے۔ جمہور مسلمین جو کہ صغیرہ گناہ کے صدور کو جائز سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو ان غلطیوں پر مستمر نہیں رہنے دیا جاتا۔ (فوراً اللہ تعالیٰ اس پر آگاہ کر دیتے ہیں۔) نیز توبہ کرنے کی وجہ سے انہیں پہلی منزلت سے زیادہ عالیشان اور بڑی منزلت نصیب ہوتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان گزر چکا ہے۔
خلاصہ کلام! مسلمانوں میں کوئی ایک بھی یہ نہیں کہتا کہ: خطأ کے جواز کے ساتھ ان امور میں رسولوں کی اطاعت واجب ہے۔ بلکہ سب کا اتفاق ہے کہ صرف صحیح حکم میں ہی رسول کی اطاعت واجب ہے۔ پس رافضی کا یہ کہنا: ان کے ماننے والوں پر انبیاء علیہم السلام کی اتباع کیوں کر واجب ہو گی جب کہ ان کے لیے غلط حکم دینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ امت میں سے کسی پر لازم نہیں آتا۔ (اور نہ ہی کسی ایک کا یہ عقیدہ ہے۔)
اجتہادی مسائل میں انبیاء کرام علیہم السلام سے چوک ہو جانے کے مسئلہ میں لوگوں کے دو معروف قول ہیں:
1: ان سب کا اتفاق ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو خطا پر باقی نہیں رہنے دیا جاتا۔
2: انبیاء کرام علیہم السلام کی اطاعت ان امور میں ہو گی جن پر انہیں باقی رہنے دیا جائے ان امور میں نہیں ہو گی جن میں تبدیلی کر دی جائے یا جن امور سے منع کر دیا جائے اور ان امور میں بھی نہیں جن میں اطاعت کرنے کا حکم نہیں ملا۔
البتہ عصمتِ ائمہ کے بارے میں شیعہ مضمون نگار کا بیان درست ہے اسماعیلیہ اور امامیہ کے علاوہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں اور اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ امامیہ و اسماعیلیہ کے سوا مسلمانوں کا کوئی بھی فرقہ ائمہ کو معصوم قرار نہیں دیتا۔ اس دعویٰ عصمت کے بے بنیاد ہونے پر آپ کے لیے اتنی ہی گواہی کافی ہے کہ منافقین اور ملحدین جن کے بڑے شیوخ یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے بڑے کافر ہیں ان کے علاوہ کسی نے بھی اس مسئلہ میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ رافضیوں کی فطرتِ ثانیہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے اقوال و افعال موالات اور قتال میں مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے جا ملتے ہیں۔
کیا اس قوم سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہ ہو گا جو مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین سے تو نفرت اور دشمنی کرتے ہیں مگر یہود و نصاریٰ اور منافقین سے محبت کرتے اور دوستی رکھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
صفحہ 1 از 4