بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں - دفاعِ…

بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

مگر یہ باطل اور غیر صحیح ہے۔ اس بارے میں صحیح اور اصل صورت حال صحیح بخاری میں دیکھی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن سمرۃ اور عبداللہ بن کریز پر مشتمل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے وفد کے ارکان سے کہا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم نے اس مال سے کچھ خرچ کیا ہے۔ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں نے کہا: اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔

(بخاری رقم: 2704) 

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان اموال کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو خود انہوں نے اور بنو عبدالمطلب سے دوسرے لوگوں نے قبل ازیں حاصل کیے تھے، وہ یہ چاہتے تھے کہ ان سے اس کی واپسی کا مطالبہ نہ کیا جائے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے آئندہ کے لیے کسی رقم کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 64)

ابن الاعثم ذکر کرتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے مال میں میرے ساتھ شرط لگانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

(الفتوح: جلد 3 صفحہ 293)

یہ سبھی کے علم میں ہے کہ خراج کا حصول حکومت کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور اہل بصرہ کے مابین اس پہلو سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا مگر روایت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ’’دار ابجرد‘‘ کا خراج سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو منتقل کیے جانے والے اموال میں شامل نہیں تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 64)

مروی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے ذمہ کئی قرضے واجب الادا ہیں، لہٰذا میرے لیے بیت المال سے چار لاکھ یا اس سے کچھ زائد درہم جاری کریں۔

(تاریخ الاسلام، عہد معاویۃ: صفحہ 7)

ابن عساکرؒ ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: انہیں بیت المال سے رقم ادا کی جائے جس سے وہ اپنے ذمہ واجب الاداء قرضہ جات ادا کر سکیں اور دیگر مالی ذمہ داریاں پوری کر سکیں، اپنے باپ کے اہل و عیال، ان کی اولاد اور اپنے اہل بیت کے اخراجات ادا کر سکیں۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 90)

بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ جنگجوؤں کو ادا کرنے کے لیے بیت المال سے پچاس لاکھ درہم وصول کیے۔ اس سے کچھ رقم ان کے اہل بیت اور دیگر اصحاب و رفقاء میں بھی تقسیم کی گئی۔

(فی التاریخ الاسلامی: شوقی ابو خلیل: صفحہ 268)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض فوجیوں میں مال و زر کی تقسیم حالات کی سنگینی میں کمی لانے میں ممد و معان ثابت ہوتی ہے۔

مگر صحیح بخاری کی روایت کی جانب میلان زیادہ ہوتا ہے، بات صرف اتنی تھی کہ انہوں نے ان اموال کے بارے میں بازپرس نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو انہوں نے اپنی خلافت کے ایام میں وصول کیے تھے، جو روایات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دس لاکھ درہم اور ان کے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بیس لاکھ درہم سالانہ ادا کریں گے اور عطیات و نوازشات میں بنو ہاشم کو بنو عبد شمس پر ترجیح دیں گے۔

(الاخبار الطوال: صفحہ 218)

اور گویا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں خلافت کو فروخت کر دیا تھا، تو یہ روایات اور جو کچھ ان کی تحلیل اور تفسیر میں کہا گیا ہے تو انہیں نہ تو قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ قابل اعتماد ہیں۔ اس لیے کہ ان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے ذاتی مفادات کا احساس زیادہ اور امت کے مفادات کا احساس کم تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 63)

جہاں تک عطیات میں ان کے حق کا تعلق ہے تو ان پر صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا نہیں بلکہ سب مسلمانوں کا حق تھا، البتہ اس چیز سے کوئی امر مانع نہیں کہ ان کا حصہ دوسروں سے زیادہ ہو، مگر وہ روایات میں ذکر کردہ بھاری رقوم کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچتا تھا۔

(ایضاً: صفحہ 63)

ج: عطیات کی غیر مساوی تقسیم:

اسلام میں سب سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیوان العطاء قائم کیا۔ جبکہ قبل ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود میں مال غنیمت کو جنگ کے فوراً بعد مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 418)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین میں حاصل ہونے والا مال غنیمت مولفۃ القلوب میں بھی تقسیم فرمایا تھا جس کی مقدار بہت زیادہ تھی۔

(الاستخراج للأحکام الخراج: ابن رجب الحنبلی: صفحہ 62)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے یہ قرار پایا کہ مال غنیمت کو تقسیم کرتے وقت بعض لوگوں کو ترجیح دینا امر مباح ہے اور اگر مسلمانوں کی مصلحت کا تقاضا ہو تو اسے درجہ استحباب میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 418)

پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جب غزوات اسلامیہ کا دائرہ وسیع ہوا اور اس کے نتیجہ میں مال غنیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے اپنے احباب و اصحاب سے مشاورت کی جس کی روشنی میں دیوان العطاء قائم کرنے کا فیصلہ ہوا جس کی ذمہ داری عطیات کو معروف انداز میں تقسیم کرنا تھا اور جس میں سابقین اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کو دوسروں پر ترجیح دی جاتی تھی۔

(ایضاً: صفحہ 418)

پھر جب امویوں کا دور حکومت آیا تو انہوں نے اہل شام کو دوسروں پر ترجیح دی، اہل شام ان کے مخلص اعوان و انصار تھے اور انہیں ہی جہادی لشکروں میں مرکزی حیثیت حاصل تھی چاہے، وہ شمال میں رومیوں کے ساتھ ہو یا مغرب میں افریقہ اور اندلس کی فتوحات کی صورت میں یہی لوگ دولت اسلامیہ کی سلامتی کے محافظ اور اس کے مخالفین کا سر توڑنے کے ذمہ دار تھے۔ مختلف شہروں کے امراء و ولاۃ کے خلاف جب بھی کسی نے خروج کیا اور مصری لشکر اپنا اور اپنے نظام کا دفاع کرنے سے بے بس ہوئے تو انہوں نے شامی سپاہ کی مدد حاصل کی اور ان پر غلبہ حاصل کیا، ابن الاشعث (تاریخ طبری نقلاً عن الادولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 420)

کے ساتھ قتال میں بھی یہی کچھ ہوا۔ یزید بن عبدالملک کے زمانے میں (ایضاً: صفحہ 420)

صفحہ 3 از 4