بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں - دفاعِ…

بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا شمار سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں، مشیروں اور دوستوں میں ہوتا تھا، وہ عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں بدون ولایت شوریٰ کے اجلاس میں شریک ہوا کرتے تھے، ان کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کر کے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص اور خلیفہ شہید کا انتقام لے سکیں۔

(عمرو بن العاص: غضبان: صفحہ 480، 490) 

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل ناحق سفاک مجرموں کے خلاف ان کے غیض و غضب کو تحریک دینے کے لیے کافی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کے خلاف دلیری دکھانے والوں سے انتقام لینے کے لیے مدینہ منورہ کے علاوہ کسی اور جگہ کا انتخاب ضروری تھا۔ آخر خلیفہ مظلوم عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غضب ناک ہونے میں انوکھے پن والی کون سی بات ہے؟ اگر اس موضوع میں کسی کو کوئی شک ہے تو اس کا دار و مدار ان جھوٹی روایات پر ہے جو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ان کا واحد مقصد اقتدار اور حکومت کا حصول تھا۔

(عمرو بن العاص: غضبان: صفحہ 492)

اسی الزام کی تردید کہ مصر سیدنا عمر بن العاصؓ کو رشوت کے طور سے دیا گیا، ابو مخنف جو کہ گزشتہ جھوٹ کا ایک راوی ہے کی ذکر کردہ اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنا لشکر مصر بھیجنا اور اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انصار سے چھین لینا اس امید کے پیش نظر تھا کہ اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر غالب آ جائیں گے اس لیے کہ مصر سے بہت زیادہ خراج حاصل ہوتا تھا۔

(تاریخ طبری: جلد 9 صفحہ 6)

ایسے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سارا خراج سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے کیسے کر سکتے تھے جبکہ خود انہیں اس کی شدید ضرورت تھی؟ یاد رہے کہ اس حملہ کے قائد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے۔

اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد مصر کے خراج پر اپنے عامل وردان کو لکھا کہ ہر قبطی سے ایک قیراط مزید خراج وصول کیا جائے۔ جس کے جواب میں وردان نے لکھا کہ میں ان کے خراج میں کس طرح اضافہ کر سکتا ہوں جبکہ ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 219)

وردان کو مصر کے خراج پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت کے ایام میں والی متعین کیا گیا تھا، اس لیے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جو لوگ مصر کے والی مقرر ہوئے وہ تھے: عتبہ بن ابوسفیان، عقبہ بن عامر اور مسلمہ بن خالد، یہ لوگ نماز اور خراج کے والی تھے۔ یہ روایت اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مصر پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت کے دوران وہاں سے زیادہ خراج وصول کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے مگر اس اہتمام کا اس صورت میں ہی کوئی معنیٰ بنتا ہے کہ جب مصر کا خراج سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس کے ساتھ مختلف قسم کے اخراجات پورے کر سکیں۔

(الامویون و الفیٔ: صفحہ 67، 68)

مزید براں معاویہ رضی اللہ عنہ کسی ایک فرد کے لیے خراج مصر سے دست بردار ہونے والے نہیں تھے جبکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ یہ ساری امت کا حق ہے اور یہ کہ وہ اس سے دست بردار ہونے کا استحقاق نہیں رکھتے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ عطیہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے یہ فرماتے سنا: تمہیں تمہارے عطیات ادا کرنے کے بعد بیت المال میں کچھ مال بچ رہا ہے جسے میں تم لوگوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔

اگر آئندہ سال بھی کچھ مال بچ رہا تو میں اسے بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور اگر کچھ نہ بچا تو پھر مجھ سے ناراض نہ ہونا، یہ میرا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 3 صفحہ 185)

مزید برآں یہ بات بھی یقینی ہے کہ اہل مصر اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ مصر رشوت کے طور پر سیدنا عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ کو دے دیا جائے جیسا کہ ان کے معاندین کا خیال ہے۔ مثال کے طور پر مصر میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے بھی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی نصرت و حمایت کی تھی جیسا کہ معاویہ بن خدیج اور عثمانیہ سے ان کے دیگر اصحاب و رفقاء، یہ لوگ اس بات کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتے تھے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ان پر امتیازی مقام و مرتبہ حاصل ہو۔ ہم قبل ازیں بتا چکے ہیں کہ اس معاویہ بن خدیج نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھانجے عبدالرحمٰن بن ام الحکم کو والی کے طور پر مصر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اسے واپس لوٹا دیا تھا اور اپنے اوپر اس کی امارت کو مسترد کر دیا تھا اگرچہ اس نے اس کے لیے غیر مناسب انداز اختیار کیا تھا مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسے ناراض کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔

(الادلۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 417)

ب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لیے ’’دار ابجرد‘‘ کے خراج سے دست بردار ہونا:

بعض مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ’’دار ابجرد‘‘ کے خراج سے دست بردار ہو گئے تھے اور یہ کہ اگر وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت سے دست بردار ہو جائیں تو وہ اس کے عوض انہیں کوفہ کے بیت المال سے پانچ ہزار درہم ادا کریں گے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے بیت المال سے تو وہ رقم وصول کر لی مگر ’’دار ابجرد‘‘ کا خراج وصول کرنے سے قاصر رہے، اس لیے کہ اہل مصر نے انہیں اس سے روک دیا تھا، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایسا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اکسانے پر ہوا۔ مگر یہ روایت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ دونوں کی تنقیص کا سبب بنتی اور دونوں کے بارے میں یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ باطل طریقے سے مسلمانوں کا مال ہڑپ کرنے پر متفق تھے۔

(ایضاً: صفحہ 417۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 165)

صفحہ 2 از 4