شیعہ ائمہ کے مزارات کی زیارت کے کون سے آداب ہیں جنہیں شیعہ…

شیعہ ائمہ کے مزارات کی زیارت کے کون سے آداب ہیں جنہیں شیعہ علماء واجب قرار دیتے ہیں؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: اور وہ سجود کی طرف بلائے جاتے تھے اس حال میں کہ وہ صحیح سالم تھے۔

اس کا معنیٰ یہ ہے کہ انہیں دنیا میں امیر المومنین کی ولایت کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ صحیح سالم تھے۔

(تفسير القمی: صفحہ، 718 سورة القلم، تفسير الصافی: جلد، 5 صفحہ، 215 سورة القلم)

شیعہ علماء نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ ہر قبر کے پاس دو رکعتیں زیارت کی نیت سے ادا کرنا ضروری ہے۔ 

(بحار الأنوار: جلد، 97 صفحہ، 134 كتاب المزار: حديث نمبر: 24 باب آداب الزيارة، تفسير نور الثقلين: جلد، 5 صفحہ، 396 ح، 51 سورة القلم)

شیعہ علماء کے نزدیک یہ شرکیہ امور افضل ترین تقرب شمار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے پیروکاروں کو جھانسہ دیتے ہیں کہ یہ شرکیہ افعال ان کے گناہوں کی بخشش، جنت میں داخلے، جہنم سے آزادی، سیئات کی معانی، درجات کی بلندی اور دعاؤں کی قبولیت کے موجب ہیں۔ 

(بحار الأنوار: جلد، 97 صفحہ، 134 ح، 24 باب آداب الزيارة واحكام الروضات وبعض النوادر)

یہ شرکیہ امور حج، عمرہ، جہاد اور غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ہیں۔

(بحار الأنوار: جلد، 98 صفخہ، 21 باب، 4 كتاب المزار)

ان کے ایک معاصر آیت اللہ علی السیستانی نے کہا ہے کہ: سیدنا علیؓ کی قبر کے پاس نماز ادا کرنے کا اجر بیت اللہ کعبہ کے پاس نماز ادا کرنے کے اجر سے بڑھ کر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ روایت میں آیا ہے کہ آپ کی قبر کے پاس نماز کا اجر دو لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔

(منہاج الصالحين، العبادات 562 صفحہ، 187 كتاب الصلاة، مكان المصلیٰ)

تضاد بیانی:

ابو عبد اللہؒ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ‎ نے قبر پر بیٹھنے، اس کو قبلہ بنا کر نماز پڑھنے، اس کے ساتھ ٹیک لگانے اور اس پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے۔

(تہذيب الأحكام : جلد، 3 صفحہ، 693 الاستبصار جلد، 1 صفحہ، 352 وسائل الشيعه: جلد، 2 صفحہ، 503 ح، 5 باب جواز الصلاة على الميت)

مزید برآں کیا ائمہ کے نام پر گھڑی گئی یہ روایات اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی دعوت پر مبنی نہیں ہیں؟ کیا اس سے اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین کو تبدیل کرنے کی ناپاک سازش نہیں کی گئی؟ کیا ملتِ اسلامیہ پر ملتِ شرک کو ترجیح دینے کی مذموم جسارت نہیں ہے؟ کیا یہ دین حنیف کی جگہ بت پرستی کو بدل دینے کی کوشش نہیں؟ 

کیوں نہیں! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق اور پروردگار عالم نہیں، یہ دعوت ایسی ہی مذموم اور ناپاک ہے۔ جو دین اپنے پیروکاروں کو کعبۃ اللہ کی طرف پشت کرنے ، اپنے ائمہ کی قبروں کو قبلہ بنانے کا حکم دے اس دین کو کیا نام دیا جائے گا؟ یہ مَن گھڑت روایات کو تراشنے اور پھیلانے والے شیعہ علماء کو کیا نام دیا جائے جو شرک کے گھروں کو مشاہد اور مزارات کا نام دے کر توحید کے گھر مساجد کو برباد کر رہے ہیں اور یہ شرک کدوں کو آباد کر رہے ہیں؟ (ایران میں) یہ بت کدے اس کی بہترین گواہی ہیں۔ 

بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:

اَمۡ لَهُمۡ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۡۢ بِهِ اللّٰهُ‌ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ‌ وَاِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۞

(سورۃ الشورى: آیت، 21)

ترجمہ: کیا ان کے لیے (اللہ کے سوا) شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے وہ دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا؟ اور اگر وعدے کے دن فیصلہ کرنے کی بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان یقیناً (فوراً ہی) فیصلہ کر دیا جاتا، اور بلاشبہ ظالم لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

دندان شکن:

سیدنا ابوجعفرؒ سیدنا محمد باقرؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میری قبر کو قبلہ بناؤ نہ مسجد، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔

(من لا يحضره الفقيه: جلد، 2 صفحہ، 72 ح، 523 باب التعزية والجزع، علل الشرائع: جلد، 2 صفحہ، 351 ح، 1 باب، 57 العلةالتی من أجلها، بحار الأنوار: جلد، 97 صفحہ، 128 ح، 7 باب آداب الزيارة واحكام الروضات و بعض النوادر شجرة الطوبیٰ: صفحہ، 1)


صفحہ 2 از 2