مسلمانوں میں اختلافات کا آغاز عبد اللہ ابن سبا کی کارکردگی…

مسلمانوں میں اختلافات کا آغاز عبد اللہ ابن سبا کی کارکردگی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

عبد اللہ بن سبا نے حضرت عثمان سے تبراء شروع کیا، اس نے شیخین کا دور نہ پایا تھا اور اس وقت سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف کوئی شخص بات نہ کر سکتا تھا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی، اس نے براہِ راست بات نہ چلائی پہلے آپ کے امراء کے خلاف وہ پراپیگنڈہ کرتا رہا اور پھر وہ آپ کی ذاتِ اقدس تک جا پہنچا۔

3: اس نے یہ عقیدہ بھی قائم کیا کہ علی کی خلافت نص پر مبنی ہے شوریٰ پر نہیں اور یہ کہ آپ معصوم تھے اور جو جانشین رسولﷺ ہو وہ معصوم ہوتا ہے شیعہ میں عصمت ائمہ کا عقیدہ عبداللہ بن سبا سے ہی آیا ہے۔

 علامہ شہر ستانیؒ (467ھ) لکھتے ہیں:

هو اول من اظهر القول بالفرض بامامة على( الملل والنحل)

 ترجمہ: وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت علیؓ کی امامت خدا کی طرف سے مقررہ ہونے کی بات کہی۔

شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (28ھ) لکھتے ہیں:

ان اول من ابتدع الرفض والقول بالنص علىٰ على وعصمته كان منافقا زنديقا( منہاج السنۃ: صفحہ261،جلد 3)

 ترجمہ: بے شک پہلا شخص جس نے رافضیوں کا مذہب گھڑا اور یہ بات کہی کہ حضرت علیؓ کی خلافت نص پر مبنی تھی اور یہ کہ آپ معصوم تھے ایک منافق تھا جوز ندیق تھا۔

جب وہ یہود میں تھا تو حضرت یوشع بن نون کے بارے میں وہ منصوص خلافت کا عقیدہ رکھتا تھا مسلمانوں میں آ کر اس نے وہی عقیدہ حضرت علیؓ کے بارے میں قائم کیا۔

4: عبد اللہ بن سبا نے اس عقیدے کی بھی بنیاد رکھی کہ حضرت علیؓ میں خدا حلول کیے ہوئے ہے پھر وہ یہاں تک بڑھا کہ اس نے ان کی الوہیت ( خدا ہونے) کا عقیدہ وضع کر لیا اور آپ کو الٰہ کہا اور آپ کی ربوبیت کا اعلان کیا ابو عمرو رجال الکشی میں ( 370ھ) لکھتا ہے جعفر صادق رحمۃ اللہ (148ھ) نے فرمایا:

لعن الله عبد الله بن سبا انه ادعى الربوبية في امير المومنين على عليه السلام (رجال الکشی: جلد1 صفحہ 324،روایت172)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ عبد اللہ بن سباء پر لعنت کرے وہ امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کے بارے میں رب ہونے کا عقیدہ پھیلاتا تھا۔

حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ (582ھ) بھی لکھتے ہیں عبد اللہ بن سبا کے پیرو اس عقیدہ پر آگئے تھے:

وله اتباع يقال لهم السبائية معتقدون الالوهية في على بن ابی طالب وقد احرقهم على بالنار فی خلافته( لسان المیزان: صفحہ 290، جلد3)

ترجمہ: اس کے پیروؤں کو سبائی کہا جاتا ہے وہ حضرت علیؓ میں الوہیت کا عقیدہ رکھتے تھے آپ نے انہیں اپنے عہد خلافت میں آگ میں ڈال کر جلا دیا تھا۔

صحیح بخاری میں بھی ہے:

عن عكرمة قال اتىٰ على بزنادقة فاحرتهم فبلغ ذلك ابن عباس فقال لو كنت انا لم احرقهم النهى رسول الله لا تعذبوا بعذاب اللہ( صحیح بخاری: صفحہ 1023،جلد 2)

ترجمہ: عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس یہ زندیق لائے آپ نے انہیں زندہ جلا دیا، یہ بات حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو پہنچی آپ نے کہا اگر میں ہوتا تو میں انہیں نہ جلاتا حضورﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

یہ چاروں عقیدے آپ کو آج بھی محمد بن یعقوب الکلینی کی کتاب الکافی میں اور خمینی کی تصدیق کردہ مجلسی کی کتب میں نہایت کھلے الفاظ میں ملیں گے، سو اس بات کو تاریخی پیمانے سے کسی طرح جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ شیعہ مذہب کی تاسیس واقعی اسی یہودی (عبد اللہ بن سباء ) نے کی اور اس کے تجویز کردہ یہ چاروں عقیدے اثناء عشریوں میں پوری تصدیق سے قبولیت پائے ہوئے ہیں چوتھے عقیدے کی صدا حضرت علیؓ کی طرف نسبت کردہ اس خطبہ میں سنئیے:

انا عندى مفاتيح الغيب لا يعلمها بعد رسول الله الا انا، وانا ذو القرنين المذكور في الصحف الأولى، وانا صاحب خاتم سليمان، وانا والى الحساب، وانا صاحب الصراط والمؤقف وانا قاسم الجنة والنار، وانا ادم الأولوانا نوح الأول انا أية الجبار انا حقيقة الاسرار انا مورق الاشجار انا موقع الاثمار انا متوج العيون انا مجرى الانهار انا خازن العلم انا طور الحلم انا امير المؤمنين انا عين اليقين انا حجة الله فی السموات والأرض۔

حضرت علیؓ کا یہ خطبہ شیعہ کے معروف خطیب سید ظہور الحسن نے اردو ترجمہ جلاء العیون کے مقدمہ میں یہ دیا ہے:

ترجمہ: میں وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں حضور اکرمﷺ کے بعد میرے سوا کوئی نہیں جانتا، میں وہ ذوالقرنین ہوں جس کا ذکر صحف اولیٰ میں ہے، میں خاتم سلیمان کا مالک ہوں، میں یوم الحساب کا مالک ہوں میں ہی صراط اور میدانِ حشر کا مالک ہوں جنت و دوزخ کا تقسیم کرنے والا ہوں، میں پہلا آدم ہوں پہلا نوح ہوں ہیں، میں جبار کی آیت ہوں میں اسرار کی حقیقت ہوں میں درختوں کو پتے پہنانے والا ہوں میں پھلوں کا پکانے والا ہوں میں چشموں کا جاری کرنے والا ہوں میں نہروں کو (روانی کے ساتھ) بہانے والا ہوں میں علم کا خزانہ ہوں میں حلم (بردباری) کا پہاڑ ہوں میں امیر المؤمنین ہوں میں سر چشمہ یقین ہوں میں آسمانوں اور زمین میں حجت خدا ہوں(جلاء العیون: اردو جلد،2 صفحہ،60)

کیا یہ آپ کا اپنے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں؟ کیا سیدنا علیؓ کے بارے میں یہ وہی عقیدہ نہیں جس کی داغ بیل عبد اللہ بن سباء نے ڈالی تھی اور حضرت علیؓ کے رب ہونے کا دعویٰ کیا تھا شیعہ کی معتبر کتابوں میں اب بھی یہی شیعہ عقائد ملتے ہیں جو اس نے پھیلائے تھے، تو یہ تسلیم کرنے سے چارہ نہیں رہتا کہ واقعی اس نئے مذہب کی اساس عبد اللہ ابن سبا یہودی کے ہاتھوں ہوئی اور شیعہ کے یہ نظریات گو ویسے دبے تھے لیکن وہ بنیادی طور پر جگہ پاچکے ہیں۔

محمد بن یعقوب الکلینی ( 328ھ) نے چوتھی صدی میں ان نظریات کو باقاعدہ مرتب کیا اور ایک نئے مذہب کی تشکیل دی، اثناء عشریوں کے ہاں یہ ان کا پہلا محدث ہے جس سے ان کے اصول شروع ہوئے، ان اصول اربعہ میں پہلا اصول الکافی ہے اور دوسرا من لا یحضرہ الفقیہ رہا، اسے ان کے محدث ابنِ بابویہ القمی( 380ھ) نے ترتیب دیا، ان کا تیسرا اصول تہذیب الاحکام اور چوتھا الاستبصار فما اختلف من الاخبار ہے۔

صفحہ 2 از 3