فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت…

فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 4 از 4
اس عالیشان فضیلت اور بلند مرتبت کی وجہ سے اہلِ سنت والجماعت یک زبان ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عادل ہیں ان میں سے کسی ایک پر بھی جرح نہیں کی جا سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر کسی بھی جرح و قدح یا عیب اور طعن سے پاک کر دی تھی۔ یہ تمام کے تمام اس امت کے سردار اور قائد ہیں۔ یہ بات اس سے بھی پتا چلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو شرفِ صحبت کے لیے چن لیا تھا اور پھر ان کے پاکیزہ اور پاکباز ہونے کی خبر بھی تھی۔ یہی لوگ خیر القرون تھے اور وہ بہترین امت تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کیا تھا۔ اس سے بڑی تعدیل کوئی نہیں ہو سکتی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی اکرمﷺ‏ کے ساتھی بنانے اور آپﷺ‏ کی نصرت کا حق ادا کرنے کے لیے چن لیا تھا۔ اس سے بڑھ کر نہ ہی کسی کا کوئی تزکیہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ کامل کسی کی کوئی تعدیل ہو سکتی ہے۔
علامہ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
بلا شبہ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال کے متعلق بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ اہلِ حق اہلِ سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ تمام کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔
(الاستعیاب: جلد، 1 صفحہ، 103) 
محدث علامہ سلیمان العلوان اپنی کتاب (الاستنفار للذب عن الصحابہ الاخیار صفحہ، 20 پر) فرماتے ہیں:
بعض خواہشاتِ نفس کے مارے ہوئے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صحابیت صرف ایک مہاجر اور ایک انصاری کے لیے ثابت ہوتی ہے۔ تو اس صورت میں بعد میں آنے والوں کی عدالت صرف اسی طرح ثابت ہو سکتی ہے جس طرح کہ تابعین اور بعد میں آنے والے دوسرے لوگوں کی عدالت ثابت ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑی غلط بیانی ہے۔ اہلِ سنت والجماعت میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی بات نہیں کہی۔

صفحہ 4 از 4