فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت…

فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 3 از 4
اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود رہیں گے تو دین قائم رہے گا، اور حق کو غلبہ و استحکام نصیب ہو گا، دشمنوں پر فتح و نصرت ملتی رہے گی۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چلے جائیں گے تو أھواء پرستی کا دَور دورا ہو جائے گا اور دشمن کے دن پھر جائیں گے اور اس دین میں کمی آتی رہے گی۔ حتیٰ کہ حالت یہ ہو جائے گی کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ یہی وہ چیز ہے جس کا اس امت سے وعدہ کیا گیا ہے۔
(المفہم: جلد، 6 صفحہ، 485)
رسول اللہﷺ‏ کا فرمان ہے:
میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی مت دو۔ اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے، وہ ان میں سے کسی ایک کی مٹھی یا اس کے آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
(صحیح بخاری) 
علامہ شوکانیؒ نے اس حدیث پر بہت خوبصورت تبصرہ کیا ہے فرماتے ہیں:
اس حدیث میں مخاطب لوگ جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد آنے والے ہیں ان کا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا بھی اپنے متقدمین کی ایک یا آدھی مٹھی جو کے خرچ کو نہیں پہنچ سکتی تو ہمارے دور کے لوگوں کے بارے میں میرا خیال نہیں کہ ہمارا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا ان کے ایک دانہ یا آدھے دانہ کے خرچ کے برابر ثواب کو پہنچ سکتا ہو۔
(ارشاد السائل الیٰ دلیل المسائل: صفحہ، 45)
رسول اللہﷺ‏ نے فرمایا:
بہترین لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں۔ پھر جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ 
(أخرجہ البخاری، کتاب فضائل الصحابۃ باب فضل أصحاب النبیﷺ‏ ومن صحب النبیﷺ‏ أو رأہ من المسلمین فہو من أصحابہ: جلد، 3 صفحہ، 6 رقم، 3651 و مسلم فی صحیحہ فی کتاب فضائل الصحابۃ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونہم: جلد، 4 صفحہ، 1963) 
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت اور ان کے بہترین لوگ ہونے کے وصف پر یہ گواہی اس زبان سے مل رہی ہے جو اپنی مرضی سے بات تک نہیں کرتی وہ مبارک زبان جب گفتگو کرتی ہے تو اس سے وحی کے پھول جھڑتے ہیں۔ اب اس گواہی سے بڑھ کر کس کی گواہی اور کون سی تعدیل ہو سکتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول کتنا ہی خوبصورت ہے آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف اور تعارف میں فرماتے ہیں:
اے لوگو! تم میں سے جو کوئی سنت اختیار کرنا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ ان لوگوں کی راہ پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ۔ اس لیے کہ زندہ کو فتنہ سے محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ محمدﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جو تمام امت سے افضل لوگ ہیں۔ان کے دل سب سے نیک تھے۔ ان کا علم سب سے پختہ اور گہرا تھا، اور تکلف بالکل نہیں کرتے تھے۔ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ‏ کی صحبت اور اس کے دین کی اقامت کے لیے چن لیا تھا۔ ان کی فضیلت کو پہچانو، اور ان کے آثار کی پیروی کرو اور اگر تم استطاعت رکھو تو ان کے اخلاق اور دین کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ بیشک وہ لوگ صراطِ مستقیم پر قائم تھے۔ 
(ابنِ عبدالبر فی جامع بیان العلم و فضلہ: جلد، 2 صفحہ، 195)
اگر منصف انسان انتہائی انصاف پسندی کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اوصاف و خصائل و شمائل پر غور و فکر کرے گا تو پتہ چلے گا کہ حقیقت میں یہ مقدس جماعت علم و فضل، عدل و انصاف، جہاد و قتال اور خیر و بھلائی کے ہر کام میں سبقت لے گئے تھے۔ یہ اپنے سے پہلے والوں پر بھی سبقت لے گئے، اور بعد میں آنے والوں پر بھی اور دُور دُور تک اور رہتی دنیا تک ان کی فضیلت و برتری کا ڈنکا بجتا رہے گا۔ یہی جماعت تھی جن کی وجہ سے اسلام ہم تک پہنچا۔ ہر خیر و بھلائی اور ہدایت کی بات کی تعلیم اور سعادت و نجات کے حصول کا سبب یہی جماعت تھی۔ امت قیامت تک ان کے عدل و جہاد اور علم کے آثار پر کاربند رہے گی۔ کوئی بھی انسان کوئی علمی مسئلہ یا خیر و بھلائی کی بات ان کے علاوہ کہیں نہیں پا سکتا۔ یہ چیزیں تو ان کے ذریعہ سے ہی ہم تک پہنچی ہیں۔ زمین کے جس کسی کونے میں امن و امان ہے تو وہ ان کے جہاد اور فتوحات کے سبب سے ہے۔ کوئی بھی حاکم یا امام ان کی راہ چھوڑ کر عدل و انصاف سے فیصلہ نہیں کر سکتا، کیونکہ اس خیر و بھلائی کے امور ان تک پہنچنے میں اصل سبب یہی جماعت تھی۔ یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اگر شہروں کو تلواروں سے فتح کیا تو دلوں کو ایمان سے فتح کیا۔ شہروں اور ملکوں کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ دلوں کو علم و ہدایت سے معمور کر دیا۔ پس ان کے بعد آنے والے نیکی و بھلائی کے جتنے بھی کام کریں گے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے ساتھ اس نیک عمل میں برابر کے شریک ہیں اور ان کا یہ اجر قیامت تک بڑھتا ہی رہے گا۔ پس تمام تر تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو اپنی رحمت کے ساتھ جنہیں چاہتا ہے خاص کر دیتا ہے۔
(طریق الہجرتین: صفحہ، 648)
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ نے کتنی ہی خوبصورت بات کہی ہے، فرماتے ہیں:
جو کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کو علم و بصیرت کے ساتھ دیکھے گا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے کتنے ہی فضائل انعام کیے تھے، تو اسے پختہ یقین ہو جائے گا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے بہترین اور افضل ترین لوگ یہی ہیں۔ نہ ہی کوئی ان جیسا تھا اور نہ ہی ہو گا۔ وہ اس امت کے انتہائی بزرگ اور چنیدہ لوگوں میں سے تھے جس امت کو اللہ تعالیٰ نے بہترین اور عزت والی امت بنایا ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد، 3 صفحہ، 103) 
صفحہ 3 از 4