فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت…

فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 2 از 4
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہو گئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کاشت کار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کر لیا ہے۔  
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَنَا‌ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞
(سورۃ التحريم: آیت 8)
ترجمہ: اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہو گا۔ وہ کہہ رہے ہوں گے کہ: اے ہمارے پروردگار! ہمارے لیے اس نور کو مکمل کر دیجیے اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقیناً آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
فرمانِ الہٰی ہے:
وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِيۡكُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌ لَوۡ يُطِيۡعُكُمۡ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۞ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت 7، 8)
ترجمہ: اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسولﷺ‏ موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پُرکشش بنا دیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ 
اور فرمانِ الہٰی ہے:
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞
(سورۃ الحديد: آیت 10)
ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔  
اور فرمانِ الہٰی ہے:
قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ءٰۤللّٰهُ خَيۡرٌ اَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞(سورۃ النمل: آیت 59)
ترجمہ: (اے پیغمبر) کہو: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے؟  
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ کی تفسیر کے مطابق اس آیت سے مراد رسول اللہﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔
اور فرمانِ الہٰی ہے:
كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ‌ ۞
(سورۃ آل عمران: آیت 110)
ترجمہ: (مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ 
اس آیت سے استدلال کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ یا تو اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متعین طور پر مراد ہیں، یا پھر اس آیت میں اس پوری امت کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اگر پوری امت کی فضیلت ہے تو پھر اس میں سب سے پہلا شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہی ہو گا۔
اور فرمانِ الہٰی ہے:
وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ۞
(سورۃ البقرة: آیت 143)
ترجمہ: اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے۔ 
اس آیت سے استدلال بھی سابقہ آیت کی طرح ہے۔ بلکہ ہر وہ آیت اور حدیث جس میں اس امت کی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس میں سب سے پہلے اور بدرجہ اولیٰ داخل ہونے والی جما عت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہے۔ جب کہ حدیث شریف میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت کھلے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
نبی کریمﷺ‏ نے فرمایا:
ستارے آسمان کے لیے باعثث امن ہیں جب ستارے رخصت ہو جائیں گے تو آسمان سے جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا کر دیا جائے گا۔ اسی طرح میری ذات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے باعثِ امن و سکون ہے جب میں نہیں ہوں گا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موعود مصائب سے دو چار ہو جائیں گے۔ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میری امت کے لیے باعثِ امن ہیں جب میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رخصت ہو جائیں گے تو امن و امان اٹھ جائے گا۔ 
(مسلم: ح، 2531) 
امام ابوالعباس قرطبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
صفحہ 2 از 4