فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ - دفاعِ اہلِ سنت…

فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 1 از 4
یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عادل اور باقی امت کے تمام لوگوں سے افضل ہیں اور وہ اس امت کے چنیدہ و برگزیدہ لوگ تھے، جو کہ ایمان میں کامل اور حق و صواب کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ پوری امت میں فضیلت، نیکی اور درست رائے میں کوئی دوسرا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسا نہیں۔
(الدرۃ المضیۃ فی عقیدۃ الفرقۃ المرضیۃ مع شرحہا لوامع الأنوار: جلد، 2 صفحہ، 377)
اس عقیدہ پر تمام اہلِ اسلام کا اجماع ہے۔ اور اس بارے میں ان بھٹکے ہوئے گمراہ اہلِ بدعت فرقوں کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں جو اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔
علامہ ابنِ قیم رحمۃ اللہ اپنے قصیدہ نونیہ میں فرماتے ہیں:
تمام علمائے کرام کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انسانیت کے سب سے بہترین لوگ تھے۔ یہ عقیدہ ضروری طور پر معلوم ہے اور اس میں دو انسانوں کے مابین بھی کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا قول نقل کیا گیا ہے۔ 
(نونیۃ ابن القیم مع شرحہا توضیح المقاصد لابن عیسیٰ: جلد، 2 صفحہ، 461) 
اہلِ سنت والجماعت کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں ان کی عدالت کے متعلق پوچھ گچھ یا سوال کرنا جائز نہیں۔ 
امام نوویؒ فرماتے ہیں:
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عدول ہیں۔ وہ بھی جو فتنوں میں مبتلا ہوئے اور دوسرے بھی۔ اس پر تمام معتمد علماء کا اجماع ہے۔ 
(تقریب النووی: صفحہ، 214) 
حافظ ابنِ صلاح رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
تمام امت کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عادل ہونے پر اتفاق ہے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی عادل ہیں جو کہ فتنوں میں مبتلا ہوئے اور دوسرے بھی۔
(الحدیث والمحدثون: صفحہ، 129)
علامہ خطیب بغدادیؒ فرماتے ہیں:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ سے ثابت ہے۔ اب ان کے متعلق کسی سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔ عدالت کا سوال ان کے بعد کے لوگوں کے متعلق کیا جائے گا۔
(الکفایۃ فی علم الروایۃ: صفحہ، 46) 
اہلِ سنت والجماعت کا ان سے محبت اور دوستی رکھنے پر اتفاق ہے اور اس میں اہلِ بدعت کے علاوہ کوئی اس عقیدہ کا مخالف نہیں ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل کے دلائل بہت زیادہ ہیں۔ کتاب اللہ اس بزرگ جماعت کی مدح و تعریف میں خوشبووں کے جھونکے بکھیر رہی ہے۔ اس لیے کہ دلوں کے راز جاننے والے اللہ تعالیٰ علام الغیوب اور علیم بذات الصدور کو ان کی صداقت اور ایمان کی درستگی، خالص محبت، وافر عقل، پختہ رائے اور کمال خیر خواہی، امانت داری اور اصلاح کا علم تھا۔
ان قرآنی دلائل میں سے ایک یہ فرمانِ الہٰی ہے:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
سورۃ انفال میں فرمانِ الہٰی ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت 72)
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے، وہ اور جنہوں نے ان کو (مدینہ میں) آباد کیا اور ان کی مدد کی، یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ 
یہاں تک کہ آگے چل کر فرمایا:
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت 74)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔
اور فرمانِ الہٰی ہے:
لَـقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِىۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ‌ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞
(سورۃ التوبة: آیت 117)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبیﷺ‏ پر ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے ایسی مشکل کی گھڑی میں نبی کریمﷺ‏ کا ساتھ دیا، جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں، پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ یقیناً وہ ان کے لیے بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔
اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا ایک فرمان یہ بھی ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞
(سورۃ الفتح: آیت 29)
صفحہ 1 از 4