شعر و لغت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شعر و لغت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 222)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کے دوران بصرہ میں بہت سارے نحوی علماء کا ظہور ہوا، ابو الاسود الدؤلی وہ پہلا نحوی عالم ہے جس نے بصرہ میں علم نحو کی بنیاد رکھی اور عربی زبان کے قواعد وضع کیے، اس زمانہ میں سرداران قوم اور رؤساء اعرابی غلطیوں کے مرتکب ہوا کرتے تھے، لہٰذا انہوں نے فاعل، مفعول، مضاف، رفع، نصب، جر اور جزم

(طبقات النحویین: زبیدی: صفحہ 21۔ الحیاۃ العلمیۃ فی العراق: صفحہ 104) دینے والے حروف کے ابواب وضع کیے اور علم نحو میں ایک کتاب لکھی۔

(الشعر و الشعراء: جلد 7 صفحہ 729)

ابو الاسود نحوی ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے، ان کے چند مشہور اشعار ملاحظہ فرمائیں:

یا ایہا الرجل المعلم غیرہ

ہلا لنفسک کان ذا التعلیم

تصف الدواء لذی السقام و ذی الضنا

کیما یصح بہ و انت سقیم

و نراک تصلح بالرشاد عقولنا

ابدا و انت من الرشاد عدیم

ابدأ بنفسک فانہہا عن غیہا

فإذا انتہت عنہ فانت حکیم

فہناک یسمع ما تقول و یہتدی

بالقول منک و ینفع التعلیم

لا تنہ عن خلق و تاتی مثلہ

عار علیک اذا فعلت عظیم

(الادب الاسلامی و تأریخہ: عابد الہاشمی: جلد 2۔صفحہ 17)

’’دوسروں کو تعلیم دینے والے یہ تعلیم تیرے لیے کیوں نہیں ہے؟ تو بیماروں اور کمزوروں کو تندرست کرنے کے لیے علاج تجویز کرتا ہے جبکہ تو خود بیمار ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمیشہ ہماری عقلوں کی رشد و ہدایت سے اصلاح کرتا رہتا ہے، حالانکہ تو خود اس سے محروم ہے۔ پہلے اپنے آپ سے آغاز کر اور اپنی ذات کو گمراہی سے روک جب تیری ذات اس سے باز آ جائے گی تو تو حکیم کہلائے گا۔ اس وقت تیری بات سنی بھی جائے گی اور اس سے راہنمائی بھی لی جائے گی اور پھر تعلیم بھی نفع بخش ہو گی۔ دوسروں کو اس کام سے منع نہ کر جو تو خود کیا کرتا ہے اگر تو یہ کام کرے گا تو یہ تیرے لیے باعث عار ہو گا۔‘‘

زہد کے بارے میں اس کے چند اشعار ہیں:

و اذا طلبت من الحوائج حاجۃ

فادع الإلہ و أحسن الاعمالا

فلیعطینک ما اراد بقدرۃ

فہو اللطیف لما اراد فعالا

و دع العباد و شانہم و امورہم

بید الالہ یقلب الاحوالا

(الادب الاسلامی و تاریخہ: جلد 2 صفحہ 17 دیوان ابی الاسود الدؤلی)

’’اگر تجھے کوئی ضرورت درپیش ہو تو الہ العالمین سے دعا کر اور نیک اعمال کر۔ وہ جو چاہے گا اپنی قدرت سے تجھے عطا کرے گا، وہ باریک بیں ہے جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ لوگوں کو چھوڑ اور ان کے معاملات کو ترک کر سب کچھ الہ العالمین کے ہاتھ میں ہے وہی احوال کو تبدیل کیا کرتا ہے۔‘‘


صفحہ 2 از 2