رضاعت پر شیعہ کا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض…

رضاعت پر شیعہ کا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض کے جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

سہلا بنت سہیلؓ جو کہ ابو حذیفہؓ کی بیوی تھیں اور عمر ابن لوئے کے قبیلے میں سے تھیں، ایک دن رسول اللہﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ ہم سالمؓ کو اپنا بیٹا سمجھتے ہیں اور وہ اس وقت بھی میرے پاس آ جاتا ہے جب کہ میں نے پردہ نہیں کیا ہوتا، اور ہمارے پاس صرف ایک کمرہ ہے، آپﷺ ہماری اس حالت کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے؟حضورﷺ نے فرمایا: کہ اسے پانچ دن اپنا دودھ دو جس سے وہ تمہارا محرم بن جائے گا، جس کے بعد سہلا رضی اللہ عنھا نے حضرت سالمؓ کو اپنا رضاعی بیٹا سمجھا(موطا امام مالک: حدیث 1113)

اس سے پوری بات کی سمجھ آ جاتی ہے حضرت حذیفہؓ نے حضرت سالمؓ کو گود لیا اور وہ اور ان کی بیوی دونوں سالمؓ کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، سالمؓ کا معاملہ بھی زید بن حارث والا تھا، حضرت زیدؓ کو سیدنا خدیجہؓ کی موجودگی میں گود لیا گیا تھا، لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات سورۃ الاحزاب کی پردے کے متعلق آیات سے پہلے ہو چکی تھی اور دوسری بات یہ کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والدین کا پتہ تھا لیکن سالم کے آباء و اجداد کا کچھ پتہ نہیں تھا (طبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ87) جب سورۃ الاحزاب نازل ہوئی تو دو مسئلے سامنے آئے، آیت نمبر پانچ کے مطابق گود لیے جانے والے بچوں کو ان کے والد کے نام سے تعارف کرایا جائےاور اگر والد کا نہ پتہ ہو تا انہیں بطور اپنا بھائی متعارف کروایا جائے اور آیت 59 میں خواتین کے لیے پردے کا حکم دیا گیا۔ آیت 5 کی روشنی میں سالمؓ کو مولا ابو حذیفہ کہا گیا اور ہر جگہ سالمؓ کا تعارف اسی طرح ہی کرایا گیا ہے اور دوسرا مسئلہ پردے کے حوالے سے تھا، اور سالم کے بالغ ہونے کے بعد اس کا اپنی منہ بولی والدہ سے ملنے جانے کا مسئلہ سامنے آیا، سہلا ؓ نے اپنا مسئلہ حضرت محمدﷺ کے سامنے پیش کیا اور آپﷺ نے سالم کو ان کا بیٹا سمجھتے ہوئے ایک راستہ بتایا۔

اب جب کہ حجاب اور گود لینے کے حوالے سے پہلے ہی احکامات موجود ہیں اس لیے اب یہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا اب اگر تو گود لیا جانے والا بچہ شیر خوار ہو گا تو وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا اور اگر گود لیا جانے والا بچہ بالغ ہو گا تو شروع سے ہی پردے کے احکامات پر عمل کیا جائے گا۔

 ابو حذیفہؓ کی ناگواری کی وجہ: 

حدیث کی عبارت یہ کہتی ہے کہ حضرت سالمؓ کا سیدنا سہلا ؓکو بغیر پردے کی حالت میں ملنا ابو حذیفہؓ کو ناگوار گزرتا تھا(صحیح مسلم: 2638) اور ایسا اس وقت ہوا جب سالمؓ بالغ ہوئے (مسلم: 2638)

 اور سورۃ الاحزاب کی آیات نازل ہوئیں (موطا: 1113) 

 لیکن موطا کی روایت یہ بھی کہتی ہے کہ ابو حذیفہؓ اور حضرت سہلا رضی اللہ عنہا، سیدنا سالمؓ کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے اس لیے ابو حذیفہؓ کی ناگواری صرف اس وجہ سے تھی کہ ان کے مطابق ایسا کام ہو رہا تھا جو قرآن کے احکامات کے مطابق درست نہیں تھا اور سوائے اس کے ان کی ناگواری کی کوئی اور وجہ نہیں تھی اور عملی طور پر جب اس مسئلے کا حل ڈھونڈ کر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو ساتھ ہی ابو حذیفہؓ کے چہرے سے ناگواری بھی ختم ہو گئی،

 اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ابو حذیفہؓ جو سالمؓ کے دیکھنے سے اتنی ناگواری محسوس کر رہے تھے چھاتیوں سے دودھ پلانے کا حل ان کے لیے کیسے قبول کرسکتے تھے، نہ ہی رسول اللہﷺ جسمانی طور پر مس کرنے کی اجازت دے سکتے تھے۔ آپﷺ نے روٹین سے ہٹ کر اس مسئلے کا جو حل بتایا وہ ان تینوں کے مخصوص قلبی اور گہرے تعلق (منہ بولا بیٹا ) کی وجہ سے تھا (موطا: 1113) 

اور چونکہ وہ اس کو احکامات نازل ہونے سے پہلے گود لے چکے تھے اس لیے انہیں ایک خصوصی رعایت دی گئی۔

خلاصہ اور نتیجہ:

حضرت سالمؓ ابو حذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام ابو حذیفہؓ کے منہ بولے بیٹے تھے ابو حذیفہؓ اور ان کی بیوی حضرت سہلا ؓدونوں ہی سالمؓ کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے اور حضرت سالمؓ اپنی منہ بولی ماں سے ملنے بغیر پردے کے ان کے پاس جایا کرتے تھے اور جب حجاب کا حکم نازل ہوا تو ابو حذیفہؓ کو بغیر پردے کے یہ ملنا ناگوار گزرا۔ اسی لیے حضورﷺ نے انکے اس معاملے کی تفصیلات کو دیکھتے ہوئے انہیں خصوصی رعایت دی۔ اس رعایت پر عمل کرتے ہوئے ان دونوں کے درمیان جسمانی تعلق نہیں تھا، دودھ ایک پیالے میں لایا جاتا تھا، جسے حضرت سالمؓ پی لیتے تھے۔ اب جب کہ گود لینے اور پردے کے متعلق احکامات موجود ہیں تو اس رعایت پر عمل کرنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا اس پر تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، فقہ کے چاروں مکاتب اورتقریبا تمام بڑے علماء کا اجماع ہے۔

الواقدی کی روایت کی حیثیت:

محمد بن عمر الواقدی ان راویوں میں سے ہیں جن کی سندی حیثیت پر علماء میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک طرف بہت سے لوگوں نے ان پر سخت تنقید کی ہے وہیں بہت سے لوگوں کی جانب سے انہیں قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے ایک طرف لوگوں نے واقدی کو جھوٹا کہا ہے اور دوسری طرف لوگوں نے واقدی کی تعریف کی ہے۔

الدراوردی تو واقدی کو حدیث میں ایمان والوں کا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ (دیکھیے تہذیب الکمال)

یہ مختلف آراء ہمارے جیسے طالب علموں کو پس و پیش میں ڈال دیتی ہیں تاہم کچھ علماء ابن حجر، الذہبی، اور ابنِ کثیرؒ نے تمام آراء کا احتیاط سے جائزہ لیا ہے اور ایک درمیانی راہ نکالی ہے

علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: 

اس نے جمع کیا اور مکھن کو چربی کے ساتھ اور کنکریوں کو موتیوں کے ساتھ شامل کر دیااس لیے اُسے نظر انداذ کر دیا گیا ہے، اس کے باوجود جنگوں کے بارے میں موجود روایتوں کے حوالے سے اور اصحاب اور ان کی زندگیوں کے حوالے سے روایتوں میں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ (سير أعلام النبلاء: جلد 9 صفحہ 454 ،455 )

ابن حجرؒ کہتے ہیں:

 جب واقدی مصدق روایات کی نفی نہیں کرتا، یا جنگوں کے راویوں کی نفی نہیں کرتا تو اس کو مغازی میں قبول کیا جا سکتا ہے، اور اللہ بہتر جاننے والا ہے(تلخیص الہبیر: جلد 3 صفحہ 343)

اور اس سے پہلے ابن کثیرؒ کہتے ہیں:

صفحہ 2 از 3