کیا شیعہ علماء نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح…

کیا شیعہ علماء نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح اور محبت میں اپنے ائمہ کے عقیدے کی اتباع کی ہے؟ اختصار سے بیان کریں۔

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 2

(كتاب الخصال: صفحہ، 640،639 حديث نمبر: 15 باب الواحد الى المائة بحار الانوار: جلد، 22 صفحہ، 305 ح، 2 باب فض المہاجرين والانصار و سائر الصحابة والتابعين و جمل احوالهم) 

تعلیق: الله تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں کئی مواقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف و ثناء بیان کرتے ہوئے ان سے اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے مثال کے طور پر الله تعالیٰ نے فرمایا:

وَ السَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهْجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ الخ۔ 

(سورۃ التوبة: آیت، 100)

ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں الله تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔

تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے برابر نہیں بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے، ہاں بھلائی کا وعدہ تو الله تعالیٰ کا ان سب سے ہے۔

اور الله تعالیٰ فرماتے ہیں:

مُّحَمَّدٌۭ رَّسُولُ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًۭا سُجَّدًۭا يَّبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًۭا الخ (سورۃ الفتح: آیت، 29)

ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجدے کر رہے ہیں الله تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں۔ 

اللّٰه تعالیٰ فرماتے ہیں:

لَّقَدْ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَـٰبَهُمْ فَتْحًۭا قَرِيبًۭا۝

(سورۃ الفتح: آیت، 18)

ترجمہ: یقینا الله تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے، جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اس نے معلوم کر لیا، ان پر اطمینان وسکون نازل کیا اور انہیں قریبی فتح سے نوازا۔ نیز فرمایا:

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًاوَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ۝

(سورۃ الحشر: آیت، 8)

ترجمہ: ان تنگدست مہاجرین کے لیے جن کو اپنے گھر بار سے نکالا گیا وہ الله تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضا مندی چاہتے ہیں۔ اور الله تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔

(اور اس قسم کی دیگر آیات قرآنیہ۔ پس کسی مسلمان کے لیے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ جو چیز ہمیں قرآنی دلائل کی روشنی میں یقینی طور پر معلوم ہے اسے ہم ان جھوٹی روایات کی وجہ سے رد کر دیں۔ جن روایات کا گھڑنے والا نہ ہی الله تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہے اور نہ ہی الله تعالیٰ کے وقار و عزت کا خیال رکھتا ہے)


صفحہ 2 از 2