صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و ازواج مطہرات رضی اللہ…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں شیعہ کے کفریہ عقائد


صفحہ 1 از 3

میرے محترم دوستو!

قدسیوں کی اُس جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تقدیس و تعدیل پر ہمارے افکار و نظریات، ہمارے قرآن، ہمارے سنت، اور ہمارے تمام اسلامی نظام کا مدار ہے۔ وہ دین اور شریعت کی اساس ہیں۔ وہ ہمارے قرآن کی صداقت اور ہمارے پیغمبرﷺ کی حقانیت کے گواہ ہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے دین کے سرکاری گواہ ہیں۔ جن کی عدالت اور صفائی خود اللہ رب العزت اور نبی اکرمﷺ نے فرمائی ہیں۔ قرآن و سنت اور دین و شریعت کے نام سے جو کچھ بھی ہمارے پاس ہیں وہ اسی قدسی جماعت کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے۔ ان کی بے انتہا قربانیوں اور کوششوں کے نتیجہ میں ہمیں کفر و شرک اور ظلم و ضلالت کی ظلمتوں کی جگہ ایمان ویقین اور عدل و انصاف کی روشنی نصیب ہوئی ہے۔

اگر دین کے یہ اولین محافظ بقول شیعہ کے منافق، سازشی، خود غرض یا اقربا پرور اور (معاذ الله) جابر و ظالم تھے تو جو دین اور شریعت اور جو کتاب و سنت ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے ہم تک پہنچی اور جس پر دین کی عمارت کھڑی ہوئی ہے، یہ ساری عمارت اور سارا ڈھانچہ خود بخود دھڑام سے گر پڑے گا۔

پس یہ کیسی بدبختی اور شقاوت کی انتہا ہے کہ آج شیعیت اسلام کے انہی بنیادوں پر تیشہ چلا رہے ہیں، اور آج پوری دنیائے شیعیت اسلام کا دعویٰ کر کے اپنی ساری قوت گویائی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعدیل و تقدیس کو مجروح کرنے میں خرچ کر رہی ہیں۔

غیر تو غیر، اپنوں میں سے بھی اگر کوئی اُٹھ کر دین اسلام کے ان ستونوں کو گراتا ہے، ان کی عدالت مجروح کرنے کی مذموم کوشش کرتا ہے، ان کی عظمت اور تقدس کو داغدار کرنا چاہتا ہے تو ہم اسے ملی خود کشی اور اپنے دین اور اپنے پیغمبر اور اپنی شریعت سے دشمنی ہی سمجھیں گے اور پوری خیر خواہی، اخلاق اور خدا ترسی سے اُس ہاتھ، اُس قلم اور اُس زبان کو روکنے کی کوشش کریں گے۔

دردمندانِ اسلام اور علمائے حق کا اولین فریضہ ہے کہ وہ متفق ہو کر اس کفر کا راستہ روکنے کی کوشش کریں۔

میرے محترم مسلمان بھائیو!

اُمتِ مسلمہ کا اجماعی اور قطعی فیصلہ ہے کہ روئے زمین پر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام و مرتبہ سب سے اعلیٰ و افضل ہے، کیونکہ یہ منصب اور عہدہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی خوش قسمت انسان کو ہی ملتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی تکفیر کریں تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔

شیعہ مذہب کے بنیادی عقائد میں جہاں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین شامل ہیں، وہاں خود حضور اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے ساتھ ساتھ پورے دین اسلام کے انہدام کی سازش بھی ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد (بقول شیعہ مذہب کے) اگر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نعوذ بالله کافر کہہ دیا جائے تو پھر حضور اکرمﷺ کو ناکام نبی ثابت کرنا اور دینِ اسلام کے تمام احکامات کے خاتمے کا اعلان کرنا کوئی دشوار کام نہیں رہ سکتا، دراصل یہی شیعہ مذہب کے وجود کا مقصدِ اعظم ہے۔

چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی حضور اکرمﷺ کی نبوت اور آپ کے دین کے عینی شاہد اور چشم دید گواہ ہیں اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ جب کسی مقدمہ کے چشم دید اور اصل گواہان کو جھوٹا ثابت کر دیا جائے تو وہ مقدمہ اور دعویٰ خود بخود جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔

چنانچہ دینِ اسلام کی اس سازش کے لئے مذہب شیعہ کو وجود میں لایا گیا، اب اگر حضور اکرمﷺ کی نبوت اور آپﷺ کے لائے ہوئے دین اسلام کے چشم دید گواہوں کو ہی معاذ اللہ مرتد، کافر اور منافق کہہ دیا جائے تو پھر آپﷺ کی نبوت، آپ کے لائے ہوئے دین، کلمہ، نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور قرآن کے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، بلکہ یہ تمام چیزیں خود بخود غلط اور جھوٹ ثابت ہو جاتی ہیں۔

یہی وہ بدبخت اور لعین ترین طبقہ ہے جو حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دینا لعنت بھیجنا تو درکنار بلکہ ان کی توہین اور تکفیر کرنا نہ صرف جائز بلکہ دین کا حصہ اور اہم عبادت قرار دیتے ہیں۔

میرے محترم قارئین کرام!

شیعوں کا عقیدہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ازواج مطہراتؓ کے بارے میں کیا ہے؟ شیعہ کے معتبر ترین کتب سے چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 1 از 3