کیا شیعہ علماء میں ائمہ کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا…

کیا شیعہ علماء میں ائمہ کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 2

اے ابو حمزہ! بے شک ہم میں سے القائم کے بعد سیدنا حسینؓ کی اولاد سے گیارہ مہدی ہوں گے۔

(كتاب الغیبة للطوسی صفحہ، 309 فصل فی ذكر طرفة من صفاته مختصر بصائر الدرجات صفحہ، 110 ح، 110 الكرات حالاتها وماء فيها)

پڑے خاک تو جل جائیں جل جانے والے:

شیعہ نے یہ روایت بیان کی ہے کہ سیدنا علیؓ اوصیاء کے آخری وصی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے بعد کوئی وصی نہیں ہے۔ یہ روایت ان کی مذہبی بنیادوں میں زلزلہ برپا کر کے شیعیت کی عمارت کو انہی پر منہدم کر دینے والی ہے۔ اس روایت میں شیعہ احمقوں نے سیدنا علیؓ پر الزام تراشی کی ہے کہ انہوں نے فرمایا میں اللہ کا امین ہوں، میں اس کا خازن اور راز دان ہوں۔ میں اس کا حجاب، اس کا چہرہ، اس کا راستہ اور اس کا میزان ہوں۔ میں اس کی طرف لوگوں کو جمع کرنے والا ہوں۔ میں اس کا وہ کلمہ ہوں جس کے ساتھ منتشر جمع ہوتے اور مجتمع کو منتشر کیا جاتا ہے۔ میں اس کے اسمائے حسنیٰ اور اعلیٰ مثال ہوں اور اس کی عظیم نشانی ہوں۔ اہلِ جنت کی شادی اور اہلِ جہنم کا عذاب میرے سپرد ہے۔ ساری مخلوق کو لوٹانے کا کام بھی میرے ہاتھ میں ہے۔ تمام مخلوق کا حساب بھی میں کروں گا۔ میں امیر المؤمنین، متقین کا سردار، سابقین کی نشانی، ناطقین کی زبان، خاتم الوصیین وارث النبین اور رب العالمین کا خلیفہ ہوں۔ میں اپنے رب کا سیدھا راستہ اور اس کا انصاف ہوں۔ میں زمین و آسمان اور ان کے درمیان والی ہر مخلوق پر اللہ کی حجت ہوں۔ میں ہی وہ ہستی ہوں جس کے ساتھ اللہ نے تمہاری پیدائش کی ابتداء میں تم پر حجت قائم کی۔ میں جزا کے دن شاہد ہوں گا۔ مجھے ہی اموات اور مصائب کا علم عطا کیا گیا۔ مجھے فیصلہ کن حکمت اور علم انساب دیا گیا ہے۔ میں ہی وہ ہستی ہوں جس کے لیے بادل، گرج، چمک، قلم، ظلم و اندھیرے، روشنیاں، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، ستارے اور چاند کو مسخر کیا گیا ہے۔ میں ہادی ہوں۔ میں نے ہی ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے۔ میں ہی ہوں جس کو پروردگار عالم نے اپنا نام، اپنا کلمہ، حکمت علم اور فہم و بصیرت سے نوازا ہے۔ (كتاب الرجعة: صفحہ، 205)

تعلیق: اگر یہ ساری صفات سیدنا علیؓ کی ہیں تو شیعہ علماء نے اللہ رب العالمین کے پاس کیا چھوڑا ہے؟ 

وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِ وَٱلۡأَرۡضُ جَمِيعًا قَبۡضَتُهُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِ وَٱلسَّمَـٰوَٲتُ مَطۡوِيَّـٰتُۢ بِيَمِينِهِ سُبۡحَـٰنَهُ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ۝

(سورة الزمر: آیت، 67)

ترجمہ: اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے، وہ پاک ہے اور اس شرک سے بالاتر ہے جو وہ کرتے ہیں۔


صفحہ 2 از 2