عبارات مغلظه از کتاب حکومت اسلامی اردو ترجمه تالیف خمینی…

عبارات مغلظه از کتاب حکومت اسلامی اردو ترجمه تالیف خمینی صاحب ناشر مکتبه رضا 14 /476 فیدرل بی ایریا کراچی

  ابوریحان ضیاء الرحمن فاروقی

صفحہ 2 از 5

12۔ دیانت امانت سیدنا عمرؓ کے دل سے اس طرح غائب تھی جس طرح گدھے کے سر سے سینگ احکامِ شریعت اس کے عہدہ خلافت میں فٹ بال کی طرح تھے جس کو ٹھوکروں سے جدھر چاہتا لے جاتا (صفحہ 234)۔

13۔ قرآنِ پاک کو سر پر رکھ کر اور ہاتھ اٹھا کر قسم کھانا اور پھر بدل دینا سیدنا عثمان غنیؓ کی عادت میں داخل تھا (صفحہ 305)۔

14۔ سیدنا معاویہؓ ولد زناد تھا (صفحہ 228)۔

15۔ اصحابِ ثلاثہؓ کفر میں پیدا ہوئے کفر میں پرورش پائی اور کفر میں فوت ہوئے (صفحہ 23)۔

16۔ رسول پاکﷺ کے سوا تمام انبیاءؑ اور ملائکہ آپؓ (سیدنا علیؓ) کے آستانے عالیہ کے ادنیٰ غلام ہیں۔(صفحہ35)۔

17۔ امام بخاریؒ کو خدا اور رسولﷺ‎ کا دشمن کہنا عین کفر ہے (صفحہ 52)۔

عبارت مغلظہ از کتاب "صرف ایک راستہ" مصنف عبد الکریم مشتاق ناشر ناشر رحمت اللہ بک ایجنسی موتن مارکیٹ بالمقابل نیو میمن مسجد ایم اے جناح روڈ کراچی۔

شریر منافقوں کی تفریق بازی سے بعد وفاتِ رسولﷺ‎ اختلاف کی آگ بھڑک اٹھی:

عبارت: امت محمدیہﷺ میں شریر منافقوں نے تفرقہ بازی کا ایسا زہریلا بیج بویا جس کی وجہ سے وفاتِ رسولﷺ ہوتے ہی اختلافات کی آگ بھڑک اٹھی اور اس دن سے آج تک باہمی اختلافات کے سلسلے میں شدید نبرد آزمائیاں ہوتی رہیں نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ محاسن تعلیماتِ اسلام سے مستفیض نہ ہوسکے۔

حیاتِ رسولﷺ‎ میں ذاتی الغراض پر رکھی ہوئی تحریک نے وفاتِ رسولﷺ کے بعد انقلاب پیدا کر دیا:

عبارت:  لیکن وفاتِ رسولﷺ کے بعد اس تحریک نے انقلاب پیدا کر دیا یہ کہ آنحضرتﷺ کی حیات ہی میں ذاتی اغراض کو مدنظر رکھے ہوئے تھی اور آپﷺ کے قائم کردہ نظام کے خلاف نہ صرف درون پردہ بلکہ بعض اوقات ظاہراً بھی سرگرم عمل رہتی تھی لیکن جب اس تحریک کو کامیابی ہوئی اور اس کا اقتدار مستحکم ہوتا چلا گیا تو اسلامی و غیراسلامی اصول اس قدر شیر و شکر ہوگئے کہ امتیاز کرنا دشوار ہوگیا (صفحہ 323)۔

عبارت مغلظہ از کتاب آگ خانہ بتول پر مصنف عبدالکریم مشتاق ناشر حسین علی بکڈ پو بمبئی بازار نزد خواجہ اثناء عشری مسجد کھارا ادر کراچی

عبارت: خلافتِ سیدنا ابوبکرؓ ہرگز حق نہ تھی بلکہ اس کی بناء غضب ظلم و جور اور تشدد کی سیاست پر تھی (صفحہ 44)۔

شاید روز محشر شیطان بھی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی بداعمالیوں کا جدول اٹھائے میدان میں آنکلے اور اپیل رحم کر دے:

عبارت: اور تمہیں شمس و قمر ایسے چڑھے کہ دنیوی حکومت اور وجاہت کے حصول کی خاطر انہوں نے وہ چاند چڑھائے کہ جس سے انسانیت کی آنکھ کی روشنی جاتی رہی عدالت انسانیت کا گریبان چاک ہوگیا اور احسان فراموشی جیسے بدترین اور قابلِ مذمت عمل کے مرتب ہوئے شاید روز محشر شیطان بھی ان بداعمالیوں کا جدول اٹھائے میدان میں آئے گا اور اپیل رحم داخل کرے (صفحہ 48)۔

سیدہ عائشہؓ کی مفسدانہ باغیانہ شریرانہ حرکات:

عبارت: ایسی حکم عدول خاتون کی باغیانہ مفسدانہ اور شریرانہ حرکات سے چشم پوشی کرنا گناہ عظیم ہے ( صفحہ 79)۔

عبارات. مغلظہ از کتاب مقاِم عمر مصنف علی اکبر شاہ ساجد اکیڈمی یوسف پلازہ 133 کراچی۔

کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں افراد صحابیت کی وجہ سے عادل اور قابلِ تقلید ہو جائیں:

عبارت: مسلمان سمجھتے ہیں کہ ہزاروں آدمی جو اسلام لائے اور مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے اور رسول اللہﷺ کی صحبت اٹھائی چاہے وہ مختصر ترین ہی رہی ہو صحابی ہوئے مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں افراد محض اس صحابیت کی وجہ سے عدل و قابلِ تقلید ہوجائیں (صفحہ 10)۔

سیدنا عمرؓ سے بدگمانی رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا:

عبارت: جہاں تک سیدنا عمرؓ کا سوال ہے تو اگر ان سے بدگمانی رکھی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپؓ کے ذریعے سے اصل دین تو بہت کم پہنچا آپؓ نے خود کل 70 حدیثیں روایت کیں اور دوسروں کو اشاعت حدیث سے منع کیا ( صفحہ 12)۔

سیدنا خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا اور ان کی حسین بیوی سے زنا کیا تھا:

عبارت: سیدنا عمرؓ سیدنا خالد بن ولیدؓ کے لیے تو سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے ہی پڑ گئے کہ انہیں معزولی کر دیجئے مگر سیدنا ابوبکرؓ انکار ہی کرتے رہے حالانکہ سیدنا خالدؓ نے بے گناہ مالک بن نویرہؓ کو قتل کیا تھا اور اس کی حسین بیوی کے ساتھ زنا کیا تھا (صفحہ 15)۔

سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی میں قدم قدم پر پچھتاوا ملے گا:

عبارت: مگر بات صرف مقدمات کے فیصلے کی نہیں ہے سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی میں تو قدم قدم پر پچھتاوا ملے گا (صفحہ 183)۔

عبارات مغلظہ از کتاب شیخ شقیفہ مصنف علی اکبر شاہ شائع کردہ ساجد اکیڈمی 133 اے بی یوسف پلازہ فیڈرل بی ایریا کراچی۔ 

رسول اللہﷺ کے قریب رہنے والوں کا ایک اور گروہ بھی تھا جس کے اپنے منصوبے تھے:

اپنی مصلحتیں تھیں لیکن بظاہری شمع رسالت کے پروانے بنے ہوئے تھے اس کے سرخیل سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ تھے (صفحہ 8)۔

سیدنا ابوبکرؓ کی کوئی دینی حیثیت نہیں تھی کہ ان پر تحقیق اور بے لگام گفتگو کرنا جرم ہو یا اس سے دین میں نقص پیدا ہوتا ہو (صفحہ 8)۔

سیدنا ابوبکرؓ نے تحت حاصل کرنے کے لیے بے رحم بادشاہوں کی سنت پر ہی عمل نہیں کیا بلکہ اپنے عمومی رویہ حکمرانی میں بھی مطلق العنان بادشاہوں کی جھلک نظر آتی ہے بعض موقع پر تو آپ ہلاکوخان اور چنگیز خان کے قبیلے والے لگتے تھے (صفحہ10)۔

سیدنا ابوبکرؓ پر حصولِ خلافت کے جذبات اس طرح طاری تھے کہ رسول اللہﷺ سے تمام عمر کی یاری کے باوجود ان کے دل میں آنحضرتﷺ کی جدائی کا غم ذرا بھی جگہ نہ پاسکا اور ان کا رفیق قلب رقت پر آمادہ نہ ہوسکا (صفحہ 87)۔

عبارات مغلظہ از کتاب احتساب مصنف علی اکبر شاہ ناصر ساجد اکیڈمی 33 اے بی یوسف پلازہ 

بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر منافقین کی طرح جنگِ احزاب میں لرزا طاری تھا؟

عبارت: جنگِ احزاب میں تو مسلمانوں پر مارے خوف کے لرزہ طاری تھا بات صرف منافقین یا عام مسلمان کی نہیں ہو رہی بلکہ ان بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ہو رہی ہے جن کے ڈنکے بج رہے ہیں (صفحہ 9)۔

سیدنا عمرؓ کا تلوار نکال کر کہنا کہ محمدﷺ مرے نہیں شدت غم کی وجہ سے بلکہ یہ سب ڈھونگ تھا:

صفحہ 2 از 5