دولت امویہ کا دار الحکومت اور شام کے فضائل میں احادیث رسول…

دولت امویہ کا دار الحکومت اور شام کے فضائل میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اہل مغرب ہمیشہ غالب رہیں گے۔‘‘

(مسلم فی الامارۃ)

امام احمدؒ فرماتے ہیں: اہل مغرب اہل شام ہیں۔

  (الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 47 )

یہ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں مقیم تھے، لہٰذا جو علاقے اس سے مغرب کی طرف واقع تھے وہ آپ سے مغرب کی طرف تھے اور جو مشرق کی طرف واقع تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرق کی طرف تھے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 273)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر سے مطلع فرمایا کہ ان کی امت سے حق پر قائم طائفہ منصورہ مغرب میں ہو گی۔ مغرب سے مراد شام اور اس کے مغربی علاقہ جات ہیں۔

اہل مدینہ، اہل شام کو اہل مغرب کہا کرتے تھے۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہل مغرب کے امام ہیں۔

(بخاری: رقم: 447)

پھر جب نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے حق کے ساتھ قائم جماعت کو نہ تو ان کے مخالفین کی مخالفت کوئی نقصان پہنچا سکے گی اور نہ انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے والوں کی بے مددگاری۔ تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے معارض نہیں ہے: ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘

(مسلم فی الزکوٰۃ)

اور نہ یہ خوارج ہی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہی متصادم ہے کہ ’’انہیں وہ جماعت قتل کرے گی جو دو جماعتوں میں سے حق سے زیادہ قریب ہو گی۔‘‘

(مسلم فی الامارۃ)

ان نصوص میں تطبیق دینا ضروری ہے، مگر اس کی صورت کیا ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: اہل مغرب ہمیشہ غالب رہیں گے۔‘‘

(مسلم فی الامارۃ)

اور اس جیسی دیگر نصوص جو اہل شام کے ظہور و انتصار پر دلالت کرتی ہیں، تو یہ امر واقع ہے، اس لیے کہ وہ ہمیشہ غالب رہے اور ان کی مدد کی جاتی رہی۔

(الفتاویٰ:جلد 4 صفحہ 274)

رہا آپﷺ کا یہ ارشاد کہ: ’’میری امت سے ہمیشہ ایک جماعت اللہ کے حکم سے قائم رہے گی۔‘‘

(بخاری: رقم: 7311)

تو یہ اس امر کا متقاضی نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی باغی نہیں ہو گا اور ان کے غیر ان سے زیادہ حق کے قریب نہیں ہوں گے۔ بلکہ ان میں دونوں طرح کے لوگ ہوں گے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 274 )

جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ: ’’انہیں وہ جماعت قتل کرے گی جو دو جماعتوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہو گی۔‘‘ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اس وقت دوسری جماعت کے مقابلہ میں حق کے زیادہ قریب تھے، اگر کوئی شخص یا جماعت بعض احوال میں مرجوح ہو تو یہ اس کے قائم بامر اللہ ہونے سے مانع نہیں ہے اور نہ اس بات سے مانع ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزار ہو۔ اس لیے کہ کبھی ایک فعل اطاعت ہوتا ہے جبکہ دوسرا فعل اس سے زیادہ اطاعت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس طرح ان میں سے بعض کا بعض اوقات میں باغی ہونا اور پھر اس کی بغاوت کو معاف کر دیا جانا بھی اس چیز سے مانع نہیں ہے جس کی نصوص شہادت دے رہی ہیں اور یہ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جملہ اہل شام کی عظمت کی خبر دے رہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ سب کے سب عمومی احوال میں راجح تھے۔

(ایضاً)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے دوران اہل شام کو اہل عراق پر ترجیح دیتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ شام میں تو کئی دفعہ تشریف لے گئے مگر عراق جانے سے ہمیشہ انکار کرتے رہے، اس کے لیے جب . . . .آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا تو انہیں یہی مشورہ دیا گیا کہ آپ عراق مت تشریف لے جائیں۔ اسی طرح ان کی وفات کے وقت ان کے پاس سب سے پہلے اہل مدینہ کو لایا گیا جو کہ اس وقت امت کے افضل ترین لوگ تھے، پھر اہل شام کو اور سب سے آخر میں اہل عراق کو لایا گیا۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 275)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عراق کو فتح کرنے سے کہیں زیادہ شام کو فتح کرنے میں دلچسپی تھی، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ’’مجھے شام کے پہاڑ عراق کو فتح کرنے سے زیادہ پسند ہیں۔‘‘

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 275)

نجد، عراق اور تمام اہل مشرق پر شام اور اہل مغرب کی فضیلت کے بارے میں کتاب و سنت کی نصوص اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی آثار اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے ذکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرق کی مذمت میں کئی صحیح نصوص وارد ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ فتنہ اور کفر کا سر وہاں سے اٹھے گا۔ اگر مشرق کو مغرب پر فضیلت حاصل تھی تو وہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے وجود مسعود کی وجہ سے تھی اور یہ ایک وقتی بات تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد اس سے نفاق، ارتداد، بدعات اور فتنوں نے سر اٹھایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اہل شام سے کم تر تھے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 275)

نیز اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اہل عراق میں کتنے ہی ایسے علماء اور صالحین موجود تھے جو اہل شام سے کہیں افضل تھے۔ مثلاً علی، ابن مسعود، عمار، حذیفہ وغیرہم رضی اللہ عنہم شام میں موجود زیادہ تر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل تھے مگر یہ دوسری جماعت کے امر راجح کے ساتھ اختصاص سے مانع نہیں ہے اور یہ چیز بعض وجوہ سے شامی گروہ کے رجحان کو واضح کرتی ہے اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے سے جدا ہونے والوں کے مقابلہ میں حق سے زیادہ قریب تھے اور اگرچہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ نے قتل کیا تھا۔ جیسا کہ اس بارے میں نصوص وارد ہیں۔ بناء بریں ہم پر فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم ہر اس چیز پر ایمان لائیں جو اللہ کی طرف سے آئی اور سارے کے سارے حق کا اقرار کریں اور علم کے بغیر کوئی بات نہ کریں اور علم و عدل کی راہ پر گامزن رہیں، یہی کتاب و سنت کی اتباع ہے۔ بعض حق کو اپنانا اور بعض کو ترک کر دینا اختلاف اور تفرقہ کا باعث بنتا ہے۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 275)


صفحہ 2 از 2