مسلمان اور مؤمن کی اصطلاح قرآن کی روشنی میں۔ (سُنی و شیعہ…

مسلمان اور مؤمن کی اصطلاح قرآن کی روشنی میں۔ (سُنی و شیعہ مکالمہ)

  جعفر صادق

صفحہ 6 از 6


اللہ تعالیٰ جن کے ایمان کی نفی کی شہادت دے اسے قریشی صاحب زبردستی صاحب ایمان بنادیتے ہیں

   بھائی سورہ حجرات آیت 14 سے اخذ کردہ اہل سنت مذہب ہی سمجھ لو کہ ایمان، اسلام سے اخص ہے تو آپ کی ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی



باقی ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے آپ کو بڑا نہیں بناسکتے کہ آپ کی طرح ایمان نہ لانے والوں کو خلاف شہادت الہی مومن بناتے پھریں، یہ جرات صرف قریشی صاحب آپ ہی کرسکتے ہیں

   صاحبان علم میرا دعویٰ اور دلیل محفوظ کرلیں


جن لوگوں کے ایمان کی نفی اللہ تعالیٰ کردے وہ مسلمان تو ہوسکتے ہیں، مومن کبھی نہیں ہوسکتے


دلیل


سورہ حجرات 

آیت 14



قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۴﴾



۱۴۔ اعرابی کہتے ہیں: ہم ایمان لائے ہیں۔ کہدیجئے: تم ایمان نہیں لائے بلکہ تم یوں کہو: ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

*وما علینا الالبلاغ المبین*






حم :  سورۃ الحجرات : آیت 14

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ  قُوۡلُوۡۤا  اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ  قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ  لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾

تفسیر معارف القرآن :

اسلام و ایمان ایک ہیں یا کچھ فرق ہے ؟:

اس آیت میں اسلام کے لغوی معنی مراد ہیں اصطلاحی معنی مراد ہی نہیں اس لیے اس آیت سے اسلام اور ایمان میں اصطلاحی فرق پر کوئی استدلال نہیں ہوسکتا اور اصطلاحی ایمان اور اصطلاحی اسلام اگرچہ مفہوم و معنی کے اعتبار سے الگ الگ ہیں کہ

ایمان اصطلاح شرع میں تصدیق قلبی کا نام ہے یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کی رسالت کو سچا ماننا

اور اسلام نام ہے۔ اعمال ظاہرہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا

لیکن شریعت میں تصدیق قلبی اس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کا اثر جوارح کے اعمال و افعال تک نہ پہنچ جائے جس کا دانیٰ درجہ یہ ہے کہ زبان سے کلمہ اسلام کا اقرار کرے۔

اس طرح اسلام اگرچہ اعمال ظاہرہ کا نام ہے لیکن شریعت میں وہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ دل میں تصدیق نہ آجائے ورنہ وہ نفاق ہے۔

اس طرح اسلام و ایمان مبدا اور منہتی کے اعتبار سے تو الگ الگ ہیں کہ ایمان باطن اور قلب سے شروع ہو کر ظاہر اعمال تک پہنچتا ہے اور اسلام افعال ظاہرہ سے شروع ہو کر باطن کی تصدیق تک پہنچتا ہے۔

مگر مصداق کے اعتبار سے ان دونوں میں تلازم ہے کہ ایمان اسلام کے بغیر معتبر نہیں اور اسلام ایمان کے بغیر شرعاً معتبر نہیں، شریعت میں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص مسلم تو ہو مومن نہ ہو یا مومن ہو مسلم نہ ہو

مگر یہ کلام اصطلاحی ایمان و اسلام میں ہے۔

لغوی معنی کے اعتبار سے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص مسلم ہو مومن نہ ہو جیسے تمام منافقین کا یہی حال تھا کہ ظاہری اطاعت احکام کی بنا پر مسلم کہلاتے تھے مگر دل میں ایمان نہ ہونے کے سبب مومن نہ تھے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

تمت بحمداللہ تعالیٰ وعونہ سورة الحجرات للثامن

من شعبان 92 ھ 13 یوم الاحد وللہ الحمد و المنة

شیعہ کے اکثر عقائد و نظریات لغوی معنی کے تحت ہیں جبکہ اہل علم کے نزدیک عقائد و نظریات قرآن و سنت کی روشنی میں ہوتے ہیں جوکہ براہ راست اصطلاحی و شرعی معنی و مفہوم کے تحت ہوتے ہیں۔

صحابی کی تعریف پر اہل تشیع لغوی معنی کے تحت عقیدہ رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں منافق، مرتد ، کافر بھی صحابہ میں شامل ہیں، جبکہ اہل سنت کا عقیدہ صحابہ قرآن و سنت کی روشنی میں اصطلاحی معنی و مفہوم کے تحت ہے جس کے مطابق حالت ایمان میں دیدار نبوی کے ساتھ خاتمہ بالخیر لازمی شرط ہے۔ اس اصطلاحی تعریف سے منافق، مرتد اور کافر شرف صحابیت سے ازخود خارج ہوجاتے ہیں۔بصورت دیگر قرآن کریم کی ان آیات میں تعارض پیدا ہوتا ہے، جن میں منافقین کی جماعت کی مذمت اور جہنم کی نوید اور صحابہ کی جماعت کی تعریف و توصیف اور جنت کی بشارتیں بیان ہوئی ہیں، یقینی طور پر یہ دو علیحدہ جماعتیں ہیں کیونکہ دونوں کا انجام مختلف ہے۔

ایک عام فہم شیعہ عقیدہ ذہن میں رکھ کر پریشان ہوجائے گا کہ ایک ہی جماعت صحابہ جو کہ شیعہ کے مطابق منافق و مرتد بھی ہوسکتے ہیں، وہ جہنمی اور جنتی کیسے ہوسکتی ہے؟

اسی طرح مسلمان اور مؤمن میں اہل سنت و اہل تشیع کے ہاں واضح تضاد موجود ہے۔

شیعہ حضرات لغوی معنی کے تحت منافق ، مرتد اور ایمان سے محروم ہونے والوں کو بھی مسلمان ہی کہتے ہیں، جب ان سے پوچھا جائے کہ منافق اور مسلمان میں کیا فرق ہے تو کہتے ہیں کہ منافق دل سے توحید و رسالت کا منکر ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر وہ مسلمان کے دل کی کیفیت پر کوئی رائے نہیں دیتے، کیا  توحید و رسالت کی زبانی گواہی دیکر کوئی غیر جانبدار رہ سکتا ہے؟ یا تو وہ دل سے منکر (منافق) ہوگا یا اقراری (مسلمان) ہوگا۔  بیچ کا کوئی آپشن ممکن نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع مسلمان اور مؤمن کے مابین فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جب بحث مباحثوں میں قرآن کریم کی وہ آیات پیش کی جاتی ہیں،  جن میں مسلمان ہونے کی دعائیں، مسلمان مرنے کی خواہشیں اور روز آخر مسلمان خوش و مطمئن ہوں گے وغیرہ بیان کیا گیا ہے ، تو ان کی دوڑیں لگ جاتی ہے۔


صفحہ 6 از 6