مسلمان اور مؤمن کی اصطلاح قرآن کی روشنی میں۔ (سُنی و شیعہ…

مسلمان اور مؤمن کی اصطلاح قرآن کی روشنی میں۔ (سُنی و شیعہ مکالمہ)

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 6

*شیعہ مؤقف*

مسلمان صرف زبان سے اقرار کرنے والا,  دل سے اقرار ضروری نہیں ہے۔

مسلمان کا ایمان والا ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ مؤمن لازمی مسلمان ہوتا ہے۔

دلیل: سورت الحجرات آیت 14 

شیعہ استدلال: ایمان سے محروم مسلمان صحابہ۔


*اہل سنت مؤقف*

مسلمان ہونے کے لئے شرط ہے کہ دل و زبان سے توحید و رسالت کو قبول کرے۔مؤمن اور مسلمان  کےدرجات میں فرق ممکن ہے۔ 

دلیل: سورت البقرہ 128,127

اہل سنت استدلال: حضرت ابراہیم کی منصب نبوت کے باوجود مسلمان بننے کی دعا۔

  ؟؟؟

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: دعا میں عاجزی شرط ہے


یونس علیہ السلام اپنے آپ کو ظالمین میں سے کیوں کہہ رہے ہیں؟؟


سوال کا جواب دیں

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: جواب؟؟

  جعفر صادق: حضرت یونس کی دعا پیش کردیں۔

  اہل سنت موقف پڑھیں۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: کل ہی پیش کرچکا ہوں

  اس سے میرے سوال کا تعلق نہیں

  جعفر صادق: حضرت ابراہیم مؤمن اور مسلمان دونوں ہی تھے۔ دعا فرمانا عاجزی ہی تھا۔ 

ہم مسلمان اور مؤمن کے بیچ جو سنی و شیعہ اختلاف ہے اس پر گفتگو کر رہے ہیں۔

   ⬅️ مؤمن بقول آپ کے بڑا رتبہ 

*ایک بڑے رتبے والا چھوٹے رتبے کی دعا کیوں کر رہا ہے؟*

اہل سنت مؤقف کے مطابق مسلمان اور مؤمن میں فرق نہیں ہے۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: جس وقت مسلمان بننے کی دعا کی، اس وقت ابراہیم علیہ السلام مسلمان تھے یا نہیں، اہل سنت عقیدے کے مطابق جواب دیں

  عاجزی کے معنی معلوم نہیں؟؟ اس کے لیے اپنے سے کم رتبہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ جیسے یونس علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظالموں میں شمار کیا حالاں کہ اہل سنت عقیدے میں وہ ظالم نہیں بلکہ معصوم تھے

  جعفر صادق: حضرت ابراہیم علیہ السلام مسلمان تھے اور مؤمن بھی۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: تو پھر مسلمان بننے کی دعا کیوں کی، جب کہ پہلے سے ہی مسلمان تھے؟؟

  جعفر صادق: یہ اعلان نہیں ہے۔

اللہ عزوجل سے دعا کی گئی ہے۔ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: پس یہی میرا بھی جواب ہے

  جعفر صادق: پھر آیات قرآنی کے بیچ تعارض ختم کریں۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: تعارض کوئی نہیں ہے، کل بتاچکا ہوں

  جعفر صادق: یہ قرآنی مفہوم سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے،

کیا ایک عام مسلمان شیعہ نظریہ کے مطابق جس کا دل سے اقرار کرنا بھی شرط نہیں ہے، بلکہ وہ ایمان سے محروم بھی ہوسکتا ہے ،

اس کی خواہش نبی اپنے لئے یا اپنی نسل کے لئے کر سکتا ہے؟؟؟


یقینا نہیں !!

بیشک ایک عام مسلمان سے نبوت اور نبی کا مقام افضل ہے۔  

قرآن کریم میں حضرت ابراہیم نے نبی ہوتے ہوئے(جعل مسلم) مسلمان بنانے کی بھی دعا کی تھی، اس سے ثابت ہوتا ہے مسلمان اور مؤمن ایک ہی معنی و مفہوم رکھتے ہیں۔ دل و زبان سے اقرار شرط ہے۔بصورت دیگر مؤمن اور نبی ہوتے ہوئے حضرت ابراہیم ایسے منصب کی دعا کیوں کرتے جو مؤمن سے کم تر ہے اور جس کے لئے دل سے اقرار بھی لازم نہیں ہے؟


غور فرمائیں ، قرآن پاک میں ہے  


♦️رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ "♦️


اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا مسلمان(مطیع) اور فرمانبردار بنا۔اور ہماری ذریت سے اپنی ایک فرمانبردار امت پیدا کر اور ہمیں ہماری عبادت کی حقیقت سے آگاہ فرما اور ہماری توبہ قبول فرما۔یقینا تو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔"

(بقرہ:127,128) 


⬅️ واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا(یعنی ابراہیم اور اسماعیل نے دعا کی اے اللہ ہمیں  اور ہماری ذریت کو مسلمان بنا دے)۔


اب یہ اہل تشیع کی ذمہ داری ہے کہ ان دو آیات قرآنی سے اس تعارض کو دور کریں جو ان کے مؤقف کو درست تسلیم کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

وضاحت کریں کہ مسلمان کا رتبہ مؤمن سے کم ہے تو کس دلیل سے ہے؟ اور حضرت ابراہیم نے مؤمن ہوتے ہوئے بلکہ منصب نبوت کے ہوتے ہوئے مسلمان بننے کی دعا کیوں فرمائی؟

  سید علی حیدری شیعہ مناظر:  جواب دیں پھر سمجھ آئے گا قرآنی مفہوم سے ناواقف کون ہے۔۔۔۔۔



ابراہیم علیہ السلام نے مسلمان بننے کی دعا کیوں کی، جب کہ پہلے سے ہی مسلمان تھے؟؟

  جعفر صادق: جواب دے چکا ہوں

مسلمان اور مؤمن ہم معنی الفاظ ہیں۔

آپ بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔

شیعہ مؤقف خلاف قرآن ثابت کر چکا ہوں۔ 

الحمدلللہ۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: بالفرض محال مسلمان و مومن ہم معنی ہے تو اس کا مطلب  مسلمان ہونے کی نفی کیسے ہوگیا؟؟

  جعفر صادق: زیر بحث نکتہ نفی نہیں ہے۔

*شیعہ کے نظریے کی روشنی میں مؤمن اور مسلمان کا فرق ثابت کریں۔*

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: آپ کی دلیل میں تو آپ کے مفہوم کے مطابق ابراہیم علیہ سلام کے دعا کرتے وقت مسلمان ہونے کی نفی ہورہی ہے۔۔۔۔۔ 


لہذا آپ بتائیں مسلمان و مومن و نبی ہونے کے باوجود ابراہیم علیہ السلام اپنے سے کم درجے میں جانے کی دعا کیوں کررہے ہیں؟؟؟

 جعفر صادق: عاجزی

عاجزی

 عاجزی

الم   سورہ البقرة : آیت 132

وَ وَصّٰی بِہَاۤ اِبۡرٰہٖمُ  بَنِیۡہِ وَ یَعۡقُوۡبُ ؕ یٰبَنِیَّ  اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ  اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ  مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ؕ

ترجمہ  : 

اس کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کی، کہ ہمارے بچو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرما لیا، خبردار ! تم مسلمان ہی مرنا (١)

اس آیت میں مؤمن مرنے کے بجائے

بقول آپ کے کم رتبے مسلمان ہوکر مرنے کا ذکر کیوں ؟

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: فرق کل آپ کے مفتی کے حوالے سے ثابت کرچکا ہوں۔۔۔۔۔ آپ بھی نبی اور مسلمان کا فرق بیان کردیں

 یعنی عاجزی میں نبی اپنے مسلمان ہونے کی دعا کرسکتا ہے تو پھر آپ کا اعتراض آپ کے جواب سے ہی باطل ہوا

  جعفر صادق: زیر بحث نکتہ نفی نہیں ہے۔

*شیعہ کے نظریے کی روشنی میں مؤمن اور مسلمان کا فرق ثابت کریں۔*

  اعتراض شیعہ مؤقف پر ہے۔

اسے ثابت کریں

یا

رجوع فرمائیں۔

  جعفر صادق: حضرت ابراہیم مسلمان تھے

⬇️⬇️⬇️

تلک الرسل   سورہ آل عمران : آیت 67


مَا کَانَ  اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

ترجمہ  : 

صفحہ 4 از 6