مسئلہ تحریف قرآن شیعہ سنی مناظرہ (علی معاویہ/وحید کاظمی) -…

مسئلہ تحریف قرآن شیعہ سنی مناظرہ (علی معاویہ/وحید کاظمی)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

کیا اللہ عزوجل یا نبی کریمﷺ کا یہ صحیح اقدام تھا؟ جبکہ ایسا نہ ہوتا تو امت مسلمہ آج متحد ہوتی!

ان تمام باتوں پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ روایات واقعی تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں اور ان کی تاویل کرنا ممکن نہیں ہے۔

شیعہ مناظر نے  شیخ صدوق کے حوالے سے یہ کہا کہ ہر نازل شدہ چیز (وحی) جزو قرآن نہیں ہوتی ۔ اس بات پر دونوں فریقین میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس وقت یہ نکتہ زیر بحث نہیں تھا۔

سنی مناظر نے جو شیعہ روایات پیش کیں ان کے متن میں قرآن کی سورتوں کے نام اور آیات نمبر کے ساتھ وہ الفاظ بھی بیان کئے گئے ہیں جو آج قرآن میں موجود ہی نہیں ہیں۔ 

 ان روایات سے واضح طور قرآن کا تحریف شدہ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔

 اس کے علاوہ شیعہ مناظر نے کہا کہ آپ لفظ “فی” کے بغیر شیعہ روایات دکھائیں گے تو پھر آپ کا استدلال (یعنی شیعہ کا عقیدہ تحریف قرآن) ثابت ہوگا، جبکہ انہی چار روایات میں دو روایات “فی” لفظ کے بغیر بھی تحریف قرآن کو ثابت کر رہی ہیں!!

 اصول کافی کی روایات کا کمزور رد اور ناقابلِ قبول تاویلات کا احساس شیعہ مناظر کو بھی تھا ، اسی لئے وہ بوکھلاہٹ میں اصل موضوع کو چھوڑ کر تفسیر المعانی، تفسیر درمنثور اور صحیح بخاری کے حوالے سے اہلِ سنت پر ہی “تحریف قرآن” کا الزام لگانے میں مصروف ہوگئے۔ 

سنی مناظر نے “اصول کافی” سے ایک اور اہم روایت پیش کی جس میں حضرت علیؓ کے جمع کئے ہوئے تحریف سے پاک قرآن کا ذکر ہے ، جو اب حضرت امام مہدی کے پاس ہے اور قرب قیامت میں اپنے ساتھ لائیں گے۔

   اس سلسلے میں بحارالانوار جلد 23 صفحہ249 میں امام محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت علی نے فقط تین دن میں قرآن کو جمع کر لیا تھا۔

 شیعہ مناظر نے سنی مناظر کی طرف سے پیش کی گئی تمام روایات میں سے صرف ایک روایت کی سند پر جرح کرتے ہوئے ایک راوی “محمد بن الحسین” کو شیعہ کتاب “رجال نجاشی” کے حوالے سے ضعیف ثابت کیا۔ 

  اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سنی مناظر نے دوران مناظرہ کم از کم پانچ صحیح السند روایات شیعہ اصولوں کے مطابق پیش کیں جن پر شیعہ مناظر جرح نہ کر سکا ۔

شیعہ مناظر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ حضرت امام مہدی اپنے ساتھ جو قرآن لائیں گے وہ یہی قرآن ہوگا جو آج موجود ہے۔ 

بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 

  حضرت امام مہدی کو قرآن لانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئے گی؟ 

  اس بات کو خاص طور پر بیان کرنے کی وجہ کیا ہے؟ اگر قرآن پاک پہلے سے ہی موجود ہے تو پھر حضرت امام مہدی کی طرف سے قرآن لانے کی کیا اہمیت  ہے؟  

اس کے علاوہ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ مذکورہ روایت میں “تحریف سے پاک قرآن” کیوں بیان کیا گیا ہے۔؟ 

ان تمام نکات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ مناظر صریح خیانت کر رہا ہے۔ حضرت امام مہدی کا اپنے ساتھ تحریف سے پاک قرآن لانے کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے۔

 اس موقعہ پر شیعہ مناظر نے دوبارہ اہلِ سنت کی کتاب  (تمهيد ابو الشكور السالمي) زیر بحث لانے کی کوشش کی اور کہا کہ حضرت علی نے قرآن جمع کیا تھا لیکن حضرت ابوبکر نے اسے قبول نہ کیا۔  

اہل سنت کی کتاب سے شیعہ مناظر کا یہ استدلال بھی غور طلب ہے۔۔ پھر  اصول کافی کی وہ ایک روایت ضعیف ثابت کرکے بھی شیعہ مناظر کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔۔؟؟ کیونکہ یہ روایت پیش کرکے شیعہ مناظر ثابت کر رہا ہے کہ واقعی حضرت علی نے قرآن جمع کیا تھا۔!!!

 دوران مناظرہ شیعہ مناظر وقت کی پابندی کئے بغیر وائسز بھیجتے رہے ، جن میں سے اکثر وائسز موضوع مناظرہ کے متعلق نہیں تھیں ، اس سے گروپ ممبران کا وقت ضائع کیا گیا۔

سنی مناظر نے شیعہ کے ایک اور معتبر عالم السید نعمت اللہ جزائری (انوار نعمانیہ) سے ثابت کیا کے تحریف قرآن پر مستفیض روایات شیعہ کتب میں موجود ہیں اور حضرت علی کا جمع کردہ قرآن ہی تحریف سے پاک ہے، اہلِ سنت کا قرآن تحریف شدہ ہے۔

  اس موقعہ پر سنی مناظر نے ایک اہم سوال بھی پوچھا۔

  کیا شیعہ کے نزدیک ضعیف روایات مستفیض روایات ہوتی ہیں؟ 

 سنی مناظر نے شیعہ مجتهد علامہ باقر مجلسی (مرآہ العقول) کا اقرار بھی پیش کیا ، جس کے مطابق تحریف قرآن کی روایات متواتر معنوی ہیں ان تمام کے انکار سے پوری شیعہ روایات سے ہی اعتماد ختم ہوجائے گا.

 شیعہ عالم فیض کاشانی نے بھی تفسیر صافی میں ایسی روایات نقل کی ہیں جن سے شیعہ کا تحریف قرآن کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔

شیعہ مناظر نے جواباً عجیب و غریب تاویلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت میں لفظ “اخبار” استعمال ہوا ہے ، روایت اور خبر میں ایسے فرق ہے جیسے معصوم اور غیر معصوم میں فرق ہے۔ اخبار حدیث نہیں بن سکتی۔

  غور فرمائیں۔۔ شیعہ مناظر یہ  کہہ رہے ہیں کہ “خبر” کا لفظ صرف “جھوٹ” پر ہی استعمال ہوتا ہے!!!  کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟؟ 

  پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جہاں روایت کا لفظ استعمال ہوا ہوگا وہ صرف سچ ہی ہوگا۔۔؟

 مناظرہ اس وقت اپنے منطقی انجام تک پہنچنے لگا جب خود شیعہ مناظر نے تحریف قرآن کی روایات کو “متواتر معنوی” تسلیم کر لیا۔

   متواتر معنوی: ایسی روایت جس  کا مفہوم تواتر کیساتھ ثابت ہو،  الفاظ  میں کچھ کمی بیشی ہو۔

 اس کے ساتھ شیعہ مناظر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ قرآن “متواتر طبقاتی” کے لحاظ سے تحریف سے  پاک ہے کیونکہ ہزاروں صحابہ کرامؓ نے ملکر قرآن پاک کو جمع کیا ہے۔ 

  غور فرمائیں۔۔ شیعہ مناظر کا یہ اقرار ہی اہلِ سنت کے مؤقف کے حق پر ہونے کی مضبوط دلیل ہے۔ 

 “متواتر طبقاتی” کی روایات شیعہ روایات ہرگز نہیں ہیں بلکہ یہ روایات صرف اور صرف اہلِ سنت کی روایات ہیں۔ 

شیعہ کتب میں تحریف قرآن پر تو بیشمار روایات (مستفیض روایات، اخبار متواتر، متواتر معنوی) موجود ہیں لیکن متواتر طبقاتی تو ایک طرف قرآن کی تائید میں اکا دکا روایات ملیں گی، جن پر خود شیعہ علماء بھی ایمان نہیں رکھتے۔

 شیعہ مناظر نے اس موقعہ پر دوبارہ تفسیر روح المعانی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اہلِ سنت تحریف کے قائل ہیں، جبکہ انہیں ثابت یہ کرنا تھا کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں۔

 سنی مناظر کا سوال: اخبار اور حدیث میں کیا فرق ہے۔ مکمل حوالے کے ساتھ بیان کریں۔

صفحہ 2 از 3