فرشتوں کے بارے میں شیعہ علماء کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ - ردِ…

فرشتوں کے بارے میں شیعہ علماء کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 2

 تعارض: شیعہ کا یہ عقیدہ تو اللہ تعالیٰ کے فرمان اقدس کی واضح تکذیب ہے:

اِذۡ يَتَلَقَّى الۡمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيۡدٌ۞ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ۞(سورۃ ق: آیت، 17 اور 18)

ترجمہ: جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے (انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے:

 أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ (سورہ الزخرف: آیت، 80)

ترجمہ: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے ( یقیناً وہ برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں۔

 قرآن کریم میں ملائکہ کے جتنے بھی نام وارد ہیں شیعہ علماء کے نزدیک ان سے مراد، ان کے بارہ ائمہ ہیں، اسی لیے المجلسی نے یہ باب قائم کیا ہے:

 بَابٌ: أَنَّهُمْ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ الصَّافُونَ وَالْمُسَبِّحُونَ، وَصَاحِبُ الْمَقَامِ الْمَعْلُومِ، وَحَمَلَهُ الْعَرْشِ، وَ أَنَّهُمُ السَّفَرَةُ الْكِرَامُ الْبَرَةُ

 باب ہے کہ: بلا شبہ وہ ( ائمہ) ہی صفیں باندھنے والے اور تسبیحات پڑھنے والے، مقام معلوم کے صاحبین، عرش کو اٹھانے والے ہیں اور بلاشبہ وہی نیکو کار اور معزز لکھنے والے ہیں۔

(بحار الأنوار: جلد، 24 صفحہ، 87، كتاب الأمان)

 اس باب میں گیارہ روایات ذکر کی ہیں۔ 

 تبصره: شیعہ علماء کی مقرب فرشتوں کے مقام و مرتبہ پر دست درازی اور ان کے بارے میں کذب بیانی دراصل فرشتوں کے وجود سے انکار کرنے کے بہت قریب ہے کیونکہ شیعہ علماء نے فرشتوں کے فرائض اور خصوصیات اور ان کے شرف و مقام کا انکار تو کر ہی دیا ہے اور ائمہ کی ولایت ہی ان کا دین قرار دے دیا ہے۔ پھر قرآن مجید میں مذکور فرشتوں سے مراد اپنے ائمہ لے کر ان کے وجود کی تاویل کر دی ہے اور ان کے تمام فرائض اپنے ائمہ کو سونپ دیے ہیں حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

 بَلْ عِبَادُ مُكْرَمُونَ لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ

(سورة الأنبياء: آیت:26 اور 27)

ترجمہ: بلکہ وہ (فرشتے) تو (اللہ کے معزز و مکرم بندے ہیں۔ وہ بات کرنے میں اس سے سبقت نہیں کرتے، اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔

 ارشاد ربانی ہے: 

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَ مَلْئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَ جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَفِرِينَ(سورہ البقرة: آیت، 98) 

ترجمہ: جو کوئی اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کے رسولوں کا اور جبرائیل میکائیل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ بھی کافروں کا دشمن ہے۔


صفحہ 2 از 2