حلم و حوصلہ اور عفو و درگزر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حلم و حوصلہ اور عفو و درگزر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 27)

حبر الامت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست اور حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ معاویہ لوگوں پر کیسے غالب آ گئے، جب وہ اڑتے تو سیدنا امیر معاویہ زمین پر گر جاتے اور جب وہ گرتے تو معاویہ اڑنے لگتے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 443)

ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ دیکھتے کہ منہ زور سیلاب ان کی طرف بڑھ رہا ہے تو وہ اس کا راستہ نہ روکتے بلکہ اس کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیتے یہاں تک کہ وہ آگے بڑھ جاتا اور پھر میدان خود سنبھال لیتے اور پھر جس طرح چاہتے حالات پر اپنی گرفت مضبوط بناتے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی اس پالیسی کا اظہار اس طرح فرماتے ہیں: اگر میرے اور لوگوں کے مابین تعلقات کا ایک بال بھی باقی رہ جائے تو وہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے گا جب وہ اسے کھینچیں گے تو میں اسے ڈھیلا کر دوں گا اور جب وہ ڈھیلا کریں گے تو میں اسے کھینچ لوں گا۔ ان کے حلم و حوصلہ کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے اور ابو جہم نامی ایک آدمی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تو اس نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی نازیبا بات کہہ ڈالی۔ جسے سن کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلے تو سر جھکا لیا اور پھر اسے اوپر اٹھاتے ہوئے فرمایا: ابوجہم سلطان وقت سے بچ کر رہا کر اس لیے کہ وہ بچوں کی طرح غضب ناک ہوتا ہے اور شیر کی طرح گرفت کرتا ہے اور اس کا قلیل بھی کثیر لوگوں پر غالب آ جاتا ہے۔ پھر انہوں نے اسے مال و زر دینے کا حکم فرمایا اور وہ خوشی خوشی واپس لوٹ گیا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 28۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 440)

یوں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بردباری، حسن خلق اور برائی کے بدلے احسان نے ابوجہم کو شدید طور سے متاثر کیا اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کی زلف وفا کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا طرز عمل بالکل اس ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق تھا:

وَلَا تَسۡتَوِى الۡحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ اِدۡفَعۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِىۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِىٌّ حَمِيۡمٌ ۞ وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا‌ وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ۞ (سورۃ فصلت آیت 35)

ترجمہ: اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، تم بدی کا دفاع ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا جیسے وہ (تمہارا) جگری دوست ہو اور یہ بات صرف انہی کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں اور یہ بات اسی کو عطا ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہو۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم و حوصلہ، شجاعت و دلیری اور عزت و وقار کی تعریف کرتے ہوئے خلیفۃ المسلمین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریش کے اس نوجوان اور اس کے سردار کے بیٹے کی بات نہ کرو۔ وہ ایسا باہمت ہے کہ غیض و غضب کی حالت میں بھی مسکراتا رہتا ہے۔ اس سے اگر کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے تو اسے راضی کر کے ہی لیا جا سکتا ہے اور وہ ایسا انسان ہے کہ اس کے سر کی چیز کو اس کے قدموں کے نیچے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 29، 30)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توصیف میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول بڑی باریک بینی پر مبنی ہے۔ جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حلم و حوصلہ اور عزت و وقار کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز تھے اور یہ ایسے اوصاف حمیدہ ہیں جنہوں نے انہیں اس حد تک محفوظ بنا رکھا تھا کہ ان سے زبردستی کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا، ان کی یہی وہ صفات تھیں جن کی وجہ سے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کی امارت پر برقرار رکھا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 415)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے: بندے کو جو کچھ بھی دیا جائے ان میں سے افضل ترین چیزیں عقل اور حلم ہیں۔ انہی کی وجہ سے جب اسے الوہی نعمتوں کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو وہ انہیں یاد کرتا ہے جب اسے کچھ دیا جائے تو

اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ آزمائش آئے تو صبر کرتا ہے۔ غصہ آئے تو اسے پی جاتا ہے، قدرت میسر آئے تو معاف کر دیتا ہے، غلطی کر بیٹھے تو معافی کا طلب گار ہوتا ہے اور کسی سے وعدہ کرے تو اسے پورا کرتا ہے۔

(انساب الاشراف: جلد 5 صفحہ 336)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس خبر میں حکمت و دانش کے موتی جمع کر دیئے ہیں، اور وہ ہیں: خوش حالی کے وقت شکر کرنا، ابتلاء و آزمائش کے موقع پر صبر کرنا، ناراضی کے وقت رویے کو کنٹرول میں رکھنا، طاقت ملنے پر عفو و درگزر سے کام لینا، وعدہ پورا کرنا اور غلطی کے ارتکاب پر توبہ و استغفار کرنا، اس مختصر سی خبر میں چھ موضوعات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ جن میں سے ہر موضوع پر متعدد صفحات لکھے جا سکتے ہیں، یہ جامع کلمات ہیں جن کا شمار بلاغت کی اعلیٰ ترین اقسام میں ہوتا ہے، گویا کہ انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ اس قسم کی گفتگو کے حوالے سے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑی شہرت کے حامل ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف عظیم حاصل ہوا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جامع کلمات سے نوازا گیا تھا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 11 صفحہ 30)


صفحہ 2 از 2