حلم و حوصلہ اور عفو و درگزر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حلم و حوصلہ اور عفو و درگزر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

امیر المؤمنین سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما حلم و حوصلہ کے حوالے سے بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ غصہ ضبط کرنے اور لوگوں سے عفو و درگزر کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ آپ کے حلم و حوصلہ کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بدکلامی کا مظاہرہ کیا تو ان سے کہا گیا: آپ اس کی گرفت کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ اپنی رعیت کے کسی آدمی کے گناہ کی وجہ سے میرے حلم و حوصلہ کا دائرہ تنگ ہو جائے۔ اصمعی رحمہ اللہ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کہ کسی کا گناہ میرے حلم و حوصلہ سے بڑا ہو، میرے حلم سے جہالت بڑی ہو یا میں کسی کی پردہ داری نہ کروں۔ ایک دفعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنو امیہ! حوصلہ مندی کی وجہ سے قریش سے ممتاز رہے، اللہ کی قسم! میں زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی سے ملاقات کرتا وہ مجھے جی بھر کر گالی گلوچ کرتا اور میں اس کے لیے جی بھر کر حلم و حوصلہ کا مظاہرہ کرتا اور جب میں واپس لوٹتا تو وہ میرا دوست بن چکا ہوتا، پھر اگر میں اس سے مدد کا خواستگار ہوتا تو وہ میری مدد کرتا، میں اس کے ساتھ مل کر کسی پر حملہ آور ہونا چاہتا تو وہ میرے ساتھ ہوتا، نہ صرف یہ کہ حلم و حوصلہ شریف انسان کی شرافت میں کمی نہیں لاتا بلکہ اس سے اس کی عزت و توقیر میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انہیں کا قول ہے: آدمی اس وقت تک صاحب رائے قرار نہیں پاتا جب تک اس کا حلم اس کی جہالت پر اور اس کا صبر اس کی شہوت پر غالب نہ آ جائے، آدمی اس مقام پر صرف حلم کی قوت سے ہی پہنچ سکتا ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 441)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: سب سے بڑا سردار کون ہوتا ہے؟ فرمایا: وہ کہ جب اس سے سوال کیا جائے تو سب سے بڑھ کر سخی ہو، مجالس و محافل میں سب سے زیادہ بااخلاق ہو اور جہالت کے مقابلہ میں حلم و حوصلہ کا مظاہر کرنے والا ہو۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 442)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اکثر یہ شعر گنگنایا کرتے تھے:

فماقتل السفاہۃ مثل حلم یعود بہ علی الجہل الحلیم

 ’’سفاہت و حماقت کو ختم کرنے کے لیے حلم و حوصلہ جیسی کوئی چیز نہیں ہے، حلیم الطبع انسان اس کے ساتھ ہی اس کا علاج کیا کرتا ہے۔‘‘

فلاتسفہ وان ملئت غیظا علی احد فان الفحش لُؤم

"تجھے جس قدر بھی غصہ دلایا جائے کسی کے خلاف بھی حماقت کا مظاہرہ نہ کرنا اس لیے کہ فحش گوئی لائق ملامت ہوتی ہے۔‘‘

3۔ ولاتقطع اخالک عند ذنب فان الذنب یغفرہ الکریم

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 442)

 ’’گناہ کی وجہ سے اپنے بھائی سے قطع تعلقی نہ کرنا، کریم لوگ گناہوں کو معاف کر دیا کرتے ہیں۔‘‘

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے نائب زیاد کو لکھا: سب لوگوں کے ساتھ ایک ہی جیسا رویہ اپنانا مناسب نہیں ہے۔ اگر ان کے ساتھ نرمی ہی برتی جائے تو اکڑ جاتے ہیں اور اگر سختی ہی کی جائے تو یہ بھی نقصان دہ ہے، تم شدت، سختی اور ترش روئی پر مبنی رویہ اختیار کرو جبکہ میں نرمی، رحمت اور الفت پر مبنی طرز عمل اختیار کرتا ہوں تاکہ اگر کوئی خوف محسوس کرے تو اسے کوئی ایسا دروازہ مل جائے جس سے وہ داخل ہو سکے۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 443)

امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ اقوال اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ حلم و حوصلہ سے متصف تھے،

اور ان کا یہ خلق ان کے اور ان کی رعیت کے ان افراد کے درمیان ہمزہ وصل کا کام دیتا تھا جو ان کے ساتھ قدرے سخت رویہ اختیار کرتے تھے یا وہ کسی چیز پر اپنا حق جتاتے ہوئے ان کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرتے اور وہ اس بارے ان کے مخالف ہوتے۔ حلم و حوصلہ پر مبنی ان کا یہ اخلاق ان کی حکومت کے استحکام کے لیے کارگر ثابت ہوا ان اخلاقی اقدار سے کام لیتے ہوئے وہ مخالفین کے قہر و غضب کو ضبط کر لیتے اور انہیں اپنی سیاست پر راضی اور مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ مکارم اخلاق جن کے اہم ترین عناصر میں حلم و حوصلہ، عفو و درگزر اور صبر و کرم کا شمار ہوتا ہے اسی قسم کا ہی کردار ادا کیا کرتے ہیں، ان سے مروی ان کے ان اقوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حلم میں قدرے کمزوری کی آمیزش بھی ہوتی ہے جس طرح کہ نصرت میں کسی قدر عزت و قوت کا بھی اختلاط ہوتا ہے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس کمزوری پر خوشی کا اظہار کرتے تھے اس لیے کہ اس کے قابل تعریف نتائج کے طور سے دوستوں اور مددگاروں کی رفاقت میسر آتی ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 26)

امیر عراق زیاد کے نام ان کے مذکورہ بالا خط سے ان کی عمدہ حکمت عملی کا اظہار ہوتا ہے جس سے معاشرے میں انارکی، بدامنی اور انتشار پیدا کرنے والے عناصر کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے جو سلامتی اور استقامت کی راہ پر گامزن رہنا چاہتے ہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 26)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے ارباب عقل و دانش ان کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نظر آتے اور ان کے مکارم اخلاق اور خاص طور سے حلم و حوصلہ کا بڑی خوبصورتی سے ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بارے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ایک دن عبدالملک بن مروان نے معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے حلم، قوت برداشت اور جود و کرم میں کسی کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسا نہیں دیکھا۔

(البدایۃ و النہایۃ:  جلد 11 صفحہ 439)

قبیصہ بن جابرؓ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو حلیم الطبع، خوددار، نرم مزاج سردار نہیں دیکھا۔

(ایضاً)

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا معاویہ شیر سے بڑھ کر جری اور بڑے بارعب انسان تھے، و اللہ! میں تو چاہتا ہوں کہ جب تک جبل ابو قبیس باقی رہے معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما بھی ہم میں باقی رہیں۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 442)

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما ان کی درازی عمر کے اس لیے متمنی تھے کہ انہیں ان کی وفات کے بعد حالات میں تبدیلی آنے کا خوف لاحق تھا۔

صفحہ 1 از 2