حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں - دفاعِ…

حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اہل عراق کے ساتھ معاملات طے کرنے کی خصوصی صلاحیت و مہارت حاصل تھی اور سیدنا حسنؓ ان کی نفسیات سے بخوبی آگاہ تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آغاز کار میں ہی ان کے وظائف میں اضافہ فرما دیا، اگرچہ اپنے اپنے اصلاحی پروگرام کی کامیابی کی مہم جس کی وہ خود قیادت کر رہے تھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے سے بھی مشکل تھی مگر وہ اس کے باوجود وہ ان کثیر مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب رہے جن کا انہیں قدم قدم پر سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ان کی انہیں مصالحتی کوششوں کی وجہ سے بعض لوگوں نے انہیں قتل کر نے کی کوشش بھی کی اور ان کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔ مگر انہوں نے ان تمام مشکلات پر قابو پا لیا اور اپنے یہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے کہ مسلمانوں کا خون محفوظ رہے، امت متحد رہے، راستے پرامن ہوں اور فتوحات اسلامیہ کی تحریک کو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔۔۔

یہ سب چیزیں ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر دلالت کرتی ہیں۔

5۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فورسز کا اندازہ لگانا:

صحیح بخاری میں ہے: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پہاڑوں جیسے لشکروں کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بالمقابل کھڑے نظر آئے تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے خیال میں یہ سپاہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گی جب تک وہ اپنے مدمقابل سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سپاہ کو قتل نہ کر ڈالیں۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: عمرو! اگر انہیں قتل کر دیا گیا تو مجھے لوگوں کے امور اور ان کی عورتوں اور بچوں کی ضمانت کون دے گا؟ پھر انہوں نے خاندان قریش سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: اس آدمی کے پاس جائیں، ان سے بات چیت کریں، انہیں پیش کش کریں اور ان سے گزارشات کریں۔

(صحیح بخاری: کتاب الصلح: رقم: 2704)

الف: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جیسے مشہور اور تجربہ کار سیاسی اور فوجی کمانڈر کی طرف سے اعتراف کیا جا رہا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لشکر واپس جانے سے پہلے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو نیست و نابود کر ڈالیں گے۔

ب: خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ان کی عسکری صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر فریقین میں سے کسی کو فوجی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ایسا طرفین کے بھاری نقصانات کے بعد ہی ممکن ہو گا اور اگر وہ جیت بھی جائیں تو وہ ان ذمہ داریوں کو نبھانے سے قاصر ہوں گے جو جنگ کے بعد بیوہ عورتوں، یتیم بچوں اور بہترین مسلمانوں کے قتل ہو جانے کی وجہ سے ان پر عائد ہوں گی اور وہ امت اسلامیہ کو لاحق ہونے والے معاشرتی، اخلاقی، سیاسی اور اقتصادی مفاسد و نقصانات کے متحمل کبھی نہیں ہو سکیں گے۔ انہیں خطرات و خدشات کے پیش نظر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایسے دو سرکردہ اشخاص کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جنہیں اسلامی معاشرے میں اثر و رسوخ حاصل تھا اور وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی بڑے محترم تھے اور وہ دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے، ان حکیم و دانا شخصیات کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے کے شدید طور سے خواہش مند تھے چاہے اس کے لیے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اگر حالات کی باگ دوڑ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے اعوان و انصار کے ہاتھ میں نہ ہوتی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے خوفزدہ نہ ہوتے تو انہیں سیدنا حسن رضی اللہ عنہما سے مذاکرات کرنے اور ان کی طرف سے طلب کردہ شروط اور ضمانتوں کو تسلیم کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اگر انہیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما میں کوئی کمزوری نظر آتی تو وہ ان سے مذاکرات کیے بغیر ہی کوفہ میں داخل ہو جاتے اور ان کی شرائط اور مطالبات کو ہرگز کوئی اہمیت نہ دیتے۔

(دراسات فی تاریخ خلفاء الدولۃ الامویۃ: صفحہ 61)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما جس خلق عظیم سے متصف تھے وہ صلح و آشتی کی طرف مائل تھا اور جس کی وجہ سے آپ اصلاح امت کا واضح تصور رکھتے تھے، آخرکار آپ صلح و امن کے راستے کے کانٹوں کو ختم کرنے اپنے سامنے حائل رکاوٹوں کو عبور کرنے اور مشکلات کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے، پھر انہوں نے صلح کی شرائط لکھیں اور آخرکار سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسی شان دار صلح کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کا رہتی دنیا تک ان کے شاندار اور قابل فخر کارناموں میں شمار ہوتا رہے گا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے اور مسلمانوں کے خون بچانے کے لیے وہی کردار ادا کیا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن جمع کر کے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے جنگ کر کے ادا کیا تھا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 134 )

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے صلح کے اس عمل کا شمار اہم ترین دلائل نبوت میں ہوتا ہے۔ اس کی دلیل ابوبکرہ سے مروی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہو گا اور یقیناً اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کی صلح کروا دے گا۔‘‘

(صحیح بخاری: رقم: 7109)


صفحہ 3 از 3