حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں - دفاعِ…

حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اسی حدیث کے بارے میں ابن کثیر رقمطراز ہیں: خلافت کی یہ تیس سالہ مدت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر پوری ہوتی ہے اس لیے کہ وہ ماہ ربیع الاوّل 41 ھ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاوّل 11 ھ میں ہوئی یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری تک کی درمیانی مدت پورے تیس سال بنتی ہے، آپﷺ کے اس ارشاد کا شمار دلائل نبوت میں ہوتا ہے۔ صلوات اللّٰہ و سلامہ علیہ و سلم تسلیما۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)

اس بنا پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پانچویں خلیفہ راشد قرار پاتے ہیں۔

(مأثر الانافۃ: جلد 1 صفحہ 105۔ مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 155)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کی قانونی حیثیت کے بارے میں متعدد علماء نے گفتگو کی ہے جن میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:

ابوبکر بن العربی، (احکام القرآن: جلد 4 صفحہ 1720)

قاضی عیاض، (صحیح مسلم پر شرح نووی: جلد 12 صفحہ 201)

ابن کثیر، (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)

شارح عقیدہ طحاویہ، (شرح عقیدۃ طحاویۃ: صفحہ 545)

مناوی، (فیض القدیر: جلد 2 صفحہ 409)

اور ابن حجر ہیثمی (الصواعق المحرقۃ: جلد 2 صفحہ 397)

اگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چاہتے تو اپنی شرعی پوزیشن کی وجہ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تھکا سکتے تھے اور شامی حلقوں میں منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتے تھے یا کم از کم سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے اعتماد کو متزلزل کر سکتے تھے اور یہ اس لیے کہ وہ جس معنوی قوت اور روحانی اثر و نفوذ کے مالک تھے اس کی حیثیت کوئی معمولی نہیں تھی، ایک تو اس لیے کہ انہیں شرعی اور قانونی حیثیت حاصل تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

2۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی قائدانہ صلاحیتیں: 

ایک دن نفیر بن حضرمی نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آپ خلافت کے خواہش مند تھے، تو اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا: عرب کے بااثر لوگ میری مٹھی میں تھے وہ اس سے صلح کرتے جس سے میں صلح کرتا اور اس سے جنگ کرتے جس سے میں جنگ کرتا، مگر میں نے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خلافت کو ترک کر دیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی یہ شہادت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کی پوزیشن بہت مضبوط تھی اور یہ کہ ان کے پیروکار صلح ہو یا جنگ ہر حالت میں ان کے ساتھ تھے، علاوہ ازیں آپ بڑا موثر خطابی اور تقریری ملکہ رکھتے تھے۔ فصاحت بیانیہ، قوت تاثیر اور جذبات کی صداقت سے متصف تھے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ سیدنا حسنؓ نواسہ رسول اللہﷺ تھے۔ ان سب چیزوں نے آپ کی قوت اور خود اعتمادی میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔ ہمارے پاس اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی مشکل اور مایوس کن حالات میں اہل کوفہ کو اپنے باپ کا ساتھ دینے پر آمادہ کر لیا، اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جنگ میں شریک ہو کر قتل و قتال کرنے اور فتنہ میں حصہ لینے سے روک رکھا تھا اور اس کے لیے وہ انہیں فتنہ میں شریک ہونے سے ممانعت پر مشتمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنایا کرتے تھے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 514۔ مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 12 صفحہ 15۔ اس کی سند حسن ہے)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف سیدنا حسن سے پہلے محمد بن ابوبکرؓ اور محمد بن جعفرؓ کو بھیجا مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، پھر انہوں نے ہشام بن عقبہ بن ابو وقاصؓ کو بھیجا تو انہیں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی وجہ ان کا ابو موسیٰ اشعریؓ سے شدید طور سے متاثر ہونا تھا۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب: صفحہ 144۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 486)

اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا گیا اور پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ان لوگوں پر خاصا اثر تھا، سیدنا حسنؓ لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! اپنے امیر کی دعوت پر لبیک کہو اور اپنے بھائیوں کی طرف چلو، یقیناً کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو اس کام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، اللہ کی قسم! اگر اس کے لیے اصحاب دانش و بینش اٹھیں گے تو اس کا انجام بہتر بھی ہو گا اور اس کا نتیجہ بھی جلدی سامنے آئے گا۔

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 53۔ علی بن ابی طالب: صلابی، جلد 2 صفحہ 60)

لہٰذا ہماری دعوت پر لبیک کہو اور جس آزمائش سے ہم اور تم سبھی دو چار ہیں اس میں ہماری مدد کرو۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 516) 

اس پر بہت سارے اہل عراق نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور چھ سے سات ہزار تک لوگ عمار بن یاسر اور حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ امیر المؤمنین کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

(ایضًا)

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے ہی کوفہ کے والی چلے آ رہے تھے اور ان کا شمار عراق کے محبوب عوام قائدین میں ہوتا تھا اور وہ اپنے علم و فضل اور زہد کی وجہ سے لوگوں میں خصوصی مقام و مرتبہ کے حامل تھے۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کو اپنی صف میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور وہ ان کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔

3۔ بعض بڑے قائدین کا ان صف میں موجود ہونا: 

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے کیمپ میں بڑے بڑے قائدین شامل تھے، مثلاً ان کے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، ان کے عم زاد عبداللہ بن جعفرؓ، قیس بن سعد بن عبادۃؓ اور عدی بن حاتمؓ وغیرہم۔ اگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلافت کے متمنی ہوتے تو وہ اس قیادت کو متحرک کرنے کے لیے اسے میدان عمل میں اتار دیتے اور وہ لوگوں کو مطمئن کر کے انہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار کرتے اس طرح وہ کم از کم اپنے زیر اثر علاقہ پر خلافت قائم رکھ سکتے تھے۔

4۔ ان کا اہل عراق کی نفسیات سے بخوبی آگاہ ہونا:

صفحہ 2 از 3