حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں - دفاعِ…

حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی خارجی کے ہاتھوں امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد رمضان 40 ھ میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی امیر المؤمنین کے طور سے بیعت ہوئی۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 35، 38 تحقیق ڈاکٹر احسان عباس)

جن کا آپ کے والد کے بعد لوگوں نے انتخاب کیا تھا، عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرما رہے تھے: میری داڑھی کو میرے سر کے خون سے رنگ دیا جائے گا۔ بدنصیب میرے بارے میں کیا انتظار کر رہا ہے۔

(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 139۔ مسند احمد: جلد 2 صفحہ 325، حسن لغیرہ)

لوگوں نے کہا: امیر المؤمنینؓ! آپ اپنے قاتل کے بارے میں ہمیں آگاہ فرمائیں، ہم اس کے قرابت داروں کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ سیدنا علیؓ نے فرمایا: اس طرح تو تم میرے بدلہ میں میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دو گے۔ انہوں نے کہا: آپؓ کسی کو ہمارا خلیفہ مقرر کر دیں، انہوں نے فرمایا: نہیں، میں تمہیں اس کے لیے چھوڑ جاؤں گا جس کے لیے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا۔ وہ کہنے لگے: جب اپنے رب کے پاس جاؤ گے تو اس وقت کیا کہو گے؟ فرمایا: میں یہ کہوں گا کہ میرے اللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان میں باقی رکھا پھر تو نے مجھے اپنی طرف قبض کر لیا اگر تو چاہے تو ان کی اصلاح کر دے اور اگر چاہے تو انہیں خراب کر دے۔

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 325، حسن لغیرہ)

دوسری روایت میں ہے: میں کہوں گا: یااللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان کا خلیفہ بنائے رکھا پھر تو نے مجھے قبض کر لیا اور میں تجھے ان میں چھوڑ آیا۔

(کشف الاستار عن زوائد البزار: جلد 3 صفحہ 204)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ چار تکبیروں کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور انہیں کوفہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سب سے پہلے قیس بن سعدؓ نے بیعت کی، انہوں نے کہا: اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں میں کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور عہد شکن لوگوں کے ساتھ قتال پر آپؓ سے بیعت کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت پر، اس لیے کہ یہ ہر شرط کا احاطہ کرتی ہے، چنانچہ اس نے آپ سے بیعت کی اور خاموش ہو گیا اس کے بعد دوسرے لوگوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 77)

جب اہل عراق نے سیدنا حسنؓ سے بیعت کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم میری بات سنو گے بھی اور میری اطاعت بھی کرو گے جس سے میں صلح کروں گا اس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم بھی جنگ کرو گے۔

(ایضاً)

دوسری  روایت میں ہے کہ سیدنا حسن نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم سے اپنی شرائط پر بیعت لوں گا۔ انہوں نے ان کے بارے پوچھا تو فرمایا: جس سے میں صلح کروں گا اس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم بھی جنگ کرو گے۔

(طبقات ابن سعد: تحقیق ڈاکٹر محمد سلمی: جلد 1 صفحہ 246، 247)

ابن سعدؓ کی روایت میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اہل عراق سے دو بیعتیں لیں: امارت پر اور اس بات پر کہ جہاں وہ داخل ہوں گے وہاں اہل عراق بھی داخل ہوں گے اور جس سے وہ راضی ہوں گے اس سے اہل عراق بھی راضی ہوں گے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 316، 317)

گزشتہ روایات سے مستفاد ہوتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالنے کے فوراً بعد صلح کے لیے فضا ہموار کرنی شروع کر دی تھی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے طور سے اپنی گرفت مضبوط بنانا شروع کر دی، عمال اور امراء کا تقرر کیا، لشکر تیار کیے، عطیات تقسیم کیے اور جنگجوؤں کے عطیات میں ایک ایک سو کا اضافہ کر دیا۔ جس سے سیدنا حسنؓ نے ان کے دل موہ لیے اور وہ سیدنا حسنؓ سے راضی ہو گئے۔

(تاریخ العراق فی ظل الحکم الاموی: صفحہ 67 مقاتل الطالبین: صفحہ 55)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے کی بجائے ان سے جنگ کرنا بھی ممکن تھا، عسکری، اخلاقی، سیاسی اور دینی پہلوؤں سے ان کی یکتا شخصیت اس کام کے لیے ان کی ممد و معاون تھی علاوہ ازیں انہیں کئی ایسے تجربہ کار اور مردان کار کی حمایت بھی حاصل تھی جو اُن کے لیے فضا ہموار کر سکتے تھے مثلاً قیس بن سعد بن عبادہ، حاتم بن عدی طائی رضی اللہ عنھم وغیرہ، یہ سب لوگ بدرجہ اتم قائدانہ صلاحیتوں سے مالامال تھے، مگر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مسلمانوں کے خون بچانے، امت کو متحد کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اخروی اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے صلح و آشتی میں دلچسپی دکھائی اور حکومت اور حکومتی مراعات سے بے رغبتی کا مظاہرہ کیا، پھر انہوں نے آگے بڑھ کر اصلاحی پروگرام کی قیادت کی، وحدت امت کا تاج اپنے سر پر سجایا اور تمام تر قوت و طاقت کے باوجود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے۔

ہمارے اس مؤقف کی تائید مندرجہ ذیل امور سے ہوتی ہے:

1۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب شوریٰ کی بنیاد پر ہوا تھا جس کے نتیجہ میں وہ حجاز، یمن، عراق اور ان تمام مقامات اور علاقوں سے شرعی اور قانونی خلیفہ قرار پائے جو اُن کے والد کے ماتحت تھے، آپؓ نے یہ منصب خلافت چھ ماہ تک سنبھالے رکھا، اور یہ مدت اس خلافت راشدہ کے ضمن میں آتی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ فرمایا تھا کہ اس کی مدت تیس سال ہے پھر بادشاہت کا دور دورہ ہو گا۔ اس سلسلہ میں آپ کا ارشاد ہے: ’’میری امت میں تیس سال خلافت رہے گی اس کے بعد بادشاہت قائم ہو جائے گی۔‘‘

(سنن ترمذی مع شرح تحفۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 395، 397 حدیث حسن)

صفحہ 1 از 3