سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر…

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر اس کے اثرات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

زیادہ تر صحابہؓ و تابعینؒ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’تجھے باغی گروہ قتل کرے گا‘‘ (مسلم: رقم: 2916) سے یہی سمجھا کہ اس سے مقصود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا لشکر ہے۔ اگرچہ وہ اپنے اجتہاد میں معذور تھے، ان کا قصد و ارادہ حق کا حصول تھا مگر وہ اسے حاصل نہ کر سکے۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جماعت حق کے زیادہ قریب تھی۔

(معاویۃ بن ابی سفیان: صفحہ 214،210)

اگرچہ ائمہ کرام کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل پسند نہیں آئی مگر انہوں نے انہیں ان کے اجتہاد میں معذور سمجھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’وہ انہیں جنت کی طرف بلا رہا ہو گا اور وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے‘‘

(بخاری: رقم: 447)

کی شرح میں فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں قتل ہوئے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اور جن لوگوں نے انہیں قتل کیا وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت بھی تھی، تو ان کے لیے جہنم کی دعوت دینا کس طرح جائز قرار پائے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انہیں اس امر کا یقین تھا کہ وہ جنت کے داعی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اجتہاد کیا، لہٰذا وہ اپنے یقین پر عمل کرنے کی وجہ سے قابل ملامت نہیں ٹھہریں گے، جنت کی طرف بلانے کا مطلب حصول جنت کے سبب کی طرف بلانا ہے اور وہ امام کی اطاعت سے عبارت ہے، اسی طرح وہ اس تاویل کے لیے بھی معذور ہوں گے جن کا ان کے سامنے ظہور ہوا۔

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 645)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

امام ابو المعالی کتاب الارشاد میں رقمطراز ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ امام برحق تھے اور ان کے ساتھ جنگ کرنے والے بغاوت کرنے والے۔ ان کے ساتھ حسن ظن اس بات کا متقاضی ہے کہ ان کی غلطی کے باوجود ان کے بارے میں یہ یقین رکھا جائے کہ وہ خیر کے متلاشی تھے۔

(التذکرۃ: جلد 2 صفحہ 222)

مزید فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات کا جواب یہ دیا تھا کہ اگر ہم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے تو پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیا تھا اس لیے کہ احد کے میدان جنگ میں انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ حقیقی جواب نہیں بلکہ الزامی جواب تھا اور یہ ایسی حجت تھی جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ یہ امام ابو الخطاب ابن دحیہ کا قول ہے۔

(التذکرۃ: جلد 2 صفحہ 223)

مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معاویہ کا یہ قول کہ ’’عمار کا قاتل وہ ہے جو انہیں ہماری تلواروں کے سامنے لے کر آیا۔‘‘ بہت دور کی تاویل ہے اس لیے کہ اگر یہ بات ہو تو جہاد فی سبیل اللہ کے دوران جام شہادت نوش کرنے والوں کا قاتل لشکر کا کمانڈر قرار پائے گا اس لیے کہ دشمن کی تلواروں کے سامنے انہیں وہ لے کر آیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 221)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جہاں تک مجھے معلوم ہے ائمہ اربعہ کے پیروکاروں اور ان جیسے دیگر اہل سنت میں سے یہ کسی کا بھی قول نہیں ہے، یہ بہت سارے مروانی اور ان کے ہم نوا لوگوں کا قول ہے۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 406)

ابن قیم اس تاویل کی تعلیق میں فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے لیے اس ارشاد کہ ’’تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘

(مسلم: رقم: 2916)

تو اہل شام نے اس کی جو یہ تاویل کی کہ ’’اسے ہم نے قتل نہیں کیا بلکہ اس کے قاتل وہ ہیں جنہوں نے اسے لا کر ہمارے نیزوں کے سامنے پھینک دیا۔‘‘ تو ان کی یہ تاویل سراسر باطل ہے جو اس لفظ کے ظاہر کے بھی خلاف ہے اور اس کی حقیقت کے بھی، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل وہی ہے جس نے انہیں قتل کیا نہ کہ وہ جو اُن سے مدد کا خواستگار ہوا۔

(الصواعق المرسلۃ: جلد 1 صفحہ 184، 185)


صفحہ 3 از 3