سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر…

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر اس کے اثرات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

امام ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث تواتر کے ساتھ ثابت ہے: ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ یہ اخبار بالغیب کے قبیل سے ہے اور اس کا شمار صحیح ترین احادیث میں ہوتا ہے۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1140)

اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: اس باب میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں، پس یہ متواتر حدیث ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 421)

اس حدیث کو علماء نے کیسے سمجھا!

الف: ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اس حدیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عمار رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نواصب کے اس دعویٰ کی تردید ہو رہی ہے کہ ان جنگوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف صحیح نہیں تھا۔

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 646)

مزید فرماتے ہیں: حدیث ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان جنگوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف درست تھا اس لیے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے قتل کیا تھا۔

(فتح الباری: جلد ض13 صفحہ 92 )

ب: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جنگ صفین کے دن عمار جہاں بھی جاتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے پیچھے جاتے اس لیے کہ انہیں معلوم تھا کہ وہ عادل جماعت کے ساتھ ہیں۔

(تہذیب الاسماء و اللغات: جلد 2 صفحہ 38)

ج: ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اس کے رفقاء کے مقابلہ میں حق سے زیادہ قریب تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی ان پر زیادتی کر رہے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 220)

آپ مزید فرماتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی اور انہیں اہل شام نے قتل کیا۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا راز کھل گیا کہ انہیں باغی جماعت قتل کرے گی اور اس سے یہ بھی عیاں ہو گیا کہ سیدنا علیؓ حق پر تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف) بغاوت کرنے والے تھے، اس حدیث میں نبوت کے کتنے ہی دلائل موجود ہیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 277 )

د: امام ذہبی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:

اہل شام مؤمنوں کا ایک گروہ تھا جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، اور یہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ثابت ہوتا ہے: ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 8 صفحہ 209)

ھ: قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ارشاد باری تعالیٰ: ﴿وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا ﴾ (سورۃ الحجرات آیت 9) 

ترجمہ: اگر اہل ایمان کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں۔

مسلمانوں کے قتال میں اصل اور متاولین کے ساتھ جنگ کی دلیل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اسی پر اعتماد کیا اور اس امت کے سرکردہ لوگوں نے اسی کی پناہ لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بھی یہی مراد ہے: ’’عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘

(احکام القرآن: جلد 4 صفحہ 1717)

و: ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ سیدنا علیؓ کی امامت و خلافت کے صحیح ہونے اور ان کی اطاعت کے وجوب کی دلیل ہے اور یہ کہ ان کی اطاعت کی دعوت دینے والا جنت کی دعوت دینے والا اور ان کے ساتھ جنگ کی دعوت دینے والا جہنم کی دعوت دینے والا ہے اگرچہ وہ تاویل کنندہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنا جائز نہیں تھا، اسی بنا پر ان کے خلاف جنگ کرنے والا گناہ گار ہے، اگرچہ وہ تاویل کنندہ ہو یا بلاتاویل بغاوت کرنے والا ہو۔ یہ ہمارے اصحاب کے دو اقوال میں سے زیادہ صحیح قول ہے اور یہی ان ائمہ فقہاء کا مذہب ہے جنہوں نے اس سے تاویل کنندہ باغیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا استدلال کیا ہے۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 437)

مزید فرماتے ہیں: اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدمقابل لوگوں سے زیادہ حق کے قریب تھے، اور اگرچہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ نے ہی قتل کیا تھا۔ جیسا کہ اس بارے میں نصوص وارد ہیں۔ مگر ہم پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم ان سب چیزوں پر ایمان لائیں جو اللہ کی طرف سے آتی ہیں اور سارے حق کا اقرار کریں، نہ تو ہماری کوئی ذاتی خواہشات ہوں اور نہ ہم علم کے بغیر کوئی بات کریں، کچھ حق کو تسلیم کرنے اور کچھ کے انکار سے تفرقہ اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 449، 450) 

ز: شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘ سیدنا عمار بن یاسرؓ کو جنگ صفین میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے قتل کیا تھا۔ اس بنا پر اگرچہ وہ لوگ بغاوت کرنے والے تھے مگر تھے اجتہاد کرنے والے، انہوں نے یہ سمجھا کہ ہماری طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنا صائب ہے۔

(فتاویٰ و مقالات متنوعۃ: جلد 6 صفحہ 87)

ح: سعید حوّا لکھتے ہیں:

عمار کو قتل کیے جانے کے بعد جس کے بارے میں نصوص وارد ہیں کہ انھیں باغی گروہ قتل کرے گا- سرکشی کرنے والے عناصر پر یہ بات واضح ہو گئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں اور ان کے ساتھ مل کر قتال کرنا واجب ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی جنگ میں شریک نہ ہونے پر بھی اس لیے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے واجب کا ترک کیا، اور وہ واجب تھا ان لوگوں کے خلاف امام حق علی رضی اللہ عنہ کی نصرت و معاونت کرنا۔ جنہوں نے بدون حق ان کے خلاف خروج کیا۔ جب کہ فقہاء کا یونہی فتویٰ ہے۔

(الاساس فی السنۃ: جلد 4 صفحہ 1710)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کی تردید کہ: ’’اسے اس نے قتل کیا جو اسے لے کر آیا‘‘:

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 206)

صفحہ 2 از 3