تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ

  مولانا اشتیاق احمد

صفحہ 5 از 5
معتبر روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے قرآن مجید کے کسی لفظ میں بھی ان لوگوں کا اختلاف نہیں ہوا، ہاں! سورۃ بقرہ میں ایک لفظ التابوت ہے، اس کے بارے میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کی رائے گول ة سے لکھنے کی تھی اور حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ، لمبی ت سے لکھنا چاہتے تھے، جب یہ بات حضرت عثمان غنیؓ کے پاس پہنچی تو آپؓ نے لمبی ت سے لکھنے کا حکم فرمایا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء مع حاشیہ جلد، 2 صفحہ، 441/442)
واضح رہے کہ مذکورہ بالا چار حضرات مجلس کتابت کے اساسی رکن تھے، ان کے علاؤہ دوسرے حضرات کو بھی ان کے ساتھ کیا گیا تھا، فتح الباری میں ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قریش اور انصار کے بارہ افراد کو اس کے لیے جمع فرمایا تھا، ان میں مذکورہ چاروں حضرات کے علاؤہ سیدنا اُبی بن کعب، سیدنا مالک بن ابی عامر، سیدنا کثیر بن افلح، سیدنا انس بن مالک اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 23)
عہد عثمانیؓ میں تیار کردہ نسخوں کی خصوصیات:
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جو نسخہ تیار ہوا تھا، اس میں ساری سورتیں الگ الگ لکھی گئی تھیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام سورتوں کو اسی ترتیب سے یکے بعد دیگرے ایک ہی مصحف میں لکھوایا۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 22)
قرآن مجید ایسے رسم الخط میں لکھا گیا ہے کہ ممکن حد تک متواتر قرأتیں سما جائیں۔
(مناہل العرفان: جلد، 1 صفحہ، 253)
سیدنا عثمان غنیؓ نے جن حضرات کو نسخہ قرآن تیار کرنے کے لیے مامور فرمایا تھا، ان حضرات نے اسی نسخہ کو بنیاد بنایا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تیار کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ مزید احتیاط کے لیے وہی طریقہ اختیار فرمایا جو سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں اختیار کیا گیا تھا، چنانچہ رسول اللہﷺ کے زمانہ کی متفرق تحریریں، جو مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس محفوظ تھیں، انہیں دوبارہ طلب کیا گیا اور ان کے ساتھ از سرِ نو مقابلہ کر کے یہ نسخے تیار کیے گئے۔
(علوم القرآن: صفحہ، 191)
عہد عثمانی میں تیار کردہ نسخوں کی تعداد:
اس سلسلے میں دو اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پانچ نسخے تیار کرائے تھے، یہی قول زیادہ مشہور ہے۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 24)
اور دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ نے سات نسخے تیار کرائے تھے، ایک نسخہ مدینہ منورہ میں رکھا گیا اور بقیہ مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ اور کوفہ میں ایک ایک کر کے بھیج دیا گیا، یہ قول ابنِ ابی داؤد سے ابو حاتم سجستانیؒ نے نقل کیا ہے۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 25)
امت میں پائے جانے والے دیگر مصاحف:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام کے پاس موجود سارے نسخوں کو نذرِ آتش کرنے کا حکم نافذ فرما دیا۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 13)
تاکہ امتِ مسلمہ ایک رسم الخط پر متفق ہو جائے اور امت کی شیرازہ بندی باقی رہے۔ اس وقت موجود بلا استثنا سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت عثمان غنیؓ کے اس کارنامے کی تائید و حمایت کی اور خوب خوب سراہا۔
عہد صدیقی والا نسخہ:
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حضرت حفصہؓ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ والا نسخہ واپسی کے وعدے سے منگوایا تھا۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 19)
اس لیے اس سے نقلیں تیار کرکے حسبِ وعدہ واپس فرما دیا۔
(فتح الباری: صفحہ، 139)

صفحہ 5 از 5