تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ

  مولانا اشتیاق احمد

صفحہ 4 از 5
حافظ ابنِ حجرؒ نے ہی ایک دوسری وجہ بھی لکھی ہے کہ گواہیاں اس بات پر بھی لی جاتی تھیں کہ دو گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ لکھی ہوئی آیت ان وجوہ (سبعہ) کے مطابق ہے جن پر قرآن مجید نازل ہوا ہے۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 17 و الاتقان: جلد، 1 صفحہ، 77)
لکھنے کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس موجود لکھے ہوئے مجموعوں سے ملایا جاتا، تا کہ یہ مجموعہ متفقہ طور پر قابلِ اعتماد ہو جائے۔
(البرہان فی علوم القرآن للزرکشی: جلد، 1 صفحہ، 238)
جب اجتماعی تصدیق کے ساتھ قرآن مجید کی جمع و تدوین کا کام مکمل ہو گیا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کو کیا نام دیا جائے؟ چنانچہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کا نام سفر رکھا، لیکن یہ نام یہودیوں کی مشابہت کی وجہ سے پاس نہیں ہوا، اخیر میں مصحف نام پر سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہو گیا۔
(الاتقان: جلد، 1 صفحہ، 77)
قرآن مجید کا یہ متفق علیہ نسخہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی وفات تک رہا، پھر سیدنا عمرؓ کے پا س رہا، جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمرؓ کے پاس محفوظ رکھا گیا، جیسا کہ بخاری شریف کے حوالے سے گزر چکا ہے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس سے ہی منگوا کر نقول تیار کرائی تھیں۔
نسخہ صدیق کی خصوصیت:
دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس بھی قرآن مجید لکھا ہوا تھا، لیکن جن خصوصیات کا حامل سیدنا ابوبکر صدیقؓ والا اجماعی نسخہ تھا، ان سے دوسرے سارے نسخے خالی تھے، اسی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان اُسے اُم کہا جاتا تھا، اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں
ہر سورت کو الگ الگ لکھا گیا تھا، لیکن ترتیب بعینہ وہی تھی، جو سرکارِ دو عالمﷺ نے بتائی تھی ۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 22)
اس نسخہ میں ساتوں حروف جمع تھے، جن پر قرآن مجید کا نزول ہوا۔
(مناہل العرفان: جلد، 1 صفحہ، 246/247)
یہ نسخہ خط حَیِری میں لکھا گیا تھا۔
(تاریخ القرآن، از مولانا عبد الصمد صارم: صفحہ، 43)
اس میں صرف وہ آیات لکھی گئی تھیں، جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی۔ اس کو لکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتبہ نسخہ تمام امت کی اجماعی تصدیق سے تیار ہو جائے، تا کہ ضرورت پڑنے پر اس کی طرف رجوع کیا جا سکے۔
(علوم القرآن از مفتی محمد تقی عثمانی: صفحہ، 186)
اس نسخہ میں قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر، ایک ہی جلد میں مجلد کرایا گیا اور یہ کام حکومت کی طرف سے انجام دیا گیا، جو کام رسول اللہﷺ کے زمانہ میں نہ ہو پایا تھا۔
(تدوین قرآن: صفحہ، 40)
وکان القرآن فیھا منتشراً، فجمعھا جامع، وربطھا بخیط․
(الاتقان: جلد، 1 صفحہ، 83)
ترجمہ:  اور (رسول اللہﷺ کے گھر میں قرآن مجید کی مکمل یاد داشتوں کا جو ذخیرہ تھا) اس میں (قرآنی سورتیں) الگ الگ لکھی ہوئی تھیں، پس اس کو (حضرت ابوبکرؓ کے حکم سے) جمع کرنے والے (سیدنا زید بن ثابتؓ) نے ایک جگہ (ساری سورتوں کو) جمع کر دیا اور ایک دھاگا سے سب کی شیرازہ بندی کر دی۔
قرآن مجید کا یہ متفق علیہ نسخہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، جب ان کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو (وصیت کے مطابق) آپؓ کی بیٹی ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رکھا رہا۔
(صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 746)
عہد عثمانیؓ امت کی شیرازہ بندی:
جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ جمع قرآن ہے، اسی طرح سیدنا عثمان غنیؓ کا سب سے بڑا کارنامہ پوری امت کو قرآن مجید کے اس متفق علیہ نسخہ پر جمع کرنا ہے، جو عہد صدیقی میں تیار کیا گیا تھا، اس طرح امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھرنے سے انہوں نے بچا لیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ
بالکل ابتداء میں مضمون و معنیٰ کی حفاظت کرتے ہوئے الفاظ میں ادنی تبدیلی کے ساتھ پڑھنے کی اجازت بھی دی گئی تھی، (مناہل العرفان) جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور اسلام کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا، تو جن لوگوں نے مذکورہ بالا رعایتوں کی بنیاد پر اپنے اپنے قبائلی اور انفرادی لہجوں یا مختلف متواتر تلفظ کے لحاظ سے قرآن مجید کے مختلف نسخے لکھے تھے، ان کے درمیان شدید اختلاف رونماء ہو گیا، حتیٰ کہ ایک دوسرے کی تکفیر کی جانے لگی، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورے سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے تیار کردہ متفق علیہ نسخہ پر امت کو جمع کیا اور اس کے علاؤہ سارے نسخوں کو طلب کر کے نذرِ آتش کر دیا، چنانچہ اختلاف جڑ سے ختم ہو گیا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے، تدوین قرآن: صفحہ، 44/54 تحفة الالمعی: جلد، 7 صفحہ، 94/95 مناہل العرفان وغیرہ)
کام کی نوعیت:
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے، حضرت ابوبکر صدیقؓ کا تیار کردہ نسخہ یہ کہہ کر منگوایا کہ ہم اس سے نقل تیار کر کے اصل آپؓ کو واپس کر دیں گے، چنانچہ حضرت حفصہؓ نے وہ نسخہ بھیج دیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تین قریشی اور چوتھے انصاری صحابیؓ کو پانچ یا سات نسخے لکھنے کا حکم فرمایا، قریشی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت سعید بن العاصؓ اور حضرت عبد الرحمٰن بن الحارث بن ہشامؓ تھے اور انصاری صحابیؓ سے مراد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان سب کو حضرت عثمان غنیؓ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ آپ حضرات کا اگر کسی جگہ رسم الخط میں حضرت زیدؓ سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کے رسم الخط کے مطابق لکھیں، اس لیے کہ قرآن مجید قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 22 )
صفحہ 4 از 5