تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ

  مولانا اشتیاق احمد

صفحہ 3 از 5
ترجمہ: قرآن مجید کی خدمت کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر و ثواب کے مستحق سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں، اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائیں کہ وہ اولین شخصیت ہیں، جنہوں نے جمعِ قرآن کا (مایہ ناز) کارنامہ انجام دیا۔
سرکارِ دو عالمﷺ کے زمانے میں مکمل قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا، سارے اجزا الگ الگ تھے، حضرت ابوبکرؓ نے قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کروانے کا کام حکومتی اور اجماعی طور پر انجام دیا، چنانچہ ایسا نسخہ مرتب ہو گیا جس کو سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اجماعی تصدیق حاصل ہوئی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی خدمت کو حکومت کی طرف سے انجام دینے کا مطالبہ کر رہے تھے، وہ چاہتے تھے کہ خلافت و حکومت اس مہم کو اپنے ہاتھ میں لے اور اپنی نگرانی میں اس کو مکمل کرائیں، تا کہ قرآن مجید ضائع ہونے سے بچ جائے اور بعد میں کتاب اللہ میں اختلاف پیدا نہ ہو۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت امام بخاریؒ نے نقل فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ
جنگ یمامہ کے فوراً بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس بلاوا بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت عمر فاروقؓ بھی موجود تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے مخاطب ہوئے کہ سیدنا عمرؓ نے ابھی آ کر مجھ سے کہا کہ جنگ یمامہ میں حفاظ کرام کی ایک بڑی تعداد شہید ہو گئی ہے، اگر آئندہ لڑائیوں میں بھی اسی طرح حفاظ شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کریم کا بڑا حصہ ناپید نہ ہو جائے!
لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ آپؓ قرآن مجید جمع کرنے کا حکم دے دیں ، میں نے کہا کہ جو کام رسول اللہﷺ نے نہیں کیا ہے وہ ہم کیسے کریں؟ سیدنا عمرؓ نے جواب دیا کہ بہ خدا! یہ کام بہتر ہے، اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بار بار مجھ سے یہ کہتے رہے، یہاں تک کہ مجھے بھی اس پر شرحِ صدر ہو گیا اور اب میری رائے بھی وہی ہے جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے!
انک رجل شاب عاقل، لا نتھمک، وقد کنت کتبت الوحی لرسول الله صلی الله علیہ وسلم، فتتَّبع القرآن، فاجمعہ۔
ترجمہ: واقعہ یہ ہے کہ تم نوجوان، سمجھ دار آدمی ہو، ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بد گمانی نہیں ہے اور تم رسول اللہﷺ کے لیے کتابت وحی کی خدمت بھی کر چکے ہو، اس لیے تم قرآن کو تلاش کرکے جمع کرو!
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! اگر یہ حضرات مجھے پہاڑ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو مجھے اتنا مشکل نہ ہوتا، جتنا جمع قرآن کا بار ہوا، میں نے کہا بھی کہ آپ حضرات ایسا کام کیوں کر رہے ہیں، جو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا تھا؟ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! یہ کام بہتر ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بار بار یہی دہراتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کام کے لیے کھول دیا، جس کام کے لیے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی الله عنہما کو شرحِ صدر عطا فرمایا تھا، چنانچہ میں نے کھجور کی شاخوں، پتھر کی باریک تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن مجید تلاش کر کے جمع کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ سورۃ توبہ کی آیت نمبر 128
لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞
اخیر سورۃ تک میں نے صرف حضرت ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی، ان کے علاؤہ کسی اور کے پاس نہیں پائی، ان کی تنہا شہادت کو رسول اللہﷺ نے دو آدمی کی شہادت کے قائم مقام قرار دیا تھا۔
(صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 745/746)
جمعِ قرآن میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا طریقہ کار سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سب حافظ قرآن تھے، ان کے علاؤہ بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حفاظ کی کمی نہیں تھی، اگر سیدنا زیدؓ چاہتے تو اپنے حفاظ سے پورا قرآن مجید لکھ دیتے، یا حافظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اکٹھا کر کے محض ان کے حافظے کی مدد سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا، اسی طرح محض رسول اللہﷺ کے زمانہ کی لکھی ہوئی آیتوں سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا، لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیک وقت سارے وسائل کو بروئے کار لانے کا حکم فرمایا،
خود بھی شریک رہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی حضرت زیدؓ کے ساتھ لگایا۔ سیدنا عمرؓ نے اعلان فرمایا کہ جن لوگوں نے جو کچھ بھی آیت رسول اللہﷺ سے لکھی ہو، وہ سب لے کر آئیں۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 17)
چنانچہ جب کوئی لکھی ہوئی آیت آتی تو بلا چوں و چرا قبول نہ کی جاتی تھی، بلکہ اس پر دو گواہی طلب کی جاتی تھی
وکان لا یقبل من احد شیئاً حتی یشھد شاھدان۔ (الاتقان: جلد، 1 صفحہ، 77)
ترجمہ: اور کسی سے بھی کوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک کہ اس پر دو گواہ گواہی نہ دے دیتے (کہ یہ آیت رسول اللہﷺ کے سامنے لکھی گئی اور آپﷺ کی طرف سے اس کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ واقعتاً آیت الہٰی ہے)
جمع قرآن میں درج ذیل باتیں بھی پیشِ نظر رکھی گئیں
سب سے پہلے سیدنا زید رضی اللہ عنہ اپنی یاداشت سے اس کی تصدیق فرماتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے سیدنا زیدؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ دونوں حضرات کو حکم دیا تھا کہ آپؓ دونوں حضرات مسجد نبویﷺ کے دروازے پر بیٹھ جائیے، پھر جو کوئی آپؓ دونوں کے پاس کتاب اللہ کی کوئی آیت دو گواہوں کے ساتھ لے کر آئے، اس کو آپؓ دونوں لکھ لیجیے!
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 17 الاتقان: جلد، 1 صفحہ، 77)
رسول اللہﷺ کے سامنے کتابت ہونے پر گواہیاں لے جانے کی کیا وجہ تھی؟ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:
کان غرضھم ان لا یکتب إلا من عین ما کتب بین یدی النبی صلی الله علیہ وسلم، لامن مجرد الحفظ․
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 17 والاتقان: جلد، 1 صفحہ، 77)
ترجمہ: ان کا مقصد یہ تھا کہ صرف نبی اکرمﷺ کے عین سامنے لکھی گئی آیتوں کو ہی لکھا جائے، محض حافظہ سے نہ لکھا جائے۔
صفحہ 3 از 5