تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ

  مولانا اشتیاق احمد

صفحہ 2 از 5
غرض یہ کہ سرکارِ دو عالمﷺ آیات لکھانے کا بھی خوب اہتمام فرماتے تھے اور لکھانے کے بعد سن بھی لیتے تھے، اگر فروگذاشت ہوتی تو اس کی اصلاح فرما دیتے تھے۔
فإن کان فیہ سقط أقامہ․ (مجمع الزوائد: جلد، 1 صفحہ، 60)
پھر یہ لکھی ہوئی آیت آپﷺ اپنے پاس محفوظ فرما لیتے تھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپﷺ کے پاس جا کر لکھتے اور آپﷺ کو سناتے تھے، اس طرح بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس سرکار دو عالمﷺ کی لکھائی ہوئی آیات موجود تھیں، بعض کے پاس پورا پورا قرآن مجید لکھا ہوا تھا۔
سامانِ کتابت:
نزولِ قرآن مجید کے زمانہ میں ایجادات و مصنوعات کی کمی ضرور تھی، جس طرح آج کاغذ، قلم اور دوات کی بے شمار قسمیں دریافت ہیں، اس زمانہ میں اتنی ہر گز نہ تھیں، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس وقت کاغذ اور کتابیں دریافت نہ تھیں، یمن، روم اور فارس میں کتب خانے بھی تھے، یہود و نصاریٰ کے پاس کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا، اس زمانے میں کاغذ وغیرہ کی صنعتیں بھی تھیں، لیکن بڑے پیمانے پر نہ ہونے کی وجہ سے کاغذ وغیرہ ہر جگہ دستیاب نہ تھے، اس لیے لکھنے کے لیے جو چیز بھی قابل اور پائدار سمجھ میں آتی اس پر لکھ لیا جاتا تھا۔
(التبیان فی علوم القرآن: صفحہ، 49)
قرآن مجید کی کتابت کے لیے بھی اس وقت کی ایسی پائدار چیزیں استعمال کی گئیں، جن میں حوادث و آفات کے مقابلے کی صلاحیت نسبتاً زیادہ تھی، تا کہ مدتِ دراز تک محفوظ رکھا جا سکے۔
(تدوین قرآن: صفحہ، 31)
حافظ ابن حجرؒ کی تحقیق کے مطابق کتابتِ قرآن میں درج ذیل چیزیں استعمال کی گئیں
الف: زیادہ تر پتھروں کی چوڑی اور پتلی سلوں (لِخاف) کو استعمال کیا گیا، اسے ہم سلیٹ کہہ سکتے ہیں۔
ب: اونٹوں کے مونڈھوں کی چوڑی گول ہڈیوں (کتف) پر بھی لکھا گیا، مونڈھوں کی ہڈیوں کو نہایت اچھی طرح گول تراش کر تیار کیا جاتا تھا۔
ج: چمڑوں کے کافی باریک پارچوں (رقاع) پر بھی قرآن مجید لکھا جاتا تھا، یہ ٹکڑے نہایت باریک ہوتے تھے اور لکھنے کے لیے ہی تیار کیے جاتے تھے اور اس کی بڑی افراط تھی۔
د: بانس کے ٹکڑوں پر بھی آیات لکھی جاتی تھیں۔
ھ: درخت کے چوڑے اور صاف پتے بھی کتابت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
و: کھجور کی شاخوں کی چوڑی جڑوں (عسیب) اور کھجور کے جڑے ہوئے پتوں کو کھول کر ان کی اندرونی جانب بھی آیات کی کتابت ہوتی تھی۔
ز: محدثین نے کاغذ پر بھی کتابت قرآن کا ذکر کیا ہے (فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 17)
سورتوں اور آیتوں کی ترتیب:
پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن مجید میں سورتوں اور آیتوں کی ترتیب توقیفی ہے، یعنی رسول اللہﷺ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پورا قرآن مجید مرتب طور پر لکھوایا، آج بھی اسی ترتیب سے قرآن مجید لکھا اور پڑھا جا رہا ہے اور قیامت تک اسی طرح رہے گا۔
پورا قرآن مجید بائیس سال، پانچ ماہ، چودہ دن میں نازل ہوا۔
(مناہل العرفان: صفحہ، 43)
حسب ضرورت کبھی ایک آیت کبھی چند آیتیں اور کبھی پوری سورۃ کی شکل میں آیات نازل ہوتی رہیں اور ساتھ ہی یہ بھی حکم ہوتا کہ اس کو فلاں سورۃ کے فلاں مقام پر رکھ دیجیے، چنانچہ کاتبینِ وحی کو بلا کر آپﷺ فرماتے: ضعوھا فی موضع کذا․
(التبیان فی علوم القرآن: صفحہ، 49 فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 27)
ترجمہ: اس کو فلاں مقام پر لکھو!
عہد نبویﷺ میں قرآن مجید کے نسخے:
جیسا کہ اوپر گزرا کہ رسول اللہﷺ نزولِ وحی کے ساتھ ہی آیات لکھوا لیا کرتے تھے اور لکھانے کے ساتھ سن بھی لیتے تھے، پھر اسے اپنے پاس محفوظ فرما لیتے تھے، اسی وجہ سے آپﷺ کے پاس پورا قرآن مجید لکھی ہوئی شکل میں بھی موجود تھا، لیکن ایک جلد میں مجلد نہ تھا، مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، وہ خدمتِ نبویﷺ میں پہنچ کر آیات لکھ لیتے تھے، جب کسی سورت میں آیت کا اضافہ ہوتا تو معلوم کرکے مرتب فرما لیتے تھے، اس طرح بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس سرکارِ دو عالمﷺ کا مصدقہ نسخہ قرآن موجود تھا، بعض کے پاس پورا قرآن بھی تھا اور بعض کے پاس چند سورتیں اور چند آیتیں تھیں، لکھنے لکھانے کا سلسلہ بالکل ابتداء سے کثرت سے جاری تھا، اس کی شہادت درج ذیل روایتوں سے ملتی ہے۔
حضرت عمر بن خطابؓ کے اسلام لانے والی روایت میں ہے کہ ان کی بہن سیدہ فاطمہ اور بہنوئی سیدنا سعید بن زید رضی الله عنہما ان سے پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے، وہ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے قرآن پڑھ رہے تھے، جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہایت غضب ناک حالت میں ان کے پاس پہنچے تو ان کے سامنے ایک صحیفہ تھا، جس کو انہوں نے چھپا دیا تھا، اس میں سورۃ طہ کی آیات لکھی ہوئی تھیں۔
(سنن دارقطنی: جلد، 1 صفحہ، 123 باب نہی المحدث عن مس القرآن: دار نشر، لاہور)
امام بخاریؒ نے کتاب الجہاد میں ایک روایت نقل کی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے مصاحف (لکھا ہوا قرآن مجید) لے کر دشمنوں کی زمین میں جانے سے منع فرما دیا تھا۔
(صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 419)
حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے مشورہ سے جب قرآن مجید کے اجماعی نسخہ کی کتابت کا وقت آیا تو اس وقت حضرت زید بن ثابتؓ کو پابند کیا گیا تھا کہ جو کوئی بھی لکھی ہوئی آیت لے کر آئے، اس سے دو گواہوں کی گواہی اس بات پر لی جاتی کہ یہ آیت رسول اللہﷺ کے سامنے لکھی گئی ہے، چنانچہ اس پر عمل ہوا۔
(الاتقان: جلد، 1 صفحہ، 77)
مذکورہ بالا تینوں روایتوں اور ان کے علاؤہ بہت سی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبویﷺ میں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آیات لکھی ہوئی تھیں، بلکہ بعض کے پاس پورا قرآن مجید بھی لکھی ہوئی شکل میں موجود تھا۔
عہد صدیقی میں تدوینِ قرآن مجید:
ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:
أعظم الناس فی المصاحب أجراً ابوبکر، رحم الله علی أبي بکر، ھو اول من جمع کتاب اللہ۔
(الاتقان فی علوم القرآن: جلد، 1 صفحہ، 76)
صفحہ 2 از 5