تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ

  مولانا اشتیاق احمد

صفحہ 1 از 5
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جو آخری نبی جناب محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہوئی ہے، قیامت تک کوئی اور کتاب نازل نہ ہو گی، یہ زندگی کا وہی دستورِ کہن ہے جو ہمارے آبائے اولین کو ملا تھا، اس میں اصولاً اسی کا اعادہ اور عہد کی تجدید ہے، یہ خدائی عطیہ، ہمارا مشترکہ روحانی ترکہ ہے، جو منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے، اسے دوسری آسمانی کتابوں کا آخری اور دائمی ایڈیشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ ابتدائے نزول سے آج تک بلا کسی ادنیٰ تغیر و تبدل کے باقی ہے، اس میں سرِ مُو کوئی فرق نہیں آیا، ایک لمحہ کے لیے نہ تو قرآن مسلمانوں سے جدا ہوا اور نہ مسلمان قرآن سے جدا ہوئے، اس میں باطل کے درآنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے
ا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہِ (سورۃ حم سجدہ: آیت نمبر، 42)
ترجمہ: قرآن مجید میں باطل نہ تو سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔
آسمانی کتابوں میں قرآن مجید ہی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ قیامت تک اپنی اصل حالت پر رہے گا، خود اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، ایک جگہ بڑے زور دار انداز میں ارشاد فرمایا
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞ (سورۃ الحجر: آیت نمبر، 9)
ترجمہ: ہم نے ہی ذکر (قرآن مجید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔
صرف الفاظ نہیں، بلکہ معانی و مطالب کی تشریح و توضیح کی ذمہ داری بھی خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے، ایک جگہ ارشاد ہے
ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗؕ ۞ (سورۃ القیامہ: آیت نمبر، 9)
ترجمہ: پھر ہم پر ہی اس کا بیان (بھی) ہے۔
قرآن مجید کا نزول ضرورت و حاجت کے مطابق تھوڑا تھوڑا ہوتا رہا، کبھی ایک آیت، کبھی چند آیتیں نازل ہوتی رہیں، نزول کی ترتیب موجودہ ترتیب سے بالکل الگ تھی، یہ سلسلہ پورے عہد نبویﷺ کو محیط رہا، بلکہ رسول اللہﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری لمحات تک جاری رہا، اس لیے آپﷺ کے سامنے آج کی طرح کتابی شکل میں منصہ شہود پر آنا مشکل، بلکہ ناممکن تھا، ہاں! یہ بات ضروری ہے کہ ہر آیت کے نازل ہوتے ہی آپﷺ لکھوا لیتے تھے اور زمانہ کے لحاظ سے نہایت
ہی پائدار چیز پر لکھواتے تھے، چنانچہ پورا قرآن مجید بلا کسی کم و کاست کے لکھا ہوا، آپﷺ کے حجرہ مبارکہ میں موجود تھا، اس میں نہ تو کوئی آیت لکھنے سے رہ گئی تھی اور نہ ہی کسی کی ترتیب میں کوئی کمی تھی، البتہ سب سورتیں الگ الگ تھیں اور متعدد چیزوں پر لکھی ہوئی تھیں، کتابی شکل میں جلد سازی اور شیرازہ بندی نہیں ہوئی تھی۔
قد کان القرآن کلہ مکتوباً فی عہدہ صلی الله علیہ وسلم، لکن غیر مجموع فی موضع واحد۔
(الکتابی: جلد، 2 صفحہ، 384، بحوالہ تدوینِ قرآن صفحہ، 43)
ترجمہ: پورا قرآن مجید رسول اللہﷺ کے زمانہ میں لکھا ہوا تھا، لیکن ایک جگہ جمع نہیں تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتابی شکل میں جمع کرایا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کی محقق نقلیں تیار کر کے ہر طرف پھیلایا، بلکہ پوری امت کو اس پر جمع کیا، آج تک قرآن مجید اسی کے مطابق موجود ہے۔
حفاظتِ قرآن مجید کے طریقے:
ابتدائے نزول سے قرآن مجید کی حفاظت جس طرح لکھ کر ہوئی ہے، اس سے کہیں زیادہ حفظ کے ذریعہ ہوئی ہے، سینہ بہ سینہ حفظ کی خصوصیت صرف اسی آخری کتاب الہٰی کو نصیب ہوئی، تورات، انجیل، زبور اور دوسری آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی حفاظت صرف سفینہ میں ہوئی، اس لیے وہ تغیر و تبدل اور دوسرے حوادث کا شکار ہو گئیں، قرآن مجید کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے، ارشاد فرمایا:
ومنزل علیک کتاباً لا یغسلہ الماء․ (صحیح مسلم)
ترجمہ: میں آپﷺ پر ایسی کتاب نازل کرنے والا ہوں جس کو پانی نہیں دھو سکے گا۔
غرض یہ کہ قرآن کی حفاظت شروع شروع میں سب سے زیادہ حافظہ کے ذریعہ ہوئی اور حفاظت کا سب سے اہم ذریعہ یہی ہے، اسی وجہ سے آج تک یہ کتاب مقدس اپنی اصل حالت پر باقی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے خدا داد بے نظیر حافظے کو جاہلیت کے اشعار، انسابِ عرب، حتیٰ کے اونٹوں اور گھوڑوں کی نسلوں کے حفظ سے ہٹا کر، آیاتِ الہٰی کے حفظ پر لگا دیا، عرب کے ضرب المثل حافظے نے چند ہی دنوں میں ہزاروں حفاظ آیاتِ الہٰی کو معرض شہود میں لا کھڑا کر دیا، حفاظ کی کثرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے حافظوں کی تعداد سات سو تھی، بخاری شریف کے حاشیہ میں ہے
وکان عدة من القراء سبع مائة: جلد، 2 صفحہ، 745)
سرکارِ دو عالمﷺ کو حضرت جبرئیل علیہ السلام جب قرآن مجید پڑھ کر سناتے تو آپﷺ جلدی جلدی دہرانے لگتے تھے، تا کہ خوب پختہ ہو جائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖؕ۞ اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚ ۞
(سورۃ القیامہ: آیت نمبر، 16/17)
ترجمہ: آپﷺ قرآن مجید کو جلدی جلدی یاد کر لینے کی غرض سے، اپنی زبان کو حرکت نہ دیجیے، (اس لیے کہ) قرآن مجید کو جمع کرنے اور اس کو پڑھوانے کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔
کتابت کی اہتمام:
زبانی یاد کرنے اور کرانے کے ساتھ ہی سرکارِ دو عالمﷺ نے آیات کی حفاظت کے لیے کتابت (لکھانے) کا بھی خوب اہتمام فرمایا، نزول کے ساتھ ہی بلا تاخیر آیات قلم بند کرا دیتے تھے۔
فکان اذ انزل علیہ الشيء دعا بعض من کان یکتب، فیقول ضعوا ھذا فی السورة التي یذکر فیھا کذا وکذا۔
(مختصر کنز: صفحہ، 48 بحوالہ تدوین قرآن: صفحہ، 27)
ترجمہ: چنانچہ رسول اللہﷺ پر جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی، تو (بلاخیر) جو لکھنا جانتے تھے، ان میں سے کسی کو بلاتے اور ارشاد فرماتے کہ اس آیت کو اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں آیتیں ہیں۔
اور مجمع الزوائد میں یہاں تک ہے۔
(کان جبرئیل علیہ السلام یملی علی النبی صلی الله علیہ وسلم: جلد، 7 صفحہ، 157)
یعنی رسول اللہﷺ کو حضرت جبرئیل علیہ السلام قرآن مجید لکھواتے تھے۔
مسند احمد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا آتاني جبریل فأمرني․
(کنزالعمال: جلد، 2 صفحہ، 40)
یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آ کر مجھے (فلاں آیت کو فلاں جگہ رکھنے کا) حکم دیا۔
صفحہ 1 از 5