حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع قرآن کا تیسرا…

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع قرآن کا تیسرا مرحلہ

  مولانامفتی محمدتقی عثمانی

صفحہ 2 از 2
بنیادی طور پر یہ کام مذکورہ چار حضرات ہی کے سپرد کیا گیا تھا لیکن پھر دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی ان کی مدد کے لیے ساتھ لگا دیا گیا، یہاں تک کہ ابن ابی داؤد کی روایت کے مطابق ان حضرات کی تعداد بارہ تک پہنچ گئی، جن میں حضرت ابی بن کعب، حضرت کثیر بن افلح حضرت مالک بن ابی عامر، حضرت انس بن مالک اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، (یہ پوری تفصیل فتح الباری صفحہ، 13 تا 15 جلد، 9 سے ماخوذ ہے)
ان حضرات نے کتابت قرآن کے سلسلے میں مندرجہ ذیل کام انجام دیئے۔ 
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جو نسخہ تیار ہوا تھا اس میں سورتیں مرتب نہیں تھیں، بلکہ ہر سورت الگ الگ لکھی ہوئی تھی، ان حضرات نے تمام سورتوں کو ترتیب کے ساتھ ایک ہی مصحف میں لکھا۔
(مستدرك حاكم: صفحہ، 229 جلد، 2) 
قرآن کریم کی آیات اس طرح لکھیں کہ ان کے رسم الخط میں تمام متواتر قراءتیں سما جائیں، اس لیے ان پر نہ نقطے لگائے گئے اور نہ حرکات (زبر، زیر، پیش) تا کہ اسے تمام متواتر قراءتوں کے مطابق پڑھا جا سکے، مثلاً ننشرھا لکھا تا کہا سے نشر اور نشرها دونوں طرح پڑھا جا سکے، کیونکہ یہ دونوں قراءتیں درست ہیں۔
(مناهل العرفان: صفحہ، 1254253)
اب تک قرآن کریم کا مکمل معیاری نسخہ جو پوری امت کی اجتماعی تصدیق سے مرتب کیا گیا ہو صرف ایک تھا، ان حضرات نے اس نئے مرتب مصحف کی ایک سے زائد نقلیں تیار کیں، عام طور سے مشہور یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ نے پانچ مصحف تیار کراۓ تھے، لیکن ابو حاتم سجستانی رحمۃ اللہ کا ارشاد ہے کہ کل سات نسخے تیار کئے گئے تھے جن میں سے ایک مکہ مکرمہ، ایک شام، ایک یمن، ایک بحرین، ایک بصرہ اور ایک کوفہ بھیج دیا گیا، اور ایک مدینہ طیبہ میں محفوظ رکھا گیا
(صحیح بخاری فتح الباری: صفحہ، 17 جلد، 9)
مذکورہ بالا کام کرنے کے لیے ان حضرات نے بنیادی طور پر تو انہی صحیفوں کو سامنے رکھا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لکھے گئے تھے، اس کے ساتھ ہی مزید احتیاط کے لیے وہی طریق کار اختیار فرمایا، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اختیار کیا گیا تھا۔ چنانچہ آنحضرتﷺ کے زمانے کی جو متفرق تحریریں مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس محفوظ تھیں، انہیں دوبارہ طلب کیا گیا اور ان کے ساتھ از سرِ نو مقابلہ کر کے یہ نئے نسخے تیار کئے گئے، اس مرتبہ سورہ احزاب کی ایک آیت
مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌ (سورۃ الاحزاب: آیت نمبر، 23)
علیحدہ لکھی ہوئی صرف حضرت خزیمہ بن ثابتؓ انصاری کے پاس ملی، پیچھے ہم لکھ چکے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آیت کسی اور شخص کو یاد نہیں تھی، کیونکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
فقدت اية من الاحزاب حين نسخنا المصحف قد كنت اسـمـع رسـول الـلـه صـلـى الـلـه عـليـه وسلم يقرأ بهـاء فالتمسناها فوجدنا هامع خزيمة بن ثابت الانصاري،
مجھے مصحف لکھتے وقت سورہ احزاب کی آیت نہ ملی جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا، ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس ملی
(صحیح بخاری مع فتح الباری: صفحہ، 17 جلد، 9)
اس سے صاف واضح ہے کہ یہ آیت حضرت زیدؓ اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اچھی طرح یاد تھی، اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ یہ آیت کہیں اور لکھی ہوئی تھی، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جو صحیفے لکھے گئے ظاہر ہے کہ یہ آیت ان میں موجود تھی، نیز دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس قرآن کریم کے جو انفرادی طور پر لکھے ہوئے نسخے موجود تھے ان میں یہ آیت بھی شامل تھی، لیکن چونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے کی طرح اس مرتبہ بھی ان تمام متفرق تحریروں کو جمع کیا گیا تھا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس لکھی ہوئی تھیں، اس لیے سیدنا زیدؓ وغیرہ نے کوئی آیت أن مصاحف میں اس وقت تک نہیں لکھی جب تک ان تحریروں میں بھی وہ نہ مل گئی، اس طرح دوسری آیتیں تو متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس علیحدہ لکھی ہوئی بھی ملیں لیکن سورہ احزاب کی یہ آیت سوائے حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے کسی اور کے پاس الگ لکھی ہوئی دستیاب نہیں ہوئی۔ قرآن کریم کے یہ متعدد معیاری نسخے تیار فرمانے کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تمام انفرادی نسخے نذر آتش کر دیے جو مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس موجود تھے، تا کہ رسم الخط، مسلمہ قراءتوں کے اجتماع اور سورتوں کی ترتیب کے اعتبار سے تمام مصاحف یکساں ہو جائیں، اور ان میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس کارنامہ کو پوری امت نے بہ نظر استحسان دیکھا، اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کام میں ان کی تائید اور حمایت فرمائی صرف حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو اس معاملہ میں کچھ رنجش ہوئی تھی، جس کے اسباب سبعہ احرف کی بحث میں گزر چکے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
لا تـقـولـوا فـي عثمان الا خيراً فوالله مافعل الذي فعل في المصاحف الا عن ملامنا
(فتح الباری،صفحہ، 15 جلد، 9 بحواله ابن ابی داود بسند صحيح) 
ترجمہ: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی بات ان کی بھلائی کے سوا نہ کہو، کیونکہ اللہ کی قسم انہوں نے مصاحف کے معاملہ میں جو کام کیا وہ ہم سب کی موجودگی میں (اور مشورہ سے) کیا۔

صفحہ 2 از 2