شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ…

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

فرماتے ہیں: وہ بڑے گھٹیا اور قبائل کے ذلیل ترین لوگ تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 482، شذرات الذہب: جلد 1 صفحہ 40)

اس کی تائید ان کے اس سنگدلانہ رویے سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے خلیفہ وقت کے ساتھ ان کے محاصرہ سے لے کر ان کی شہادت تک ان کے ساتھ روا رکھا اور ان پر بڑے بڑے مظالم ڈھائے گئے۔ ان تک پانی اور خوراک کی ترسیل روک دی گئی، حالانکہ انہوں نے اپنی جیب سے خرچ کر کے مسلمانوں کے لیے مفت پانی مہیا کیا تھا۔

(تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان: صفحہ 450)

اور جب بھی انہیں بھوک اور کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے اس کے ازالہ کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ان کے ساتھ مالی تعاون کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھا۔

(التمہید و البیان: صفحہ 424)

یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی محاصرین کو ڈانٹتے ہوئے اور صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لوگو! جو کچھ تم کر رہے ہو یہ امیر المؤمنینؓ کے شایان شان نہیں ہے۔ تمہارا یہ رویہ کافروں سے بھی بدتر ہے۔ ان تک پانی اور خوراک کی ترسیل مت روکو، رومی اور فارسی تو اپنے قیدیوں کو بھی کھانا کھلاتے اور پانی پلاتے ہیں۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 400)

الغرض صحیح اخبار و روایات اور تاریخی واقعات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں کو سیدنا عثمان کے خلاف بھڑکانے یا ان کے خلاف فتنہ کھڑا کرنے میں باغیوں کے شراکت دار نہیں تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 18)

تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں میری کتاب ’’ سیّدنا عثمان بن عفان، شخصیت اور کارنامے۔‘‘

  

  

 



صفحہ 3 از 3