شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ…

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

فتنہ کے ایام میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑی دلیری کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا۔ ان سے مشاورت کرتے رہے۔ ان کی خیر خواہی کرتے اور سمع و اطاعت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب سے بڑھ کر ان کا دفاع کیا اور انہیں کبھی برائی کے ساتھ یاد نہ کیا۔ سیدنا علیؓ نے اصلاح احوال کی بڑی کوشش کی، خلیفۃ المسلمین اور ان کے خلاف خروج کرنے والوں کے درمیان افہام و تفہیم کے لیے سرگرم عمل رہے۔ مگر صورت حال ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکی تھی۔ اللہ کا فیصلہ یہی تھا کہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو شہادت کی موت سے مشرف ہو کر فوز و فلاح سے ہم کنار ہونا ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 209، اس کی سند صحیح ہے)

اور مفسدین کو یہ گناہ اپنے سر لینا ہے۔

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے قتل عثمان رضی اللہ عنہ کو ناپسند کیا اور ان کے خون ناحق سے برأت کا اظہار کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبات کے دوران اور دیگر متعدد مواقع پر یہ بات قسم اٹھا کر بیان کی کہ انہوں نے نہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔ نہ کسی کو اس کا حکم دیا، نہ کسی کو اس کا اشارہ کیا اور نہ اسے پسند ہی کیا۔ سیدنا علیؓ سے یہ بات متعدد ایسے طرق سے ثابت ہے جو قطعیت کا فائدہ دیتے ہیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 202)

اس کے برعکس روافض یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ ان کی رضامندی سے ہوا۔

(العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفریط: صفحہ 129)

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں وارد بعض اخبار و روایات کو ذکر کرنے کے بعد امام حاکم لکھتے ہیں: ’’بدعتی لوگوں کا یہ دعویٰ کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں باغیوں کو امیرالمؤمنین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا تعاون حاصل تھا محض کذب ہے۔ متواتر اخبار و روایات صورت حال اس کے برعکس بتاتی ہیں۔‘‘

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 103)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ سب کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر محض کذب و افتراء ہے، وہ نہ تو قتل عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک ہوئے نہ اس کا حکم دیا اور نہ اسے پسند ہی کیا۔ ان سے یہی کچھ مروی ہے، اور وہ بالکل سچے ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 406)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا تھا: میرے اللہ! میں تیرے حضور عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔

(العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفر: صفحہ 229، طبقات ابن سعد: 313 اس کی سند حسن ہے۔)

بعض کتب تاریخ نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنہ کے دوران اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤقف کو مسخ کر کے پیش کیا ہے، جس کی وجہ سے مؤرخین کی بیان کردہ ضعیف اور موضوع روایات ہیں۔ تاریخ طبری اور دیگر کتب تاریخ میں مندرجہ ابو محنف، واقدی اور ابن أعثم کی روایات کے حوالے سے فتنہ کے احداث کا مطالعہ کرنے والا ہی تاثر لیتا ہے کہ اس تحریک کو چلانے والے اور اس کی آگ کو بھڑکانے والے دراصل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ ابو محنف رافضی ہے، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر بار بار یہ تہمت لگاتا ہے کہ ان سے بکثرت غلطیاں سرزد ہوئیں، لہٰذا وہ اس چیز کے مستحق تھے۔ جبکہ طلحہ اپنی مرویات میں ایک ایسے شخص کے روپ میں سامنے آتا ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کوئی انتقام لینا چاہتا ہو۔ واقدی کی روایات بھی ابومحنف کی روایات جیسی ہی ہیں۔ روافض سے ایسی روایات بکثرت وارد ہیں جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سازش کرنے کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تہمت لگاتی ہیں،  اور یہ کہ ان لوگوں نے فتنہ کو تحریک دی اور لوگوں کو اشتعال دلایا۔ مگر یہ سب کچھ جھوٹ اور فریب کاری ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 14 صفحہ 20)

ضعیف اور موضوع روایات کے برعکس بحمداللہ تعالیٰ کتب حدیث نے ہمارے لیے ایسی صحیح روایات کو محفوظ رکھا ہے جن سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دست و بازو بنے۔ ان کا دفاع کیا اور ان کے قتل سے لاتعلق رہے۔

(خامس الخلفاء الراشدین الحسن بن علی از صلابی: صفحہ 123)

اور پھر ان کی شہادت کے بعد ان کے قصاص کا مطالبہ لے کر اٹھے۔ یہ سب کچھ اس امر کی دلیل ہے کہ فتنہ کو تحریک دینے اور اسے ہوا دینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کسی طرح سے بھی شریک عمل نہیں تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 14 صفحہ 20)

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون ناحق سے لاتعلق ہیں۔ جو شخص بھی اس کے خلاف کوئی بات کرتا ہے تو اس کی بات باطل ہے۔ اپنے مؤقف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی ایک بھی صحیح دلیل نہیں ہے۔ خلیفہ اپنی تاریخ میں عبدالاعلی بن ہیثم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے کہ میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین میں انصار و مہاجرین میں سے بھی کوئی شخص شامل تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہرگز نہیں۔ وہ اہل مصر میں سے اجڈ اور وحشی قسم کے لوگ تھے۔

(عثمان بن عفان از صلابی: صفحہ 450)

امام نوویؒ فرماتے ہیں: ان کے قتل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص بھی شریک نہیں تھا۔ سیدنا عثمانؓ کے قاتل نچلے طبقہ کے وحشی قسم کے ذلیل اور گھٹیا قسم کے لوگ تھے جو مصر سے گروہ در گروہ مدینہ پہنچے اور شہر میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہیں روکنے میں بے بس ہو گئے۔ ان لوگوں نے بیت خلافت کا محاصرہ کر لیا اور پھر انہیں قتل کر ڈالا۔

(شہید الدار عثمان بن عفان: صفحہ 148)

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ وہ مختلف شہروں کے شورش پسند لوگ تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ مختلف قبائل کے دھتکارے ہوئے لوگ تھے۔

(شرح نووی علی صحیح مسلم: جلد 15 صفحہ 148)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ خوارج، فسادی، گمراہ، باغی اور زیادتی کرنے والے تھے۔

(منہاج السنۃ: جلد 2 صفحہ 189، 206)

امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: وہ سنگ دلی اور جفا و ظلم کی انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے۔

(دول الاسلام از ذہبی: جلد 1 صفحہ 12)

صفحہ 2 از 3