فتنہ کی آگ بھڑکانے میں ابن سبا کا کردار - دفاعِ اہلِ سنت |…

فتنہ کی آگ بھڑکانے میں ابن سبا کا کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس سے اس کا مقصد لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانا تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص، یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حق غصب کیا گیا ہے اور اسے غصب کرنے والے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس کے بعد اس نے یہ کوشش کی کہ لوگوں کو اور خاص طور سے کوفہ کے لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام پر ان کے امراء کے خلاف متحرک کیا جائے، چنانچہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے امراء کے خلاف بھڑک اٹھتے، یہ بات پیش نظر رہے کہ اس کی توجہ کا زیادہ تر مرکز بادیہ نشین تھے جو اس کے منصوبہ کی تکمیل کے لیے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتے تھے۔ اس نے ان کے علماء و قراء کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام سے امراء کے خلاف اکسایا، لالچی قسم کے لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اس قسم کے جھوٹے الزامات لگا کر بھڑکایا کہ وہ اپنے قرابت داروں کو نوازتے اور ان پر بیت المال کا خزانہ لٹاتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کی مشترکہ چراگاہ اپنے لیے مخصوص کر لی ہے۔ علاوہ ازیں کتنے ہی ایسے اتہامات ہیں جو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر لگائے گئے جس کا مقصد شورش پسند لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکانا تھا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے شہروں سے بری خبروں پر مشتمل خطوط دوسرے شہروں میں ارسال کریں تاکہ سب لوگوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ اب ان میں مزید بگاڑ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس صورت حال کا سارا اور اصل فائدہ ابن سبا کے پیروکاروں (سبیئہ) کو ہو رہا تھا۔ اس لیے کہ لوگوں کی طرف سے اس قسم کی باتوں کی تصدیق انہیں اسلامی معاشرے کے اندر فتنہ کی آگ بھڑکانے کے لیے ان کے لیے کارآمد ثابت ہو رہی تھی۔ 

(الدولۃ الامویۃ از یوسف العش: صفحہ 85، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 330)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ سمجھ گئے تھے کہ مختلف شہروں میں منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور امت کو برائی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اس پر سیدنا عثمان غنیؓ نے فرمایا: و اللہ! فتنہ کی چکی گھومنے والی ہے۔ یہ عثمان کے لیے خوش قسمتی کی بات ہو گی کہ وہ مر جائے اور اسے حرکت نہ دے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 350)

ابن سبا نے مصر کو اپنی تحریک کا مرکز بنایا اور وہاں بیٹھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی شورش کو منظم کرنے لگا، اور فتنہ کھڑا کرنے کے لیے یہ دعویٰ لے کر لوگوں کو مدینہ منورہ جانے پر اکسانے لگا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بغیر حق کے خلافت حاصل کی ہے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی (علی رضی اللہ عنہ ) سے اس کا حق چھین لیا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 330، تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 348) 

اس نے لوگوں کو کچھ ایسے خطوط دکھا کر دھوکہ دیا جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ اسے یہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف سے موصول ہوئے ہیں۔ مگر جب وہ بادیہ نشین مدینہ منورہ پہنچے اور صحابہ کرامؓ سے ملاقاتیں کیں تو انہوں نے ان کی کسی طرح سے حوصلہ افزائی نہ کی۔ انہوں نے ان خطوط سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا جو لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف آمادہ جنگ کرنے کے لیے لکھے گئے تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 330، تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 365)

انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی کا کوئی حق نہیں دبایا بلکہ وہ تو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے مناظرہ کرتے ہوئے اپنے طور سے عائد کردہ تمام الزمات و اتہامات کی سختی سے تردید کی اور ان کے سامنے اپنے اعمال کے درست ہونے کی وضاحت کی۔ یہاں تک کہ ان اعراب میں سے ایک شخص مالک بن اشتر نخعی کہنے لگا: مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے خلاف بھی سازش کی گئی ہے اور تمہارے خلاف بھی۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 331 )

امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک عبداللہ بن سبا ہی وہ شخص ہے جس نے مصر میں لوگوں کو فتنہ برپا کرنے کے لیے ابھارا۔ اس نے پہلے امراء و ولاۃ کے خلاف بغاوت اور انتقام کی طرح ڈالی اور پھر امام۔ خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ پر چڑھائی کے لیے لوگوں کو اکسایا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 338)

اس فتنہ کے پس پردہ ابن سبا اکیلا ہی نہیں تھا بلکہ اس کا کردار سازشی عناصر کی طرف سے پھیلائے گئے جال کے ضمن میں آتا ہے۔ خلیفہ راشد کے خلاف بغاوت کھڑی کرنے کا ان کا یہ انداز دھوکہ دہی، حیلہ گیری اور مکر و فریب سے عبارت ہے جسے اپنا کر انہوں نے بادیہ نشینوں اور ان کے قراء وغیرہ کو اکٹھا کر لیا۔ ابن کثیر روایت کرتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لشکروں کی چڑھائی کے متعدد اسباب میں سے ایک ابن سبا کا ظہور اس کا مصر جانا اور لوگوں میں خودساختہ باتوں کی تشہیر کرنا تھا جس کی وجہ سے بہت سارے مصری اس کے جال میں پھنس گئے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 167، 168)

مشاہیر مؤرخین اور امت کے علماء سلف و خلف اس بات پر متفق ہیں کہ ابن سبا مسلمانوں میں جو افکار و عقائد اور سبائی منصوبہ جات لے کر آیا تھا ان کا مقصد انہیں ان کے دین اور امام سے برگشتہ کرنا اور ان میں تفرقہ و جدائی اور اختلاف پیدا کرنا تھا۔ اس کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر نچلے طبقہ کے لوگ اس کے پاس جمع ہو گئے جس سے مشہور سبائی جماعت تشکیل پائی اور جو اس فتنہ کا ایک عامل ہے جس کا نتیجہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی صورت میں سامنے آیا۔ سبائی جماعت نے جتنے بھی منصوبے تیار کیے وہ بڑے منظم ہوا کرتے تھے۔ وہ لوگ اپنے افکار و نظریات کی اشاعت کے بڑے ماہر اور نچلے طبقہ کے لوگوں کو متاثر کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ بصرہ، کوفہ اور مصر میں اس جماعت کی ذیلی شاخیں قائم کر دیں تاکہ قبائلی عصبیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور بادیہ نشینوں، غلاموں اور آزاد کردہ غلاموں کو اشتعال دلا کر ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ وہ ان کے حساس مقامات سے بخوبی آگاہ تھے اور ان کے ارادوں کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔

  (تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 339) 


صفحہ 2 از 2