فتنہ کی آگ بھڑکانے میں ابن سبا کا کردار - دفاعِ اہلِ سنت |…

فتنہ کی آگ بھڑکانے میں ابن سبا کا کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

عثمانی خلافت کے آخری سالوں میں اسلامی معاشرہ میں اضطراب کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، بعض یہودی فتنہ کے عوامل سے فائدہ اٹھانے کی غرص سے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مناسب وقت پر نمودار ہونے کی تیاریاں کرنے لگے۔ ان میں سے عبداللہ بن سبا سرفہرست ہے۔ جسے ابن السوداء کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ یہودی الاصل اس شخص نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کا فتنہ کھڑا کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ بڑا واضح اور انتہائی خطرناک تھا۔ فتنہ کے بعض عوامل نے اس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور انہیں مزید ہوا دینے کے لیے اس نے ایسی آراء اور معتقدات کا دعویٰ پیش کیا جنہیں اس نے اپنی کینہ پرور یہودیت سے جعل سازی کرتے ہوئے اخذ کیا اور پھر اپنی طرف سے ان کا اختراع کر کے انہیں اپنے طے شدہ اہداف تک پہنچنے کے لیے لوگوں میں عام کرنا شروع کر دیا۔ اس کی اس سازش کے پس پردہ اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنا۔ فتنہ کی آگ کو بھڑکانا اور امت اسلامیہ کے افراد میں دشمنی کے بیج بونا جیسے مذموم مقاصد کار فرما تھے۔ وہ اپنے ان مقاصد میں کامیاب رہا۔ امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو ظلماً شہید کر دیا گیا اور امت مختلف گروہوں میں ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو گئی۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 327)

ابن سبا کے کردار کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نے صحیح بنیادوں پر غلط عمارت کھڑی کی اور اس کی چکنی چپڑی باتیں سادہ لوح، انتہا پسند اور نفسانی خواہشات کے پجاری لوگوں میں رواج پکڑ گئیں اور وہ اس کے آس پاس اکٹھے ہو گئے۔ اس سے اس کی ہمت بڑھی تو اس نے قرآن کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس کی اپنے فاسد خیال کے مطابق تاویل کرنے لگا۔ اس نے کہا: مجھے تو اس آدمی کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے جو عیسیٰ بن مریم کے واپس آنے کی تو تصدیق کرتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس آنے کی تکذیب کرتا ہے۔ حالانکہ اللہ فرماتا ہے: 

اِنَّ الَّذِىۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ‌۞ (سورۃ القصص آیت نمبر 85+

ترجمہ: (اے پیغمبر) جس ذات نے تم پر اس قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے، وہ تمہیں دوبارہ اس جگہ پر لاکر رہے گا جو (تمہارے لیے) انسیت کی جگہ ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ واپس آنے کے حق دار ہیں۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 247)

اسی طرح اس نے قیاس فاسد سے کام لیتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے وصیت کے اثبات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا: ایک ہزار نبی ایسے گزرے ہیں کہ ان میں سے ہر نبی کا کوئی نہ کوئی وصی ہوتا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتا تھا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیاء۔

ابن سبا نے جب یہ دیکھا کہ میری باتیں میرے پیروکاروں کے دلوں میں راسخ ہو گئی ہیں تو اس نے اپنی تمام تر توجہ اپنے طے شدہ ہدف تک رسائی کے لیے مرتکز کر دی اور وہ ہدف تھا خلیفۃ المسلمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کی بغاوت کا حصول۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے لوگوں سے کہا: اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا نفاذ نہ کرے اور وصی رسول کا حق غصب کر کے امت کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لے۔ اس نے لوگوں کو بغاوت پر اکساتے ہوئے ان سے یہ بھی کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حق کے بغیر خلافت پر قبضہ جمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تو یہ (علی رضی اللہ عنہ ) ہیں، اٹھو اور اس صورت حال کو تبدیل کر دو اور اس کا آغاز اپنے امراء پر لعن طعن سے کرو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرو اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرو اور انہیں اس کام کی دعوت دو۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 348)

ابن سبا نے اپنے دعاۃ کو مختلف علاقوں میں پھیلا دیا وہ اور مختلف شہروں میں اس کے ہم نوا ایک دوسرے سے خط و کتابت کرتے اور لوگوں کو خفیہ طور سے اپنے خیالات و آراء کی طرف بلاتے اور انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریقہ کی ادائیگی کا تاثر دیتے، شہروں میں ایسے خطوط بھیجتے جن میں ان کے امراء کے نقائص و عیوب گنوائے جاتے اور وہ بھی انہیں ایسے ہی خطوط ارسال کرتے۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کی طرف خطوط لکھتے اور انہیں پڑھتے پڑھاتے یہاں تک کہ انہوں نے ہر طرف خط و کتابت کا جال پھیلا دیا۔ ان کا ارادہ کچھ اور ہوتا جبکہ ظاہر کچھ اور کرتے۔

ہر شہر والے یہ کہتے ہیں کہ جس ابتلاء سے یہ لوگ دوچار ہیں ہم اس سے محفوظ ہیں۔ یہاں تک کہ جب اہل مدینہ کے پاس تمام شہروں سے اس قسم کی خبریں آئیں تو وہ کہنے لگے: بحمداللہ ہم اس صورت حال سے عافیت میں ہیں جس میں ان لوگوں کو مبتلا کر دیا گیا ہے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 348)

صفحہ 1 از 2