سیدنا ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت…

سیدنا ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت اور اس بارے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

انہیں ربذہ کے مقام پر جلاوطن کرنے کی ایک ہی روایت ہے جسے ابن سعد نے روایت کیا، مگر اس کے ایک راوی بریدہ بن سفیان اسلمی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ قوی نہیں ہے۔ اس میں رافضیت بھی تھی۔ کیا ایک رافضی کی ایسی روایت قبول کی جا سکتی ہے جو صحیح اور حسن روایات سے متعارض ہو؟

(ایضاً)

رافضیوں نے اس حادثہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مشہور کر دیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ربذہ جلاوطن کر دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے والوں نے بھی اسے بہانہ بنا کر ان پر الزام لگایا یا اسے ان کے خلاف خروج کو وجہ جواز قرار دیا۔

(فتنۃ لقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 111)

شیعہ مؤلف ابن مطہر الحلی متوفی 726 ھ نے بھی ان پر یہی الزام لگایا بلکہ اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تکلیف دہ انداز میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو مارا پیٹا۔ مگر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھرپور اور جامع انداز میں اس کے اس الزام کی تردید ہے۔

(منہاج السنۃ لابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 183)

سلف صالحین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے۔ جب حسن بصریؒ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ دریافت کیا گیا کہ کیا انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے نکال دیا تھا؟ تو انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی۔

(تاریخ المدینۃ: 1037۔ اس کی سند صحیح ہے)

جب ابن سیرینؒ کے سامنے اس امر کا تذکرہ کیا جاتا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے نکال دیا۔ تو وہ اس سے شدید طور سے متاثر ہوتے اور فرماتے: وہ مدینہ سے اپنی مرضی سے گئے تھے۔ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نہیں نکالا تھا۔

(تاریخ المدینۃ: 1037 )

اور جیسا کہ اس سے پہلے بھی صحیح الاسناد روایت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ بکثرت ان کے پاس جمع ہو جاتے ہیں تو وہ کسی فتنہ کے رونما ہونے سے ڈر گئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا جس سے ان کا مقصود یہاں سے نکل جانے کی اجازت طلب کرنا تھا جس کی انہوں نے اجازت دے دی۔

(بخاری: کتاب الزکوۃ: رقم الحدیث: 1406 ) 

ابوذر رضی اللہ عنہ کسی بھی طرح یہودی الاصل عبداللہ بن سبا کی آراء سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ وفات تک ربذہ میں ہی مقیم رہے۔ انہوں نے فتنہ کے ایام میں مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ 

(احداث الفتنۃ الاولی بین الصحابۃ فی ضوء قواعد الجرح و التعدیل: صفحہ 174)

ان سے فتنہ کے دوران اس میں کوئی کردار ادا کرنے سے نہی پر مشتمل کئی احادیث بھی روایت کیں۔ 

(ایضًا)

ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کے اہل و عیال کو اپنے اہل عیال میں شامل کر لیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 314 )

رَضِیَ اللّٰہُ عَلٰی جَمِیْع الصَّحَابَۃِ الْاَبْرَارِ الطَّیِّبِیْنَ الْاَطْہَار۔


صفحہ 3 از 3