کیا فضیل بن مرزوق میں تشیع تھی؟ - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

کیا فضیل بن مرزوق میں تشیع تھی؟

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

اگر ملکیت رسول ص تھا اور رسول اللہ ص نے سیدہ رض کو دیا تو ان تمام حضرات کہ پاس بحیثیت متولی کے کیوں پھرتا رہا؟

عقل کو تکلیف دیں تھوڑی۔ اب تیار ہوجاؤ ایک دارالعلوم کی فتویٰ آرہی ہے پھر کہوگے مجھ پر یہ حجت نہیں۔ ثقہ کا روش ختم کرتا ہوں پہلے

 

 سُنی مناظر:

1۔ وقال نسائی ضعیف وکذا ضعفه عثمان بن سعید۔

ترجمہ۔امام نسائی رح نے فضیل بن مرزوق کو ضعیف کہا ہے اور اس طرح عثمان بن سعید نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے۔

2۔ وقال ابوعبدالله الحاکم فضیل بن مرزوق لیس من شرط صحیح۔

ترجمہ۔ابوعبداللہ حاکم نے کہا کہہ فضیل بن مرزوق صحیح کہ شرائط میں سے نہیں ہے۔

3۔قال ابن حبان منکر الحدیث جداً وکان یخطی  علی الثقات۔

ترجمہ۔ابن حبان رح نے کہا کہہ فضیل بن مرزوق سخت منکر الحدیث ہے اور ثقات پر خطا کرتا تھا۔

4۔ وروی احمد بن ابی خیثمة عن ابن معین ضعیف۔

ترجمہ۔ احمد بن ابی خیثمة نے ابن معین رح نے نقل کیا ہے کہہ فضیل بن مرزوق راوی ضعیف ہے۔

استدلال

ان تمام محدثین کی جرح سے ثابت ہوا کہ فضیل بن مرزوق راوی ضعیف تھا.

اور میں نے اس راوی پر جرح مفسر پیش کی ہے۔ مسلمہ اصول ہے کہ جب جرح مفسر تعدیل مفسر یامبہم کے مقابلے میں آئے تب جرح مفسر مقدم ہوگی۔کیوں مناظر صاحب؟

اس پر میں سنی شیعہ دونوں کتب سے حوالے پیش کررہا ہوں

لنک

سنی مناظر: اسبابِ جرح و تعدیل سے بخوبی واقف ہو۔عربی زبان کا ماہر ہو،تاکہ علماء کے اقوال کو اچھی طرح سمجھ سکے۔

جرح و تعدیل میں تعارض اور اس کا حل

جس راوی کی توثیق پر تمام محدثین کا اتفاق ہو وہ ثقہ ہے۔

2۔جس راوی کے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کااتفاق ہو وہ ضعیف ہے۔

جس راوی کو بعض نے ثقہ کہا اور بعض نے ضعیف کہا، وہ مختلف فیہ راوی ہے اس میں راجح معلوم کرنے کے لیے ہمیں درج ذیل باتوں کو مد نظر رکھنا ہو گا:

۱:جرح مفسر ہمیشہ تعدیل مبہم پر مقدم ہوگی،کیونکہ جرح کرنے والے کے پاس دلیل موجود ہے۔جرح مفسر کے الفاظ درج ذیل ہیں:صدوق یھم، سیء الحفظ،فاحش الغلط، منکر الحدیث، مضطرب الحدیث، متروک۔ 

۲:تعدیل مفسر ہمیشہ جرح مبہم پر مقدم ہوگی۔

۳:اگرجرح مفسر اور تعدیل بھی مفسر یا جرح مبہم اور تعدیل بھی مبہم ہو تو ان دونوں صورتوں میں جرح مقدم ہوگی۔

۴:ائمہ جرح وتعدیل دیکھے جائیں گے کہ جرح کرنے والے متشدد تو نہیں اور توثیق کرنے والے متساہل ہیں یا معتدل۔متشدد کی توثیق بہت اہمیت رکھتی ہے اور متشدد کی جرح دوسرے محدثین کے اقوال دیکھے بغیر نہیں لینی چاہیے۔متساہل کی توثیق سے دور رہنا چاہیے۔

تنبیہ: بعض لوگوں کا قول جس پر اختلاف ہو اور تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو تو ہمیشہ محدثین کی اکثریت کو ترجیح دی جاتی ہے   یہ بات درست نہیں ہے۔

اگر کسی راوی پر ایک ہی امام کے اقوال میں تعارض ہو مثلا ایک ہی راوی کو ایک محدث نے ثقہ کہا اور اسی محدث نے انھیں ضعیف بھی کہا تو اس صورت میں بعد والا قول لیا جائے گا۔اگر تاریخ کے ذریعے بعد والے قول کا تعین ہو جائے توپہلے قول کو منسوخ اور دوسرے کو ناسخ سمجھا جائے گا۔[1]

[1]  مثلا دیکھیے :تاریخ ابن معین۔روایۃ الدوری:۴-۲۷۲رقم:۴۳۳۳.

ولو اجتمع فی واحد جرح وتعدیل فالجرح مقدم علی التعدیل۔

ترجمہ۔جب جرح اور تعدیل جمع ہوجائیں تب جرح کو تعدیل پر مقدم کیا جائے گا۔

 

(اضافی اسکین)

 

سُنی مناظر: جی مناظر صاحب بحث جرح وتعدیل ذہن میں آرہی ہے یا نہیں۔

یقین کہ ساتھ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا مخالف ایک عبارت  ترجمہ کہ ساتھ نہیں پڑھ سکتا، بشرط کسی سے لقمہ نہ لے۔ ثقہ کا روش ختم الحمدللہ۔ اگر میرے پہلے مکمل میسیج پڑھتے تو ایسے ٹھوکریں نہ کھاتے۔میں اوپر کہہ چکا ہوں کہ شیعہ ہونا کوئی جرح نہیں ہے پھر بھی اسکین بازی سے باز نہیں آئے؟ اصل بات ہے میموری جو خالی کرنی ہے۔ میرا کام تھا فضیل بن مرزوق کو  شیعہ ثابت کرنا اور یہ ثابت کرنا کہ اس نے اپنے مذہب کی تائید میں روایت کی ہے اور مسلمہ اصول سے میں نے ثابت کیا ہے کہ وہ روایت قابل قبول نہیں ہے۔باقی  کونسا شیعہ تھا چھوٹا شیعہ تھا یا بڑا یا درمیانہ اس پر کوئی بحث نہیں۔ ایک میرا آپ سے سوال ہے اگر کوئی موجودہ دور میں کہتا ہے میں شیعہ ہوں تو اس سے مراد کونسا شیعہ ہوگا؟

 


صفحہ 2 از 2