جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ سوم اجماع - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ سوم اجماع

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 3 از 3

مذاہب اربعہ کے علماء کے اقوال سے اس بات کا واضح ثبوت مل جاتا ہے کہ مذاہب اربعہ میں اجماع کے مصداقات کے حوالے سے کوئی بھی قابل ذکر اختلاف نہیں ہے بلکہ ایک ہی حقیقت کے اظہار کے لیے ہر اہل علم نے اپنی طبع کے مطابق الفاظ کا بہترین چناؤ کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسرا نکتہ:

تمام علماء کی تعریفات سے یہ آشکار ہوتا ہے کہ اجماع صرف اہل اجتہاد اور اہل عدالت کامعتبر ہے۔وہ علماء جو درجہ اجتہاد کو نہیں پہنچتے ان کااتفاق یااختلاف اجماع کی اہمیت کے بڑھانے یا کم کرنے کا سزاوار نہیں ہے ۔ بل کہ یہ ایک خاص علمی صلاحیت کاتقاضہ کرتا ہے جن حضرات اہل علم میں یہ صلاحیت اور خوبی ہو گی وہ اس شعبہ کے اہل ہوں گے۔

تیسرا نکتہ:

اجماع زمانہ وحی کے اعتبار سے نہیں ہو گا بل کہ اجماع کے لیے بنیادی ترین شرط یہ ہے کہ زمانہ نبوت کے بعد ہوجس کے لیے سطور بالا میں ذکر کی گئی تمام تعریفات کوبطور شاہد دیکھا جا سکتاہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ زمانہ وحی میں ہرایک چیز اہل سرچشمہ شریعت سے براہ راست وصول ہو رہی ہوتی ہے جس میں بندوں کے اتفاق و افتراق کی چندا ضرورت نہیں ہے ۔علمائے مجتہدین کے اتفاق کی تب ضرورت پیش آتی ہے جب شریعت کسی مسئلہ میں خاموش ہو ۔ جب شریعت خود بطورقاضی اور حاکم امت کے ہر مسئلہ کا جائزہ لے رہی ہو اور شارع براہ راست رہنمائی دے رہے ہیں تو تب کسی دوسری شے کی کیا ضرورت رہے گی۔

چوتھا نکتہ:

اجماع کی تعریف میں دو طرح کے الفاظ کو یہ بکثرت دہرایا گیا ہے۔ ”علی امر“ ”علی حکم“ جس کا مطلوب یہ ہے کہ کسی بھی شرعی مسئلہ میں امت کا اتفاق اجماع کہلاتا ہے اگرچہ وہ مسئلہ کسی نص شریعت کے مفہوم پر ہو کہ فلاں نص کی مراد کیا ہے یا پھر کسی اجتہادی مسئلہ کی صحت پر ہو ۔ یا اس بات کا بھی امکان ہے کہ کوئی نیا پیش آمدہ مسئلہ ہو اس پر علماء کی آراء کو جمع کیا جئے تو وہ اتفاق اور اجماع پر منتج ہو تو ایسے تمام مسائل احاطہ اجماع میں شامل ہوں۔البتہ بعض علما نے ایک شرط یہ بھی ذکر کی ”علی کارثہ“ یا ”علی حادثہ“ کی کسی نئے پیش آمدہ مسئلہ پر اتفاق اجماع کہلائے گا یہ تعریفات اس اعتبار سے ناقص متصور کی جائے گی کہ یہ سابقہ اجماع یا اجماع کی دیگر شکلوں کو شامل نہیں ہے۔

پانچواں نکتہ:

اہل تشیع کا اجماع کے حوالے سے نقطہ نگاہ امت سے قطعا مختلف ہے ان کے علما ایسا اتفاق اجماع کہلاتا ہے جو معصوم یعنی آئمہ اثنا عشر کے اقوال کی تفہیم اور اظہار میں ہو ۔ یا جس اتفاق سے معصوم کے قول کی تمام جہتیں منکشف ہو جائے وہ اجماع کہلائے گا۔ اور اختلاف اسی وجہ سے ہے کہ اہل السنۃ اور اہل تشیع میں اصولی اختلاف ہے جو فکر ونظر کے تمام گوشوں میں ظاہر ہوتا رہے گا۔


صفحہ 3 از 3