جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ سوم اجماع - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ سوم اجماع

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 2 از 3

’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مجتہدین امت کا کسی بھی زمانے میں حکم شرعی پر اتفاق اجماع کہلاتا ہے۔‘‘

(الشیخ احمد ابراہیم) المتوفی 1945م) وہ اجماع کی تعریف رقم کرتے ہیں:

"اتفاق المجتهدین من أمة محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم ، بعد وفاته ، علی أمر من الأمور الشرعیة قولا أو فعلا في أی عصر من العصور."

[علم الاصول الفقہ ،ص68] 

’’امت کے مجتھدین کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد شرعی امور میں سے کسی امر پر قولی یا فعلی اتفاق جس کا تعلق کسی بھی زمانے کے ساتھ ہو اجماع کہلاتا ہے۔‘‘

(الشیخ ابوزھرۃ المتوفی1974م) وہ اجماع کی تعریف کچھ یوں لکھتے ہیں۔

" هو اتفاق المجتهدین من الأمة الإسلامیة في عصر من العصور، بعد النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم على حکم شرعی في أمر من الأمور العلمیة. "

[اصول فقہ ،ص198] 

’’امت اسلامیہ کے مجتہدین کاکسی بھی زمانہ میںرحلت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی حکم شرعی عملی پراتفاق اجماع کہلاتا ہے۔‘‘

علمائےاحناف کےہاں اجماع کا مفہوم:

(علاء الدین سمرقندی) المتوفی 535ھ وہ اجماع کی تعریف لکھتےہیں:" هو اجتماع جمیع آراء أهل الإجماع على حکم من أمور الدین عقلی أو شرعی، وقت نزول الحادثة، أو یقال اتفاق جمیع أهل الاجماع. "

[میزان الاصول ، ص490] 

’’امور دینیہ میں سے کسی بھی عقلی یا شرعی جدید مسئلہ کے حکم پر تمام اہل اجماع کی آراء کا جمع ہونے کا نام اجماع ہے یاپھر اہل اجماع کااتفاق اجماع ہے۔‘‘

(محمد بن عبدالحمید الاسمندی) المتوفی 552 ھ وہ اجماع کی تعریف رقم کرتے ہیں۔

" هو اجماع علماء أمة محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم على أمر في أصول الشرعیة "

[بذل النظر فی الاصول ، ص520] 

’’امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علماء کا کسی اصول شرعی پر اتفاق اجماع کہلاتا ہے۔‘‘

(النسفی) المتوفی 710ھ وہ اجماع کی تعریف کے متعلق لکھتے ہیں۔

" هو اتفاق علماء کل عصر من أهل العدالة والاجتهاد على حکم. "

[کشف الاسرار ، شرح المصنف علی المنار، 2؍ 180] 

’’ہر زمانے کے علماء اہل عدالت اوراصحاب اجتہاد کاکسی حکم پرجڑ جانا اجماع کہلاتا ہے۔‘‘

(صدرالشریعۃ) المتوفی 747ھ وہ اجماع کی تعریف لکھتے ہیں۔

" هو اتفاق المجتهدین من أمة محمد في عصر على حکم شرعی"

[التوضیح بشرح التلویح ، 2؍41] 

’’کسی بھی عصر میں مجتہدین امت کااتفاق مسئلہ شرعیہ پراجماع ہے۔‘‘

مالکیہ کے ہاں اجماع کا مفہوم:

(ابوالولید الباجی) المتوفی 474ھ وہ اجماع کی تعریف کےمتعلق فرماتے ہیں۔

"هو اتفاق علماء العصر على حکم الحادثة."
[الحدود ، ص63] 

’’علمائے عصر کا نئے پیش آمدہ مسئلہ میں اتفاق کواجماع کہتے ہیں۔‘‘

(ابن الحاجب) المتوفی 646ھ وہ تعریف رقم کرتے ہیں۔

"اتفاق المجتهدین من هذه الأمة في عصر على أمر."
[مختصر المنتھی بشرح العضد ،2؍29] 

’’اس امت کے مجتہدین کا کسی امر پر اتفاق اجماع ہے اگرچہ کسی بھی زمانہ میں ہو ۔‘‘

"ومن یری انقراض العصر یزید في تعریفه إلى انقراض العصر"

جعفریہ کے ہاں اجماع کا مفہوم:

1۔ "الاتفاق الکاشف عن قول المعصوم علی حکم دینی."
[الاجماع دراسۃ فی فکرتہ من خلال تحقیق باب الاجماع من اصول الجصاص،ص83] 

’’حکم دینی میں معصوم کے قول پر کھلا اتفاق اجماع کہلاتا ہے۔‘‘

2۔ "کل اتفاق یستکشف منه قول المعصوم سواءً کان اتفاق الجمیع او البعض."
[اصول الفقہ للمظفر،3؍1۔6] 

’’یہ ایسا اتفاق ہے کہ جس سے قول معصوم فکر ونظر کے سامنے آشکار ہو جائے اجماع کہلاتا ہے اگرچہ تمام امت کا ہو یا بعض افراد کا۔‘‘

3۔ "اتفاق جماعة یکشف اتفاقهم عن رأی المعصوم علیه السلام."

[قوانین الاصول ، ص349] 

’’اہل علم کی ایک جماعت کااتفاق جو کسی معصوم کی رائے کو کھول دے۔‘‘

(الشیخ محمد رضا المظفر) المتوفی 1964م اجماع کی تعریف میں لکھتے ہیں:

"ان الاجماع بها هو إجماع لاقیمة علمیة له عند الإمامیة، مالم یکشف عن قول المعصوم. "

[اصول الفقہ للمظفر، 3 ؍105] 

’’کسی بھی اجماع کی اس وقت تک کوئی قیمت نہیں جب تک وہ کسی قول معصوم کا کشف نہ کرے۔‘‘

معتزلہ کے ہاں اجماع کا مفہوم:

(ابوالحسن البصری ) المتوفی ۴۳۶ھ وہ اجماع کی تعریف رقم کرتے ہیں۔

" هو اتفاق من جماعة على أمر من الأمور أما فعل أو ترك وبعتریفه أخذ أبو الخطاب (المتوفى 510هـ) الحنبلی دون أن یغیر فیه شیئاً. "

[التمھید، 3؍224] 

اجماع کے بارے میں جمہور امت کے نقطہ نگاہ کا تجزیہ:

اہل سنت والجماعۃ کے چاروں مکاتب فکر کے علماء نے جو اجماع کی تعریفات ذکر کی ہیں ان کا اگر بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو فکر ونظر کے سامنے چند انتہائی اہم نکات سامنے آتے ہیں۔

پہلا نکتہ:

سب سے اہم حقیقت جو اجماع کے مطالعہ سے آشکار ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امت کے تمام مکتب فکرجوسنی زاویہ نظر کے حاملین ہیں ان میں اجماع کے مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ جیسا کہ احناف کے جلیل القدر امام نسفی فرماتے ہیں۔

" هو اتفاق علماء کل عصر من أهل العدالة والاجتهاد على حکم. "

ہر زمانہ کے اہل عدالت اور اصحاب اجتہاد علماء کا کسی حکم پر جمع ہو جانے کا نام اتفاق ہے۔

اب شوافع کے کباراہل فقہ میں سے امام الحرمین کے اجماع کے بارے میں موقف ملاحظہ فرمائیے وہ فرماتے ہیں۔

" هو اتفاق أمة أو اتفاق علمائها على حکم من أحکام الشریعة "’

’امت یا امت کے علماء کا کسی شرعی حکم پر اتفاق اجماع کہلاتا ہے۔‘‘

یہ بھی یقیناً اسی حقیقت کااظہار فرما رہے ہیں کہ امام رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔

مالکیہ میں ابن حاجب کے خیالات اجماع کے حوالے سے یہ ہیں :

" اتفاق المجتهدین من هذه الأمة في عصر على أمر"

کسی معاملے میں کسی زمانے میں امت کے مجتہدین کا اتفاق اجماع کہلاتا ہے ۔

حنابلہ کے عظیم امام ابن قدامہ المقدسی اجماع کے حوالے سے رقم طراز ہیں:۔

"هو اتفاق علماء العصر من أمة محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم على أمر من أمور الدین"

”امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علماء کا کسی بھی زمانہ میں امور دینیہ میں سےکسی امر پر اتفاق اجماع کہلاتا ہے۔“

صفحہ 2 از 3