ایک عظیم قافلہ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی…

ایک عظیم قافلہ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آمد اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام پر امارت کے دوران شاہی شان و شوکت اور ہر طرح کی تیاری کی حالت میں رہتے۔ اس کے لیے وہ یہ جواز پیش کرتے کہ میں دشمن کے سامنے مورچہ بند ہوں جس کے لیے حربی اور جہادی شان و شوکت اور شاہانہ اندازِ زیست کے مظاہرہ کی شدید ضرورت ہے۔

(ابن خلدون اسلامیاً از عماد اللہ خلیل: صفحہ 78)

ان کا مؤقف تھا کہ شارع علیہ السلام نے اس کی بادشاہت کی مذمت نہیں کی جو حق اور دین کے غلبہ کا فریضہ سر انجام دے اور عوام الناس کی مصالح کی نگہداشت کرے البتہ وہ بادشاہت یقیناً قابل مذمت ہے جس کے پیش نظر باطل کی سرپرستی کرنا اور لوگوں کو ذاتی اغراض اور نفسانی خواہشات کا اسیر بنانا ہو۔ اگر بادشاہ اللہ کے لیے مخلص رہ کر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور جہاد فی سبیل اللہ پر آمادہ کرنے کی ذمہ داری نبھائے تو اس میں سے کچھ بھی مذموم نہیں ہے۔

(ابن خلدون اسلامیاً از عماد اللہ خلیل: صفحہ 76) ص: ۷۶.

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا اس طرح ذکر فرمایا ہے:

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَهَبۡ لِىۡ مُلۡكًا لَّا يَنۡبَغِىۡ لِاَحَدٍ مِّنۡ بَعۡدِىۡ‌ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ۞ (سورۃ ص آیت 35)

ترجمہ: کہنے لگے کہ: میرے پروردگار! میری بخشش فرما دے، اور مجھے ایسی سلطنت بخش دے جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ہی ذات وہ ہے جو اتنی سخی داتا ہے۔

چونکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شاہانہ شان و شوکت کے شرعی اغراض و مقاصد تھے، لہٰذا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ جب ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انہوں نے بڑے خوبصورت الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 57)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بہت زیادہ اعتماد حاصل تھا۔

(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 57)

پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کو ثابت کر دکھایا کہ انہیں نہ صرف یہ کہ سیاسی ضروریات کا گہرا ادراک حاصل ہے بلکہ وہ ماحول اور معاشرہ میں مثبت تبدیلیاں لانے کی صلاحیت سے بھی بدرجہ اتم بہرہ مند ہیں۔ الغرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے انہیں دولت اسلامیہ کے بڑے اہم صوبوں کی ولایت کے منصب جلیلہ پر فائز کیا بلکہ ان کی ولایت میں مسلسل اضافہ کرتے رہے اور انہیں کبھی ان کے منصب سے معزول نہ کیا حالانکہ انہوں نے اپنے عمال اور امراء کی کثیر تعداد کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذہانت و فطانت اور ان کی انتظامی  صلاحیتوں کو بنظر استحسان دیکھا کرتے تھے اور اس کا برملا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک دن اپنے ہم نشینوں سے فرمایا: تم قیصر و کسریٰ اور ان کی شان و شوکت کا ذکر کرتے ہو جبکہ تمہارے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔ (تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 330 )


صفحہ 2 از 2