اموی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر و عمر…

اموی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد خلافت میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد خلیفۃ المسلمینؓ نے انہیں عیاض بن غنم کی مدد کے لیے ان کے پاس بھیجا جنہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے شمال کی طرف سے عراق فتح کرنے کے لیے مامور کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے دومۃ الجندل کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انہیں اس کی فتح کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا تھا، ولید نے انہیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ان سے اس کی درخواست کی تو اسے قبول کر لیا گیا۔

اور پھر ان دونوں نے مل کر دومۃ الجندل کو فتح کر لیا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 390، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

اس کے بعد خلیفۃ المسلمینؓ نے انہیں دومۃ الجندل سے متصل قضاعہ سے نصف صدقات فریضہ وصول کرنے کی تولیت دے دی

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 390، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

مگر پھر تھوڑے ہی عرصہ بعد انہیں جہاد فی سبیل اللہ کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے ان کے نام خط لکھا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا، چنانچہ آپ نے انہیں شام روانہ کر دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 389، 390، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے شام کے محاذ پر جنگ کے لیے پہلا پرچم سیدنا خالد بن سعید بن العاص اموی کو دیا اور پھر انھیں معزول کر کے ان کی جگہ دوسرے اموی یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 387، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے لشکر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ وہ پہلا بڑا لشکر تھا جسے خلیفۃ المسلمینؓ نے شام کی طرف روانہ کیا اور اسے شہر کے باہر تک پیدل جا کر الوداع کہا۔

(فتوح الشام از واقدی: جلد 1 صفحہ 3، 4 )

پھر اس کے پیچھے مزید تین لشکر بھیجے اور ان کی قیادت عمرو بن العاص، شرحبیل بن حسنہ اور ابوعبیدہ بن جراحؓ کے سپرد کی۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 394)

یزید بن ابوسفیان کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: وہ ان چار امراء میں سے ایک ہیں جنہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے بلایا۔ یزید بن ابوسفیان کو خود خلیفہ نے پرچم دیا اور اس کے قافلہ کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے اسے الوداع کیا اور اسے پند و نصائح سے نوازا۔ اس کی وجہ اس کا عز و شرف اور دین میں کمال تھا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 328)

بعد ازاں خلیفۃ المسلمینؓ نے جہاد کا شوق رکھنے والے بعض اور لوگوں کو بھی یزید کے لشکر کے ساتھ شامل کر دیا اور ان پر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو امیر مقرر فرمایا۔

(سیر اغلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 328 )

شامی محاذ پر لڑی گئی جنگوں میں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے اگرچہ وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔

(وفات کے وقت ان کی عمر اٹھاسی سال تھی اور جب جنگ یرموک میں شامل ہوئے تو اس وقت ان کی عمر ستر سال سے زائد تھی

شام کے جہاد میں خالد بن سعید، ابان بن سعید اور عمرو بن سعید رضی اللہ عنہم بھی شامل رہے اور اعدائے اسلام سے لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کیا۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے کہہ دیا: شام کا جو علاقہ بھی فتح ہوا وہاں سعید بن العاصؓ کی اولاد سے کوئی نہ کوئی آدمی ضرور شہید ہوا۔

(النزاع و التخاصم: صفحہ 46، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 150)

جنگ یرموک سے پہلے قائدین لشکر جولان میں جنگ کرنے کے بارے میں ایک مجلس مشاورت میں شریک تھے کہ اس دوران ابوسفیان بن حرب ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں گا کہ قریش کے چند کم سن لوگ میرے گھر میں بیٹھ کر جنگ کے بارے میں گفتگو کریں اور دشمن کے خلاف جنگی پلان تیار کرنے کے لیے باہم مشاورت کریں گے مگر مجھے اس مشاورت میں شریک ہونے کی دعوت بھی نہیں دیں گے۔ یہ سن کر انہوں نے ان کے لیے جگہ خالی کی اور پھر آپ نے ان کے ساتھ مل کر جنگی منصوبہ تیار کیا۔

(فتوح الشام از واقدی: جلد 1 صفحہ 99)

جب جنگ یرموک کی تیاریاں آخری مرحلہ میں داخل ہو گئیں تو فریقین کے قائدین اپنی اپنی سپاہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کے سامنے آئے۔ اگر ایک طرف رومیوں کے علماء اور پادری انہیں عیسائیت کا واسطہ دے کر میدان جنگ میں داد شجاعت دینے پر اکسا رہے تھے اور انہیں ایک ایسی جنگ میں شرکت کرنے کے لیے ابھار رہے تھے جس کی بعد ازاں مثال پیش کرنا بھی مشکل ہے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 395)

 تو مسلمان قائدین اپنی سپاہ کو بڑے دلنشین اور جذبات بھڑکانے والے خطبات سے آمادۂ جنگ کر رہے تھے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 397، 398، 401)

بلکہ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنے بزرگوں میں سے ایک سرکردہ شخص کو متعین کر دیا تھا اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی شخصیت کا نام تھا: ابو سفیان بن حرب۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 397)

یقیناً انہیں یہ منصب تفویض کیا جانا دین اسلام کے لیے ان کے صدق و اخلاص کی بہت بڑی دلیل ہے، اس لیے کہ اگر اس وقت قائدین لشکر کے علم میں ان کے اخلاص و وفا کے علاوہ کوئی اور بات ہوتی تو انہیں یہ ذمہ داری تفویض نہ کی جاتی کہ انہوں نے لشکر اسلام کی اسلامی حمیت کو بھڑکانا اور ان کے جذبۂ شجاعت و بسالت کو برانگیختہ کرنا ہے۔ نیز اگر سپاہ اسلام میں ان کے صادق الایمان ہونے کے علاوہ کوئی اور بات ہوتی تو ان پر ان کے اس عمل کے اس قدر اچھے اثرات مرتب نہ ہوتے۔ ذمہ دارانِ لشکر اسلام کی طرف سے ابوسفیان کا انتخاب عملاً قابل تعریف اور لائق ستائش رہا جو اس لشکر کی تشکیل و ترتیب کے مزاج سے ہم آہنگ تھا اور جو اُن اہل مکہ اور دیگر عرب قبائل پر مشتمل تھا جو تاخیر سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے اور جنہیں عرصہ دراز سے اپنے زعیم و قائد ابوسفیان پر مکمل اعتماد تھا۔

(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 151)

صفحہ 2 از 3