عقیدہء اھل سنت کی تفصیل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقیدہء اھل سنت کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2
٭ آپ سے پوچھا جائے گا :’’ اگر وہ کلام اللہ کی مخلوق اور اس سے جداگانہ اس کی تخلیق و ایجاد ہے؛ تو پھر یہ اس کا کلام تو نہ ہوا۔ کیونکہ کلام؛ قدرت؛ علم اور دیگر تمام صفات ؛ جن سے وہ موصوف ہے؛ جو اس کے ساتھ قائم ہیں ؛ نہ اس کی تخلیق ہیں ؛ اور نہ ہی اس نے ا نہیں وجود بخشا ہے۔ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ حرکت ؛علم اور قدرت کو کسی محل میں پیدا کرتے ہیں ؛ تو وہ محل ہی محترک ؛عالم اورقادر ؛اور ان صفات سے موصوف ٹھہرا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات نہ ہوئیں ۔ بلکہ اس کی مخلوق ہوئیں ۔ اگروہ اپنے سے منفصل مخلوقات سے متصف ٹھہرا؛ توپھر جب جمادات کو قوت گویائی بخشی ؛ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:﴿ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ ﴾(سبأ 10)’’اے پہاڑو اس کے ساتھ عاجزی کرو اور اے پرندو تم بھی۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴾ (نور ۲۴)’’قیامت کے روز ان کی زبانیں ، ہاتھ اور پاؤں ان کے اعمال کے سبب ان کے خلاف گواہی دیں گے۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ﴾(فصلت 21)’’وہ اپنے چمڑوں سے پوچھیں گے تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی تو وہ کہیں گے ہمیں اس نے بلایا جس نے تمام چیزوں کو قوت گویائی دی۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ﴾ (یس 65)’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے ان کے ہاتھ ہمیں بتائیں گے ان کی کمائی کے سبب ان کے پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں ۔‘‘اسی طرح پتھر کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کنکریوں کا تسبیح کرنا، آپ کے کھاتے ہوئے کھانے کا تسبیح کرنا۔ جب اللہ تعالیٰ کا کلام اس کے غیر میں پیداشدہ مخلوق ہی ہوتا ہے؛ تو یہ سب اللہ تعالیٰ کا کلام ٹھہرا کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق میں پیدا کیا ہے۔ایسے ہی جب ہاتھ کلام کریں گے تو لازم ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے کلام کے لیے درخت میں کلام تخلیق کیا۔ جب اس بات کے خلاف دلیل ثابت ہو گئی کہ بندوں کے افعال و اقوال اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور وہی ہر ناطق کو قوت گویائی بخشنے والا ہے؛ تو اس سے واجب ٹھہراکہ ہرموجود کلام اسی کا کلام ہو۔جھمیہ میں سے حلولیہ کا یہی عقیدہ ہے جیسا کہ ’’ الفصوص‘‘کے مصنف ابن عربی کا عقیدہ ہے؛ وہ کہتا ہے:’’وکل کلام فی الوجود کلامہ              سواء ً علینا نثرہ ونظامہ۔‘‘’’وجود میں ہر کلام اسی کا کلام ہے خواہ ہم اس کو نظم میں بیان کریں یا نثر میں ۔‘‘[1] [1] ابن عربی نے اپنی کتاب ’’الفقوحات المکیہ 141؍4میں نقل کیا ہے مطبوعہ، مصطفی حلبی، دارالکتب العربیہ، قاھرہ 1329۔تو پھر اس طرح فرعون کایہ کہنا کہ:﴿اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی﴾(نازعات 24) بھی اللہ تعالیٰ کا کلام ہوا۔ جیسے درخت میں مخلوق کلام:﴿اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا﴾ (طہ 14)    کلام اللہ ہے۔ یہ کہتے ہیں : درخت وغیرہ میں مخلوق کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔اسی طرح جو انبیاء علیہم السلام نے لوگوں سے خطاب کیا، انہیں خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛ اس نے ندادی؛ اس نے سرگوشی کی؛ اس نے کہا؛ انہیں تو سمجھ نہ آئی کہ یہ سب اللہ تعالیٰ سے جداگانہ مخلوقات ہیں بلکہ انہوں نے یہی سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے بذات خود کلام کیا۔ یہ کلام اس کے ساتھ قائم ہے نہ کہ غیر کے ساتھ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غیر ناطق معبود کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّہٗ لَا یُکَلِّمُھُمْ وَ لَا یَھْدِیْھِمْ سَبِیْلًا ﴾(اعراف 148)کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا اور نہ ہی راہ دیکھا سکتا ہے۔‘‘’’کسی شے کے متکلم ہو نے یا نہ ہونے کی مدح و ذم تبھی ہو گی جب کلام اس کے ساتھ قائم ہو گا۔‘‘مختصراً لغت اور عقل ایسامتکلم اور قائل معلوم نہیں ہوسکاجس کے ساتھ کلام یا قول قائم نہ ہو؛نہ کسی کی عقل میں ؛ اور نہ ہی کسی کی لغت میں ؛ نہ ہی انبیاء علیہم السلام اور دیگر کی لغت میں ۔ اور نہ ہی کسی کی عقل میں یہ بات آتی ہے کہ کوئی متکلم ایسا کلام کرے جو اس کے ساتھ قائم نہ ہو۔ بلکہ وہ کلام اس سے جدا ہو؛ اورکسی دوسرے میں پیدا کیا گیا ہو۔ جیسا کہ بات یہ عقل میں نہیں آتی کہ کوئی چیز ایسی حرکت کے ساتھ متحرک ہے جسے اس نے اپنے غیر میں پیدا کیا ہے اور نہ ہی یہ متصور ہوسکتا ہے کہ اس کی رنگت ایسے رنگ سے ہے جو اس نے کسی اور میں پیدا کیا ہے۔اور نہ اس کی ایسی خوشبو کی سمجھ آتی ہے جو اس نے اپنے غیر میں پیدا کی ہے۔ یہ بات بھی نامعقول ہے کہ وہ ایسا ارادہ رکھتا ہے جو اس نے اپنے غیر میں پیداکیا، اسی طرح ، محب، راضی، غصہ والا، ناراضگی والا ہونا سمجھ لیں ؛ جو اس نے اپنے غیر میں یہ صفات پیدا کی ہیں ۔منکرین صفات اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت بیان کرتے ہیں جو اس کے ساتھ قائم نہیں ۔کبھی وہ صفات کسی دوسرے میں تخلیق شدہ ہوتی ہیں ۔ مثلاً کلام اور ارادہ۔ اور بسااوقات نہ اس کے ساتھ قائم رہتی ہے نہ اس کے غیر کے ساتھ مثلاً علم اور قدرت وغیرہ یہ بھی غیر معقول ہے۔ زندہ وہی ہے جس میں حیات ہے عالم وہ ہے جس میں علم ہے، اسی طرح بالاتفاق متحرک وہ ہے جس میں حرکت ہے۔ عقل اس کا انکار کرتی ہے کہ فاعل اسے کہا جائے جس کے ساتھ فاعل کا فعل قائم نہ ہو۔[اشعریہ اور ان کے ہم خیال جیسے ابن عقیل وغیرہ نے مانا ہے کہ فاعل کے ساتھ فعل قائم نہیں ہوتا؛ جیسا کہ عادل اس کے ساتھ عدل قائم نہیں ہوتا۔ خالق اور رازق کے ساتھ خلق ورزق قائم نہیں ہوتے۔ اسی سے معتزلہ نے ان کے خلاف دلیل لیتے ہوئے کہا ہے جس طرح خالق، رازق کے ساتھ عدل خلق اور رزق (قائم ) نہیں اس طرح وہ نہ عالم وقادر ہے ؛اور نہ متکلم ہے ۔ سلف رضی اللہ عنہم اور جمہور اہل سنت اس اصل کو نہیں مانتے اسی وجہ سے امام احمد رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے کہا ہے: اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں ۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :((أعوذ بکلمات اللّٰہ تعالیٰ التامات التی لا یجا وزھن برٔ ولا فاجر)) [1] [1] المؤطا 950؍2 کتاب التر باب مایوحربہ من القعوذ)، مسلم 2081؍4 کتاب الذکر والدعاء باب التعوذ من سوء القضاء میں ابوھریرہ سے راوی ہے نبی کریم سے ایک آدمی نے کہا رات مجھے بچھونے ڈس لیا تھا آپ نے فرمایا تو نے رات میں یہ کیوں نہ کہا، اعوذ بکلمات اللہ تعالیٰ التامات من شر ما خلق: اگر کہا ہوتا تو تجھے تکلیف نہ دیتا۔ الردعلی الجھمیہ ازدرمی ص ۹، کتاب التوحید از ابن خریمہ 109۔8 کتاب الاسماء واصنات للبیہقی 185، المسند 15؍15حدیث وہ فرماتے ہیں مخلوق سے توپناہ نہیں پکڑی جاتی۔’’ پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات کی جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘‘اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(( اللھم انی اعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وبک منک لا احصی ثناء علیک۔)) [2] [2] مسلم 352؍1، کتاب الصلاۃ ما یقول فی الرکوع والسجود۔’’اے اللہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضامندی کے وسیلہ سے پناہ پکڑتا ہوں ؛ اور تیری سزا سے تیری معافی کے وسیلہ سے ؛ اور تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں ؛ میں تیری حمد شمار نہیں کرسکتا۔‘‘ اس کے متعلق بھی فرماتے ہیں :’’ مخلوق سے تو پناہ نہیں لی جاتی ۔جبکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم رضا اور معافات سے پناہ مانگی ہے۔ ائمہ اہل سنت کے ہاں یہ بھی انہی صفات میں سے ہیں جورب تعالیٰ کے ساتھ قائم ہیں ؛ جیسے اس کے کلمات اس کے ساتھ قائم ہیں ؛ یہ ان مخلوقات میں سے نہیں ہیں جو اس سے الگ اور جدا ہیں۔جو یہ کہتا ہے: متکلم سے کلام جدا ہوتا ہے ۔ پس مرید؛محب ؛ مبغض ؛ راضی ؛ ناراض وہ ہوتا ہے جس کا ارادہ جس کی محبت، جس کا بغض ؛جس کی رضا، جس کی ناراضگی اس سے جدا ہوتی ہیں ؛ وہ کسی بھی حال میں اس کے ساتھ قائم نہیں ہوتی۔ یہ تو ایک غیر معقول بات کہی ہے۔، انبیاء و مرسلین علیہم السلام نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا۔ بلکہ ہر سننے والا جس تک انبیاء نے اللہ کی دعوت پہنچائی ہو؛ وہ ضرورت کے تحت جانتا تھا کہ رسولوں کی مراد اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے؛ جو اس سے جدا نہیں ۔اس طرح محبت ورضا اور ارادہ وغیرہ بھی اس سے منفصل نہیں ؛ بلکہ اس کی ذاتی صفات ہیں ۔جھمیہ اور معتزلہ کہتے ہیں : متکلم، فعل کلام سے بنتا ہے ؛اللہ تعالیٰ نے جب اپنے غیر میں اسے کلام پیدا کر دیا تو وہ متکلم ٹھہرا۔٭ ان سے کہا جائے گا: اس مسئلہ میں اختلاف کرنے والے متأخرین کے ہاں تین اقوال ہیں :(۱) متکلم وہ ہے جس نے فعل کلام کیاہو؛ چاہے وہ کلام اس سے منفصل ہو (یہ اس کے قائل ہیں ) ۔(۲) متکلم وہ ہے جس کے ساتھ کلام قائم ہو؛ اگرچہ وہ کلام اس کے فعل، مشیت اور قدرت سے نہ بھی ہو۔یہ کلابیہ سالمیہ اور ان کے ہم خیالوں کا موقف ہے۔(۳) متکلم وہ ہے جو اپنے فعل مشیت اور قدرت سے کلام کرے ؛اور وہ کلام اس کے ساتھ قائم ہو۔ یہ قول اکثر اھل الحدیث اور کئی شیعہ، مرحبۂ اور کرامیہ اوردیگر گروہوں کا ہے۔ یہ حضرات کہتے ہیں : کلام موصوف سے منفصل فعل کی صفت ہے؛ نہ کہ ذات کی صفت۔ دوسری قسم والے کہتے ہیں : یہ موصوف کی ذاتی لازمی صفت ہے؛ مشیت اور قدرت سے متعلق نہیں ۔کچھ لوگ کہتے ہیں :’’ یہ ذات اور فعل کی صفت ہے ؛جو ذات کے ساتھ قائم اور مشیت و قدرت سے متعلق ہے۔‘‘ جب بات یہ ہے تو ان کے بقول یہ فعل کی صفت ہے؛ اس میں ایک جماعت کااختلاف ہے۔ اگر ان کے مابین نزاع نہ ہو توان سے کہا جائے گا :’’فرض کریں یہ فعل کی صفت ہے جو قائل و فاعل سے منفصل یا اس کے ساتھ قائم ہے۔ رہی پہلی بات تو وہ آپ کا فاسد قول ہے؛ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صفت موصوف کے اور قول قائل کے بغیر قائم ہو سکے۔کسی کہنے والے کا یہ کہنا کہ: صفات صفت ذات اور صفت فعل میں منقسم ہیں ۔اور صفت فعل کی تفسیر یہ بیان کی جائے کہ یہ ایسی صفت ہے جو رب سے جدا ہے؛یہ متناقض کلام ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت کیسے ہو سکتی ہے جو کسی بھی حالت میں اس کے ساتھ قائم نہ ہو؛ بلکہ وہ اس سے جدا مخلوق ہے۔اگرچہ اشعریہ نے معتزلہ کی اتباع میں ایسا کہا ہے؛ لیکن یہ بذات خود غلط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ میں صفات کا اثبات کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس سے جدا ماننا دو مخالف ضدوں کو جمع کرناہے۔ بلکہ ان لوگوں کے اس عقیدہ کی حقیقت یہ ہے کہ فعل رب کی صفت نہیں کیونکہ فعل مخلوق ہے؛ اور مخلوق، خالق کی صفت نہیں ہوسکتی۔ اگر فعل ایسا ہوا جس کا مفعول اس کی صفت ہو؛ تو سب مخلوقات اللہ تعالیٰ کی صفت ٹھہریں گی۔ اس کا تو کوئی بھی عاقل قائل نہیں چہ جائیکہ کوئی مسلمان ایسی بات کہے۔


صفحہ 2 از 2