عقیدہء اھل سنت کی تفصیل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقیدہء اھل سنت کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

[عقیدہء اھل سنت کی تفصیل]من جملہ اہل سنت والجماعت اھل الحدیث اور ان کی طرف منسوب کیے جانے والے (اھل التفسیر، اھل حدیث، اھل فقہ اھل تصوف، مثلاً ائمہ اربعہ اور ان کے متبعین رحمہم اللہ ) اور وہ جماعتیں جن کی نسبت اہل سنت و الجماعت کی طرف ہے ؛ جیسے : کلابیہ، کرامیہ، اشعریہ اور سالمیہ کی طرف ہے؛ سب کہتے ہیں : ’’ کلام اللہ مخلوق نہیں ۔ اورقرآن اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے۔ یہ عقیدہ سلف اور ائمہ اھل بیت وغیرہ سے مشہور اور مستفیض ہے۔[2] [2] امام رضا سے قرآن کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’بے شک وہ اﷲ کی کلام ہے اور مخلوق نہیں ہے۔‘‘ تفسیر العیاشی : ۱؍ ۱۹، حدیث نمبر: ۱۷(فی فضل القرآن )۔لیکن ائمہ اہل بیت کے اس عقیدہ سے انحراف کرتے ہوئے زیادہ دیر نہیں لگی ۔ اور بعد والے شیعہ معتزلہ کی راہ پر چل پڑے۔ چنانچہ شیعہ کے علامہ مجلسی نے اپنی کتاب ’’کتاب القرآن ‘‘ میں ایک باب کا عنوان یہ رکھاہے:’’باب أن القرآن مخلوق۔‘‘ ’’اس بات کا بیان کہ قرآن مخلوق ہے۔ ‘‘بحارالأنوار : ۸۹۸ ؍۱۱۷۔ اس میں گیارہ روایات لکھی ہیں ۔شیعہ کے آیت اﷲ محسن امین اس بات کی تاکید بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:’’ شیعہ اور معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔‘‘(أعیان الشیعہ: ۱؍۴۶۱)یہ صحابہ تابعین اور تبع تابعین سے متواتر منقول ہے اہل الحدیث اور اہل السنۃ کی اس مسئلہ پر بیسیوں تصانیف ہیں جن میں وہ ثابت شدہ سندوں کے ساتھ سلف کے اقوال نقل کرتے ہیں ۔ ان کتب میں سے ’الرد علی الجھمیہ از محمد بن عبداللہ الجعفی[3] [3] ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ بن حسین جعفی المعروف ھروانی یا ابن ھروانی مذھب حنفیہ کے بڑے ائمہ میں سے ہیں ۔ 305تا 402ف (العبراز ذھبی 8؍3 اللبابے بن انتیر 289؍3، تاریخ بغداد 472۔73؍5، شذرات الذھب 165؍3، الجواھر المضیہ فی طبقات الحنفیہ از محمد القرشی 65؍2، اس میں الردعلی الھمیہ کا ذکر نہیں ۔ درء سے ملائیں 108؍7۔اور عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ اس طرح نقض عثمان بن سعید رحمہ اللہ علی بشر المریسیّ والرد علی الجھمیہ از عبدالرحمن بن ابوحاتم۔ السنہ از عبداللہ بن امام احمد [1] [1] ابو عبدالرحمن عبداللہ بن احمد بن حنبل 290۔213، (طبقات حنابلہ 180؍1، تذکرۃ 665؍2 تاریخ الادب العربی از بروکلماز ، 313؍3۔   اور ابوبکر اثرم[2] [2] ابوبکر احمد بن محمد ھانی طائی اسکافی اترم، متوفی 261 تقریباً، (طبقات حنابلہ 66؍1، تذکرہ 570؍2۔   اور خلال کی۔ خلق افعال العباد از امام بخاری رحمہ اللہ ؛ التوحید، ابوبکر بن خزیمہ [3] [3] ابوبکر محمد بن اسحاق بن حزیمہ النیساپوری 223 تا 311، (تذکرہ 720؍2، طبقات شافعیہ 109؍3، الأعلام 235؍6۔ ؛کتاب السنہ لابی القاسم الطبرانی ؛ اور از ابو الشیخ الاصفہانی ؛ اور از عبداللہ بن مندہ ؛ اور اسماء و صفات از ابوبکرالبیہقی رحمہم اللہ ۔اور ابو ذر الہروی کی : السنہ؛ اور الابانہ، ابن بطہ، شرح اصول السنہ ابوالقاسم لال کائی (۳۳) السنہ ابوحفص بن شاھین ، اصول السنۃ ابوعمر طلمنکی۔لیکن بعد میں آنے والے متاخرین نے آخری سات اقوال میں بحث کی ہے۔ پہلے دو اقوال میں سے پہلا قول دھریہ فلاسفہ کا ہے جو عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں ۔ صائبہ اور فلاسفہ وغیرہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔دوسرا قول معتزلہ سے جھمیہ اور ان کے ہم خیال نجاریہ؛ ضراریہ کاہے۔جبکہ شیعہ کا اس مسئلہ میں اختلاف گزر چکا ہے۔ ان کے قدماء قرآن کو غیر مخلوق کہتے تھے جیسے اھل سنت اور اہل الحدیث کا عقیدہ ہے۔ یہی قول اہل بیت مثلاً حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ، ابوجعفر الباقر، جعفر بن محمد الصادق رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔اسی وجہ سے امامیہ کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ قرآن مخلوق ہے۔ جب انہیں اہل بیت سے اس عقیدہ کی نفی پہنچی تو انہوں نے اسے محدث مجہول قرا ر دیا۔ اس سے ان کی مراد مخلوق ہوناہے۔ ان کے خیال میں اھل بیت سے نفی غیر مخلوق ہونے کی ہے؛ جوکہ بہت بڑا بہتان اور جھوٹ ہے۔ بلاشبہ مسلمانوں کے ہاں بالاتفاق اس معنی کی نفی ہے۔ کچھ اسے مخلوق کہتے ہیں اور کچھ غیر مخلوق۔ اہل قبلہ میں جھگڑا اس بات کا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق ہے؛ یا اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ؛جو اس نے خود کلام کیا ہے؛ اورجو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اہل بیت سے اسی بارے سوال کیا گیا۔ ورنہ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا ایسا مسئلہ ہے جس کے بطلان میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ۔امامیہ فرقہ کے لوگ اپنے عام اصولوں میں اہل بیت کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ائمہ اھل بیت مین حضرت علی بن حسین، ابو جعفر باقر، ان کے بیٹے جعفر بن محمد الصادق، جیسا کہ کوئی دوسرا نہیں ؛ اور ان میں سے کوئی بھی رؤیت باری تعالیٰ کا منکر نہیں تھا اور نہ ہی کوئی قرآن کو مخلوق کہتا تھا؛نہ ہی کوئی تقدیر کا انکار کرتاتھا۔اور نہ ہی خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منصوص مانتا تھا۔نہ کوئی بارہ اماموں کی معصومیت کا قائل تھا؛اور نہ ہی کوئی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دیتا تھا۔ ان ائمہ سے منقولات متواتر طور پر ثابت ومعروف اور موجود ہیں ۔ جن پر اہل سنت اعتماد کرتے ہیں ۔رافضی علماء و مشائخ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ توحید، صفات اور تقدیر والے ہمارے عقائد نہ تو کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں اور نہ ہی ائمہ اھل بیت سے منقول ہیں ۔ بس ان کے خیال میں عقل ان پر دلالت کرتی ہے؛ جیسے کہ معتزلہ کہتے ہیں ۔حقیقت یہی ہے کہ عدل اور توحید کے عقیدہ میں معتزلہ ان کے اکابر و ائمہ ہیں ۔یہ سمجھتے ہیں ہم نے شرائع دینیہ ائمہ سے حاصل کی ہیں ۔ ان کی شرائع سے مراد غالباً اھل سنت کی موافقت ہوتی ہے (یا بعض اہل سنت کی موافقت مراد ہوتی ہے)۔ ان کے تفردات بدترین ہیں جن پر کسی نے بھی ان کی موافقت نہیں کی۔ ان کے مذاھب اربعہ سے تفردات ہیں ۔ جو حقیقت میں غیر اربعہ کے قول ہیں ۔ سلف اھل ظاہر معتزلی فقہاء وغیرہ کے۔ یہ اور اس طرح دیگر اجتہادی مسائل ان میں تفرد آسان بات ہے؛ بخلاف ایسے شذوذ کے جس کی کوئی دلیل کتاب و سنت سے نہیں ملتی؛ اور نہی ہی ان سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہے۔ علماء اسلالم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ حق ان چار ائمہ:جیسے امام ابو حنیفہ ؛ امام مالک ؛ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تک ہی محصور ہے ؛جیسا کہ شیعہ اہل سنت پر جھوٹاالزم لگاتے ہوئے یہ قول منسوب کرتیہیں کہ : اہل سنت کہتے ہیں کہ: حق ان چار میں محصور ہے۔بلکہ اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ جس مسئلہ میں مسلمانوں کا اختلاف ہو؛ اسے اللہ تعالیٰ اور رسول کی طرف لوٹانا واجب ہے۔ بسا اوقات اقوال صحابہ اور آثار تابعین رحمہم اللہ میں کوئی ایسا قول ہوتا ہے جو ائمہ اربعہ کے اقوال کے خلاف ہوتا ہے۔ جبکہ ان ائمہ اربعہ کا قول ثوری ، اوزاعی، لیت بن سعد، اسحاق بن راھویہ وغیرہ کے قول سے زیادہ درست ہوتا ہے۔شیعہ جب ان بعض اقوال میں سے کسی ایک راجح قول کے موافق بات کرتے ہیں ؛ تو اس مسئلہ میں ان کا قول راجح ہو جاتا ہے۔ان کا کوئی ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں جس میں انہوں نے تمام اہل سنت خلفائے ثلاثہ کی خلافت کے قائلین کی مخالفت کی ہو؛ اور اس میں وہ حق پر ہوں ؛ بلکہ ان کا قول فاسد ٹھہرتا ہے۔ یہی حال معتزلہ اور دیگر تمام گروہوں جیسے اشاعرہ اورکرامیہ ؛ سالمیہ وغیرہ کا بھی ہے۔ان کا کوئی ایک بھی انفرادی قول ایسا نہیں ہے جس میں یہ امت کے برعکس ہوں ؛مگر وہ قول فاسد ہوتا ہے۔ حق قول وہی ہے جو سلف سے مأثور ہے؛ اور اس کو قبول کرنے میں ہم دیگر تمام گروہوں پر سبقت رکھتے ہیں ۔جب یہ مذاھب معلوم ہو گئے؛ تو پوچھا جائے گاکہ:’’ آپ کے قول ’’ان امرہ و نھیہ واخبارہ حادث لاستحالۃ امر المعدوم ونھیہ واخبارہ‘‘ میں آپ کی مراد حادث فی ذاتہ ہے یا اس سے منفصل ہے۔ پہلا قول شیعہ متقدمین، جھمیہ، مرجئہ، کرامیہ اور بہت سے اھل الحدیث اور دیگر حضرات کا ہے۔٭ پھر جب یہ کہا گیا کہ :’’ حادث ہے‘‘ تو کیا وہ ’’حادث نوع ‘‘ہے؛تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ پہلے کلام نہیں کرتا تھا؛ بعد میں کلام کرنے لگ گیا۔‘‘ یاوہ ’’حادث الافراد ‘‘ ہے؛یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے متکلم ہے جب چاہتا ہے بولتا ہے۔اوروہ کلام جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا گیا؛اگروہ حادث ہے تو اس کے کلام کی قسم قدیم ہے؛ جس سے وہ ہمیشہ موصوف رہا ہے۔ یہ تینوں اقسام آپ کے قول کے تحت آتی ہیں ۔ اور آپ جان چکے ہیں کہ اگر پہلی قسم مراد لیں تو یہ متاخرین شیعہ کا ہے جنہوں نے تشیع اور اعتزال کو یکجا کر دیا ہے ۔جن کا عقیدہ ہے کہ :’’کلام اللہ کی مخلوق ہے؛ جسے اس نے اپنی ذات سے منفصل پیدا کیاہے۔ امامیہ اگرچہ محدث کے قائل ہیں مگر وہ اسے مخلوق نہیں مانتے؛ محدث سے ان کی مراد وہی مخلوق ہے جو ان[ معتزلہ ] کے ہاں لفظ مخلوق سے مراد ہوتی ہے؛ ان کے مابین نزاع لفظی ہے۔

صفحہ 1 از 2