سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

10۔ ابو صالح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص امام کے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 89، صحیح لغیرہ۔)

11۔  محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ ضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَ لَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 100۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

’’یا اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمائے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو کچھ تو روک دے وہ کوئی دے نہیں سکتا، اور دولت والے کو تیرے بالمقابل دولت کوئی کام نہیں دے سکتی۔‘‘

12۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس بندہ مؤمن کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچے گی اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 107۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

13۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، اس کے مخالفین اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور وہ لوگوں پر حاوی ہوں گے۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 116۔ اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔)

14۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنی نماز میں کچھ بھول جائے وہ بیٹھنے کی حالت میں دو سجدے کرے۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 118)

15۔ سیدنا امیر معاویہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ پر عمداً جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘

 (مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 118)

16۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت سے ایک جماعت اللہ کے حکم سے ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے والا یا ان کی مخالفت کرنے والا ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے گا اور وہ اس وقت لوگوں پر حاوی ہوں گے۔‘‘ یہ سن کر مالک بن یمار سکسکی کھڑا ہو کر کہنے لگا: امیر المؤمنین! میں نے معاذ بن جبل سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ ان سے مراد اہل شام ہیں۔ یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے کہا: مالک کا خیال ہے کہ اس نے معاذ بن جبل سے سنا کہ اس سے مراد اہل شام ہیں۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 129)

17۔ ایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ اس دوران آپ نے فرمایا: معاویہ! اگر تمہیں حکومت ملے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل و انصاف سے کام لینا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: اس کے بعد میں ہمیشہ یہ خدشہ محسوس کرتا رہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے مجھے آزمائش میں ڈالا جائے گا، یہاں تک کہ ایسا ہو کر ہی رہا۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 130۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔)

18۔ ابو عامر عبداللہ بن لحی سے مروی ہے کہ ہم نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ حج کیا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہود و نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے جبکہ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، یہ تمام فرقے جہنمی ہوں گے بجز ایک کے، اور وہ جماعت ہے، میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن میں نفسانی خواہشات اس طرح سرایت کر جائیں گی جس طرح سگ سگ گزیدہ آدمی میں سرایت کر جاتا ہے، وہ اس کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ کو متاثر کر جاتا ہے، اللہ کی قسم! اے گروہِ عرب! اگر تم اپنے نبی کی تعلیمات و ہدایات کو نہیں اپناؤ گے تو دوسرے بطریق اولیٰ انہیں اپنالیں گے۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 135۔ اس کی سند حسن ہے۔)


صفحہ 2 از 2